کورونا اور میڈیا

ڈاکٹر نوید اقبال انصاری  ہفتہ 16 مئ 2020
میڈیا پر چوبیس گھنٹے کورونا کی کوریج کے باعث عوام میں خوف زیادہ پھیل رہا ہے۔ (فوٹو: فائل)

میڈیا پر چوبیس گھنٹے کورونا کی کوریج کے باعث عوام میں خوف زیادہ پھیل رہا ہے۔ (فوٹو: فائل)

ہم میں سے بہت ہی کم لوگوں کو شاید یہ احساس ہوا ہو کہ کورونا کے نام پر میڈیا نے لمحے بھر میں ہماری مذہبی اقدار و نظریات ہی نہیں بلکہ سوشل ویلیوز (سماجی اقدار) کو بھی جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے۔ کل تک راقم الحروف نے بحیثیت میڈیا کے ایک استاد اور طالب علم، کارل مارکس، نوم چومسکی وغیرہ کے وہ نظریات پڑھے تھے جن میں یہ بتایا گیا تھا کہ میڈیا نے کس طرح مزدوروں اور عام لوگوں کے مفادات کو نقصان پہنچایا اور یہ کہ پورا کا پورا میڈیا بڑی طاقتوں کے مفادات کے حصول کےلیے ہی کام کرتا ہے۔ مگر کورونا وائرس سے متعلق میڈیا کی اب تک کی کارکردگی دیکھ کر اندازہ ہوا کہ بات اس سے کہیں اور آگے تک جا پہنچی ہے۔ اب اس میڈیا کے ذریعے پلک جھپکتے ہی مذہبی اقدار اور سوشل ویلیوز تک تبدیل کرکے رکھ دی گئی ہیں۔

کل تک مذہبی طور پر یہ بات ہمارے ذہنوں میں تھی کہ موت اپنے وقت سے نہ ایک لمحہ پہلے آسکتی ہے نہ بعد میں، اور جس طرح موت لکھی ہے ویسے ہی آئے گی۔ کراچی کے ایک مشہور ایس ایچ او پولیس افسر بہادر علی کو کسی نے حفاظتی اقدامات مزید بہتر کرنے کا مشورہ دیا تو اس نے جواب دیا کہ جو رات قبر میں لکھی ہے وہ قبر میں ہی گزرے گی۔ ہماری فلموں میں ہیرو کسی کی عزت بچانے کےلیے اپنی زندگی خطرے میں ڈال دیتا تھا، اکیلا ہی درجن بھر غنڈوں سے لڑ پڑتا تھا کہ موت سے کیا گھبرانا۔ ہماری اکثر فلموں کا سبق بھی کم و بیش اسی مرکزی خیال پر ہوتا تھا۔ کل تک کسی سڑک کے کنارے کوئی ایکسیڈنٹ ہوجائے یا چلتے چلتے کوئی بیمار گر پڑے تو لوگ مدد کےلیے ایک دم دوڑ پڑتے تھے۔ کراچی میں ایک فائر مین جب کبھی کسی حادثے کی جگہ پہنچتا تو سب سے پہلے لوگوں کی جان بچانے کےلیے آگے گھس جاتا، اپنی جان کی پرواہ نہ کرتا۔ ایک دن کسی عمارت میں لگی ہوئی آگ میں بے خطر کود پڑا جب کہ نظر آرہا تھا کہ عمارت کی چھت کسی وقت بھی زمین بوس ہوسکتی ہے مگر وہ عمارت کے اندر جاکر لوگوں کی زندگی بچانے کی کوشش میں لگ گیا اور اندر ہی زندگی کی بازی ہار گیا۔

آج یہ اقدار کہاں گئیں؟ ایک ڈاکٹر جو کورونا کے مریضوں کا علاج کرتا رہا، جب اس کو خود اسپتال اور ایمبولینس کی ضرورت پڑی تو افسوس نہ اسے اسپتال ملا نہ ہی اس ڈاکٹر کو اسٹریچر پر ڈالنے کےلیے ایمبولینس کے عملے سمیت کوئی محلے دار ہی ملا۔ غم سے چور اس ڈاکٹر کی بیوی ہی اپنے شوہر کو اسٹریچر پر ڈالتی ہے۔ جب کوئی اسپتال لینے کو تیار نہیں ہوتا اور وہ مریض ڈاکٹر تنگ آکر خود کہتا ہے کہ واپس گھر ہی لے چلو تو پھر بھی اسٹریچر سے اتارنے کےلیے کوئی مدد کو نہیں آتا۔ بیوی ہی اپنے ڈاکٹر شوہر کو جیسے تیسے اتارتی ہے، گر جاتی ہے، بے ہوش بھی ہوجاتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ زندگی اور موت تو اللہ کے ہاتھ ہے۔ ہمارا عقیدہ بھی یہی ہے کہ جس طرح اور جب موت لکھی ہے اس کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ تو پھر اس معاشرے کو یکدم بے حس کس نے بنادیا؟ ڈاکٹر نے کئی زندگیاں بچانے کےلیے خود کی زندگی خطرے میں ڈال دی۔ اس کے ہی اسپتال کے ساتھی ڈاکٹر اس کڑے وقت میں اس کے ساتھ کھڑے کیوں نہ ہوئے؟ ایمبولینس کے کارکن، محلے دار آخر کوئی تو آتا اس خاتون کی مدد کو، جو اکیلی ہی اپنے شوہر کو اسٹریچر پر سوار کرنے اور اتارنے میں ہلکان ہورہی تھی۔

یہ کوئی ایک واقعہ نہیں۔ بیرون ملک بھی تدفین کے مسئلے اس حد تک بڑھ گئے کہ کارکن تو کیا، قریبی رشتے دار بھی خوف کے مارے تدفین و غسل کےلیے قریب نہیں آرہے ہیں۔ آخر کو مذہبی اقدار، نظریات، سماجی اقدار اور انسانیت سب کہاں دفن ہوگئیں؟ یہ انسانوں کو اس سطح پر کیسے لے آیا گیا؟

اس کا سیدھا سا جواب ہے میڈیا۔ میڈیا سے جو کچھ چوبیس گھنٹے پیش کیا جارہا ہے وہ یکطرفہ ٹریفک ہے، سوائے کسی ایک آدھ چینل کے، کسی ایک آدھ پروگرام کے۔ پاکستانی وزیراعظم نے بھی صاف کہا کہ میڈیا کے دباؤ کے باعث انھیں سخت فیصلے کرنے پڑے۔ میڈیا پر ایک ہی سوچ اور نقطہ نظر کے لوگ چھائے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایک ہی مثال دی جاتی رہی ہے کہ چین نے لاک ڈاؤن کیا، لہٰذا ہم بھی کریں۔ چند ایک صحافی تو اسی بیانیے کو میڈیا پر صبح و شام دھڑلے سے پیش کر رہے ہیں۔ پھر ڈاکٹروں کی پریس کانفرنسیں، ان کے خیالات کی بھرمار اور سیاسی لوگوں اور حکمرانوں کے مفروضوں کی بھرمار۔ جن حکومتی ذمے داروں کا صحت کے شعبے سے دور دور کا واسطہ بھی نہیں، وہ بھی مفروضے پیش کرنے میں آگے آگے ہیں کہ بس اب اس ملک میں اموات کا طوفان آنے والا ہے۔ میڈیا ان سب کو خوب کوریج دے رہا ہے۔ سندھ کے وزیراعلیٰ کی پریس کانفرنس پر برینکنگ نیوز دھڑلے سے چل رہی ہیں کہ اتنی اموات ہوگئیں اور اتنے کیسز ہوگئے۔ میڈیا کے صرف تین چینلز نے وزیراعلیٰ سندھ کے دعوؤں کی تحقیق کی تو پتہ چلا کہ اموات کی جن تعداد پر وزیراعلیٰ سندھ شور کر رہے تھے، ان میں صرف ایک خاتون کی موت وائرس سے تصدیق شدہ تھی۔ اہم سوال ہے کہ میڈیا نے ان چار ماہ میں صرف ایک دن ہی کیوں تحقیق کی؟

تفتیشی جرنلزم صحافت کا باقاعدہ ایک اہم حصہ ہے۔ آخر میڈیا اتنے اہم ایشوز پر اپنے رپورٹرز سے تفتیشی رپورٹنگ کیوں نہیں کر وا رہا ہے؟ کم ازکم وزیراعلیٰ کا اتنا بڑا جھوٹ پکڑے جانے کے بعد تو میڈیا کو آئندہ خود سے تحقیق کرکے کیسز اور اموات کی تعداد دینی چاہیے تھی، مگر افسوس کہ تقریباً پورے کا پورا میڈیا (ماسوائے چند ایک کے) پریس ریلیز اور پریس کانفرنسوں کو بریکنگ نیوز بنا بنا کر پیش کر رہا ہے۔ اور جن بیانات، مفروضوں اور پیش گوئیوں کو پروجیکشن دے کر پیش کررہا ہے ان کی حقیقت کا اندازہ خود حکمران جماعت کے رہنما کے سات مئی کے ایک ٹی وی پروگرام میں دیے گئے اس بیان سے بخوبی ہوتا ہے، جس میں انھوں نے کہا کہ اب تک اندازوں سے لگائے گئے تمام اعدادوشمار سے نصف سے بھی کم کیسز اور اموات ہوئی ہیں۔

میڈیا خود بھی خوف و ہراس پھیلانے میں لگا ہوا ہے۔ ہر دوسرے چینل پر خبریں جاری ہیں کہ عوام بلاوجہ سڑکوں پر گھوم رہے ہیں، سنجیدہ نہیں ہیں۔ ایک بڑے مقامی اخبار کی 4 مئی کی سرخی تھی کہ لوگوں نے لاک ڈاؤن کو مذاق بنایا ہوا ہے اور سات مئی کی سرخی تھی کہ عوام کی لاپرواہی کے باعث کورونا سے ہلاکتوں اور کیسز میں اضافہ ہوگیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان خبروں کےلیے کوئی سروے کیا گیا؟ ’پلس سروے‘کی ایک رپورٹ جو خود ایک بڑے چینل نے سات مئی کو دی، اس کے مطابق کراچی کے شہری کورونا کی وبا کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اگر یہ سروے درست ہے تو یہ تمام میڈیا اس کے برعکس بار بار خبریں کیوں چلارہا ہے؟ چینلز کے ٹاک شوز دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سب روز اول سے ایک ہی بات کا ڈھول پیٹ رہے ہیں، لاک ڈاؤن نہ کرنے سے جانی نقصان بڑھے گا، اسی طرح مساجد بھی بند کردی جائیں، سماجی فاصلہ رکھا جائے۔

ابتدائی دو ماہ تک میڈیا سے مسلسل اس بات کی حمایت کی جاتی رہی کہ لاک ڈاؤن کیا جائے اور ایسے ہی مطالبہ کرنے والے لوگوں کو بھرپور ترجمانی کےلیے پیش کیا۔ دوسرا نقطہ نظر بالکل نظر انداز کیا جاتا رہا، یہاں تک کہ مساجد اور باجماعت نماز بند کروانے کےلیے میڈیا پوری قوت سے اظہار کررہا تھا، حالانکہ یہ مذہبی معاملہ تھا اور اس کا فیصلہ کرنا علمائے دین کا کام تھا۔ اسی دباؤ کا نتیجہ تھا کہ علمائے دین نے بالکل انتہا پر جاکر فیصلے دیے اور دوران نماز ’سماجی فاصلے‘کو بھی قائم کیا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ حکمرانوں کی جانب سے ’ایسینشل سروس‘کے نام پر کاروبار کسی حد تک تو کھولنے کی میڈیا نے بھی مخالفت نہیں کی، مگر مساجد کےلیے اس کو تسلیم نہ کیا۔ حقیقت میں تو یہ ہوا کہ جن مفروضوں کی بنیاد پر یہ سب کچھ کرایا گیا تھا، وہ پچاس فیصد بھی درست ثابت نہ ہوئے۔ یعنی ہلاکتوں اور کیسز کی جو تعداد میڈیا سے بار بار بتاکر ڈرایا جارہا تھا، اس کی آدھی تعداد بھی واقع نہ ہوئی۔

ان حالات میں مذہب انسان کی ہمت بڑھاتا ہے مگر ہمارے میڈیا نے مذہب کے خلاف شدت کے ساتھ محاذ بنالیا۔ تقریباً ہر میڈیا سے ایک ہی آواز اٹھ رہی تھی کہ مساجد بند کریں، ورنہ حالات خراب ہوجائیں گے کیونکہ مساجد میں ’سماجی دوری‘پر عمل نہیں ہوسکتا۔ جب کہ میڈیا پر خبروں میں چلنے والی ویڈیوز سے صاف نظر آتا رہا کہ حکمرانوں، سیاست دانوں کی سرگرمیاں ہوں، راشن کی تقسیم ہو یا خود ’سماجی دوری‘ کا درس دینے والے ڈاکٹروں کی کانفرنسیں ہوں، ان سب میں کسی قسم کا سماجی فاصلہ نہ تھا۔ میڈیا نے کبھی بھی اس پر آواز بلند نہیں کی، بلکہ خود میڈیا کے ٹاک شوز، مارننگ شوز اور مزاحیہ شوز میں ’سماجی دوری‘ کی کوئی جھلک تک نظر نہیں آئی۔ حیرت انگیز طور پر یہ سارا میڈیا اپنا ’کاروبار‘ جاری رکھے ہوئے تھا جبکہ دوسری جانب ملک بھر میں موچی تک کے ٹھیے بند کرا دیے گئے۔

ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ عوام کے حقوق بھی بری طرح متاثر ہوئے۔ ایسے واقعات کی بے شمار ویڈیوز سوشل میڈیا پر تواتر سے آتی رہی ہیں۔ کسی واقعے میں ایک تنہا بچی کو والدین سے چھین کر لے جایا جارہا ہے۔ کہیں دو معصوم بہن بھائی سہمے ہوئے ایمبولینس میں لے جائے جارہے ہیں۔ کہیں دو معصوم بچوں کو اسپتال ہی کے اندر اس کی ماں سے زبردستی چھین لیا گیا اور بچوں کا باپ رو رو کر کہہ رہا ہے کہ یہ بچے تو ماں کے ساتھ ہی تھے، جب بچوں کا ٹیسٹ پوزیٹیو آگیا تو ماں کا نیگیٹو کیسے آیا؟ ماں اور بچوں کو تو ساتھ رہنا چاہیے تھا۔ ایک اور ویڈیو میں ایک جواں مرد زمین پر گرا پڑا چلا رہا ہے اور چند لوگ دور سے رسیوں کے ذریعے گرفت میں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی طرح میت کی تدفین پر بھی رشتے داروں اور عزیزوں کو قریب نہیں آنے دیا گیا کہ وائرس لگ جائے گا۔ سندھ میں ایک بزرگ خاتوں کے جسد خاکی کو دور سے گڑھے میں گرا کر مٹی ڈال دی گئی۔

پولیس کے اجازت ناموں کے بغیر تدفین نہیں ہونے دی جارہی تھی اور پولیس ڈیتھ سرٹیفیکٹ طلب کررہی تھی، حالانکہ یہ پولیس کا کام نہیں تھا۔ یہ معاملہ اس قدر بگڑ گیا کہ خود پولیس کے اعلیٰ افسران کو نوٹیفکیشن کے ذریعے پولیس کو روکنا پڑا۔ اسی طرح جب لوگوں میں کورونا کے نام پر زبردستی پکڑ کر لے جانے کا خوف بہت زیادہ بڑھ گیا تو حکومت سندھ نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے کہا کہ آئندہ کسی کا ٹیسٹ پوزیٹیو آنے پر مریض سے زبردستی نہیں کی جائے، اگر وہ خود سے الگ کہیں رہنا چاہے تو اسے ایسا کرنے دیا جائے۔

عام لوگوں کے علاج کی او پی ڈی ختم کردی گئیں۔ بہت سے اسپتالوں میں کورونا سے متاثرہ افراد کے علاج پر پابندی عائد کردی گئی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ڈاکٹر عاصم کے اسپتال نے 28 اپریل کو ایک زیر علاج مریضہ کے ٹیسٹ مثبت آنے پر اسپتال سے خارج کردیا کہ ان کی پالیسی میں کورونا کے مریض کا علاج منع ہے۔ یہاں بڑا اہم سوال یہ ہے کہ شہریوں کے ان تمام حقوق کی خلاف ورزی پر بھی میڈیا کی جانب سے کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ ایک دو چینلز میں اس پر کچھ بات تو ہوئی مگر عمومی طور پر پورا میڈیا خاموش ہی نظر آیا۔

کورنا کے مسئلے پر پوری دنیا میں ایک خوف کا عالم چھایا ہوا نظر آیا، جس میں بڑا ہاتھ میڈیا ہی کا تھا۔ حقائق کی چھان بین یا تفتیشی خبر نگاری کے بجائے ادھر ادھر عوام کا دھیان بھٹکایا جاتا رہا۔ مثلاً پاکستان میں اس وائرس کے پھیلاؤ کو مذہب اور فرقہ واریت کے حوالے سے جوڑنے کی کوشش کی گئی تو بھارت میں مسلمانوں خاص کر تبلیغی جماعت والوں کو ذمے دار ٹھہرانے کی کوشش کی گئی۔ ظاہر ہے کہ میڈیا کا یہ کردار کسی طور درست نہیں تھا۔ ایک جانب (نیویارک ٹائمز کی 13 اپریل کی خبر کے مطابق) امریکی صدر نے ایف ڈی اے پر دباؤ ڈال کر ایک ایسی دوا کو علاج کےلیے منظور کرالیا جو ابھی تجرباتی مراحل میں ہے اور جس کے بارے میں وہاں کے ڈاکٹرز خود مطمئن نہیں ہیں۔ دوسری جانب (نیویارک ٹائمز کی 7 مئی کی خبر کے مطابق) جاپانی وزیراعظم نے اپنے ایک دوست کی کمپنی کی ایک ایسی دوا کو متعارف کرادیا جس کے بارے میں خود ان کا کہنا ہے کہ اس کے وہی منفی اثرات ہیں جو امریکا کے صدر کی جانب سے پیش کی گئی دوا کے ہیں۔ یہ میڈیا کا پھیلایا ہوا خوف ہی ہے کہ جاپان کی اس دوا کی مانگ دنیا کے 80 ممالک نے ابھی سے کردی ہے۔ گویا جو دوا ابھی ٹرائل کے مراحل میں ہے اور جس کے نقصانات بھی ممکنہ ہیں، خوف کے مارے اس کی مانگ کی جارہی ہے۔

یوں دیکھا جائے تو اس وقت میڈیا بڑے سرمایہ داروں، قوتوں کے مفاد کا کام کررہا ہے، جیسا کہ کارل مارکس اور نوم چومسکی جیسے دانشور میڈیا کے بارے میں خیالات کا اظہار کرچکے ہیں۔ مگر اس مرتبہ اضافہ یہ ہے کہ لوگوں میں میڈیا کے ذریعے وہ خوف بٹھا دیا گیا ہے کہ وہ اپنے مذہب کی تعلیمات، اقدار، سماجی اقدار اور بنیادی انسانی حقوق تک سب بھول چکے ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔