یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا

واصب امداد  منگل 19 مئ 2020
لوگ یہ کہتے ہیں خان جو کرتا ہے سوچ سمجھ کر کرتا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

لوگ یہ کہتے ہیں خان جو کرتا ہے سوچ سمجھ کر کرتا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

ملکی حالیہ سیاسی حالات کی سنگینی کا اندازہ لگانا ہو تو اسی بات سے لگا لیجئے کہ عمران خان کے ذہن میں ایک بار پھر اس سوال نے سر اٹھانا شروع کردیا ہے کہ آیا اس نظام کے ساتھ سمجھوتہ کرکے اپنے حکومتی ایام کو طول دیا جائے یا ایک جھٹکے سے حالیہ منظر کا نقشہ بگاڑ کر خود کو ضمیر کی عدالت میں سرخرو کیا جائے۔

’’نہ کھاتا ہے نہ کھانے دیتا ہے‘‘ کی گردان سناتی یہ حکومت آئے روز کسی نئے اسکینڈل کی زد میں اپنا گریبان چاک پاتی ہے۔ چینی بحران کی صورت میں عوام کی جیبوں پر جو سو ارب سے زائد کا ڈاکہ ڈالا گیا اس کی تحقیقات ہوئیں اور ایک رپورٹ وزیراعظم کو پیش ہوئی جس پر چند برطرفیاں ہوئیں اور ایک ہائی پاورڈ تحقیقاتی کمیشن تشکیل کردیا گیا۔ ہم اس انکوائری کمیشن کی رپورٹ آنے سے محض چند دنوں کی مسافت پر ہیں کہ شہر اقتدار کی فضاؤں میں گردش کرتی خبریں دو انتہاؤں میں تقسیم ہیں۔

ایک انتہا کے مطابق تو خان صاحب نے اپنے دیرینہ دوست یعنی جہانگیر خان ترین کو بچانے کی ٹھان لی ہے اور ایک باہمی دوست جو کہ وفاقی وزیر بھی ہیں، کے ذریعے انہیں ایک پیغامِ محبت بھیجا ہے۔ جو یہ بتاتے ہیں وہ محض اتنی خبر نہیں دیتے بلکہ مزید کہتے ہیں کہ خان صاحب کی طرف خود بھی جہانگیر ترین کو ٹیلیفون کرکے شرطیہ کلین چٹ کی نوید سنائی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ آپ کے خلاف تحقیقات میں کچھ نہیں ملا۔ جواباً جہانگیر ترین کا یہ کہنا تھا کہ اس تمام تنازعے میں ان کی ساکھ کو بری طرح مجروح کیا گیا، لہٰذا وہ اب تب ہی مانیں گے جب ان کی مجروح شدہ ساکھ کی بحالی ہو۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ فواد چوہدری کا جہانگیر ترین کے بارے میں حالیہ بیان اسی فرمائش کی پہلی کڑی ہے۔ جہانگیر ترین کو منانے کا خیال شاید اس لیے بھی آیا کہ جس ہیلی کاپٹر کے اڑنے سے کئی طوفان اٹھنے سے پہلے ہی تھم جایا کرتے تھے، آج اس کی عدم موجودگی سے انہیں اپنے اقتدار کے گرد گرداب ہی گرداب دکھائی دے رہے ہیں۔

دوسری انتہا والے کہتے ہیں کہ خان نہ کاروبار کرتا ہے اور نہ کسی کو سیاست کی آڑ میں اپنا دھندہ چلانے دیتا ہے، لہٰذا اطمینان رکھیے کہ جس کا جو کیا دھرا ہوگا، اس کو اسی کے مطابق سزا ملے گی۔ یاد رکھیے یہ دوسری انتہا والے وہ لوگ ہیں جو کہ زیادہ تر سرکاری سچ کو ہی ٹھیک مانتے ہیں۔

اس رپورٹ کے ساتھ ایک اور رپورٹ کا بھی چرچا رہا، جس پر ’اچانک‘ بات چیت بند ہوگئی۔ یہ رپورٹ انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز یعنی آئی پی پیز کی مبینہ لوٹ مار پر تھی۔ جس کے حوالے سے خود صدر پاکستان کا یہ کہنا تھا کہ اس کے مطالعے کے بعد ان سے رہا نہ گیا اور وہ بھاگے بھاگے وزیراعظم ہاؤس گئے، جہاں انہوں نے خان صاحب سے ملک و قوم سے اس زیادتی کی داستان پر گہرے رنج کا اظہار کیا۔

سوال مگر یہ ہے کہ اقتدار کے اعلیٰ ترین ایوانوں میں مبینہ لوٹ مار کی اس ہوش ربا داستان پر اس قدر تشویش کے بعد بھی راتوں رات یہ رپورٹ کیوں رول بیک کردی گئی؟ یہ پی آئی ڈی کی ویب سائٹ سے کیوں ہٹادی گئی؟ کسی کابینہ کے رکن کو فراہم کیوں نہ کی گئی اور کیوں اسد عمر کو یہ کہنا پڑا کہ ان کے اپنے دفتر سے اس رپورٹ کی کاپی اپنے آپ غائب ہوگئی؟ سیاست میں حقیقت نہیں، تاثر اہم ہوتا ہے۔ لہٰذا اسی پر بات کیے دیتے ہیں۔ یہاں پر بھی شہر اقتدار اور اس میں بسنے والے خبر کے متلاشی دو انتہاؤں میں تقسیم ہیں۔

ایک حصے کے مطابق تاثر یہ ہے کہ اس رپورٹ کے منظرعام پر لانے کے اعلان کے ساتھ ہی پاکستان کے انتہائی دیرینہ دوست ملک کو تشویش لاحق ہوگئی کہ یہ رپورٹ پبلک ہوگئی تو اس کا فائدہ اس کے دشمن ملک کو ہوگا۔ اس دوست ملک نے دو وزرا سے رابطہ کیا، جنہوں نے خان صاحب کو خدشات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ فائدہ اسی میں ہے کہ اس رپورٹ پر اب خاموشی اختیار کی جائے کیوں کہ اس دوست ملک کی ناراضگی کا خطرہ مول لینے کی سوچ بھی بے وقوفی ہے۔ دوسرے حصے کے مطابق اس رپورٹ کو پبلک کرنا خان صاحب کا ایک باؤنسر تھا اور اسے رول بیک کرنا اسی باؤنسر کے بعد ایک ریورس یارکر۔ اس کمبینیشن سے نہ صرف اس کے مخالفین کلین بولڈ ہوئے بلکہ بات چیت پر بھی آمادہ ہوگئے۔

وہ کہتے ہیں کہ انڈیپینڈنٹ بجلی گھروں کے مالکان اس رپورٹ کو پبلک نہ کرنے کے بدلے میں حکومت کو نہ صرف بارہ سو ارب روپے کے گردشی قرضے معاف کرنے کو تیار ہیں بلکہ مستقبل کےلیے کم قیمتوں پر بجلی بنانے کےلیے بھی آمادہ ہیں۔ یوں پاکستان کو آئندہ کم قیمت پر بجلی ملے گی، جس سے نہ صرف ملک میں ارزانی کی ایک لہر آئے گی بلکہ یہاں کی صنعت کو بھی سستی بجلی ملے گی جس سے ملک کی لوکل مارکیٹ بھی فائدہ حاصل کرے گی اور برآمدات میں بھی اضافہ ہوگا۔ وہ کہتے ہیں کہ خان جو کرتا ہے، سوچ سمجھ کر اور ملک کے وسیع تر مفاد میں کرتا ہے، لہٰذا تسلی رکھیے کہ اس نے یہ فیصلہ بھی ٹھیک ہی کیا ہوگا۔

دبائی جانے والی یہ رپورٹ پانچ ہزار چار سو ارب کے ٹیکے کی نشاندہی کرتی ہے، جو پچھلے 17 سال میں عوام کو لگایا گیا۔ یہ بتاتی ہے کہ بجلی بنانے کی جو مشینیں باہر سے منگوائی گئیں ان کے اصلی کتابچے چھپا کر نقلی کتابچے یہاں چھاپے گئے، جن میں ان کی لاگت، طاقت اور صلاحیت سے متعلق غلط بیانی کی گئی۔ اعداد کی ہیر پھیر یہاں نہیں رکتی، بلکہ حکومت سے زیادہ تیل لے کر کم بجلی بنائی گئی اور باقی تیل ڈیلروں کے ذریعے پٹرول پمپوں کو بیچا گیا۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ حکومت کے ساتھ جو معاہدہ ہوا اس میں یہ طے پایا کہ سرمایہ کار پندرہ فیصد سے زائد منافع نہیں کمائے گا مگر یہاں چالیس سے 80 فیصد تک منافع خوری کی گئی۔ رپورٹ مزید کہتی ہے کہ معاہدے روپوں میں ہوئے مگر سیاسی ایوانوں کی ملی بھگت سے اسے ڈالرز میں تبدیل کردیا گیا اور جتنا روپے کی گراوٹ ہوتی گئی اتنا یہ بجلی گھر دگنی کمائی کرتے رہے۔

خان صاحب سے التماس ہے کہ یہی وہ اشرافیہ ہے جس کے خلاف آپ بائیس سال جدوجہد کے دعویدار ہیں۔ آج آپ کا ہاتھ ان کی گردن پر ہے۔ کسی بھی دباؤ میں آنے یا کوئی بھی سمجھوتہ کرنے سے پہلے یہ سوچ لیجیے کہ آپ بہت سوں کی آخری امید ہیں، جس کے بجھنے کے بعد وہ لوگ اس سوچ کے ہوجائیں گے کہ یہ دیس اندھے، گونگے اور بہرے لوگوں کا ہے، لہٰذا کوئی چاند یہاں نکلنے کی گستاخی نہ کیا کرے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

واصب امداد

واصب امداد

بلاگر میڈیا کے طالب علم ہونے کے ساتھ ریڈیو براڈ کاسٹر ہیں۔ ملکی سیاست اور انٹرنیشنل افیئرز میں دلچسپی کے ساتھ لکھنے کا بھی شوق ہے۔ ان سے ٹویٹر آئی ڈی [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔