تاجروں کا کل سے مکمل کاروبار کھولنے کا اعلان

اسٹاف رپورٹر  اتوار 17 مئ 2020
ملازمین بیروزگاری سے پریشان اور فاقہ کشی پر مجبور ہیں، مارکیٹیں بند رہیں تو یہ طبقہ بھی چوری،ڈکیتیوں یا پھر خودکشیوں پر مجبور ہو گا، عتیق میر۔ فوٹو : اے پی پی

ملازمین بیروزگاری سے پریشان اور فاقہ کشی پر مجبور ہیں، مارکیٹیں بند رہیں تو یہ طبقہ بھی چوری،ڈکیتیوں یا پھر خودکشیوں پر مجبور ہو گا، عتیق میر۔ فوٹو : اے پی پی

کراچی: تاجروں نے پیر سے اپنا مکمل کاروبار کھولنے کا اعلان کیا ہے۔

کراچی کے تاجروں کے وفد نے جامعہ بنوریہ عالمیہ کے رئیس وشیخ الحدیث مفتی محمد نعیم سے ملاقات کی، وفد میں کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر،جمیل پراچہ ، شیر جیل گوپلانی، چوہدری ایوب سمیت دیگر تاجر تنظیموں کے نمائندے شامل تھے۔

عتیق میر ودیگر تاجروں نے کہا کہ ہم پیر سے اپنا مکمل کاروبار کھول رہے ہیں، ملازمین بے روزگاری سے پریشان اور فاقہ کشی پر مجبور ہیں اگر مارکیٹیں اسی طرح بند رہی تو یہ حلال کمانے والا طبقہ بھی چوری ،ڈکیتیوں یا پھر خودکشیوں پر مجبور ہوگا، بہتر یہ ہے کہ ہم کاروبار کھولیں اور ایس او پیز پر عمل کریں۔

رئیس وشیخ الحدیث مفتی محمد نعیم نے کہا کہ کورونا کے لاک ڈاؤن کی وجہ سے پوری قوم مشکلات کا شکار ہے اس سے نکلنے کے لیے دعاؤں اور کثرت استغفار کی ضرورت ہے،وہی ذات ہمیں اس مشکل سے نکلنے میں مدد دے سکتی ہے،انھوں نے کہا کہ کرونا وبا ہے اس کا انکار ممکن نہیں ہے لیکن کیا کورونا کاعلاج کئی سال تک نہیں ملے گا تو لاک ڈاؤن بھی اتنا ہی طویل رکھا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ تاجر برداری کے ساتھ حکومت کو چاہیے کہ وہ تعاون کرے،کیونکہ تاجر معیشت کیلیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، بے روزگاری بڑھے گی ، چوری ،ڈکیتیاں اور دیگر جرائم عام ہوجائیں گے جو کرونا سے زیادہ خطرناک ہوںگے،شہر قائد پاکستان کا معاشی حب میں ایس او پیز کے ساتھ کاروبار کھولنے کی اجازت دینی چاہیے، کورونا سے احتیاط لازمی ہے، تاجر اپنی صفوں میں موجود منافع خوروں اور گراں فروشوں کو بھی نکال باہر کریں۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔