کراچی چیمبرکا 24 گھنٹے کاروبارکھولنے کی اجازت دینے کا مطالبہ

احتشام مفتی  اتوار 17 مئ 2020
سندھ حکومت کے اعلان کے مطابق عیدالفطر کی چھٹیوں سے لیکر 31 مئی تک مکمل لاک ڈاؤن دوبارہ نافذ کردیا جائے

سندھ حکومت کے اعلان کے مطابق عیدالفطر کی چھٹیوں سے لیکر 31 مئی تک مکمل لاک ڈاؤن دوبارہ نافذ کردیا جائے

کراچی: کراچی چیمبر آف کامرس نے پیر سے ہفتہ چھ روز کے لئے  لاک ڈاؤن ختم کرکےدکانداروں، شاپنگ مالز کو24گھنٹے کاروبارکھلا رکھنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کردیاہے۔

بزنس مین گروپ کے چئیرمین سراج قاسم تیلی نے کہا ہے کہ دکانوں اورشاپنگ مالز کوروزانہ24 گھنٹے کاروبار کھلا رکھنے کی اجازت دیے جانے سے نہ صرف بے پناہ بھیڑ کے مسئلے سے نمٹنے میں مدد ملے گی بلکہ چھوٹے تاجر اور دکانداروں کو 23 مارچ سے جاری طویل لاک ڈاؤن کے نقصانات کا کسی حد تک ازالہ بھی ہوسکے گا۔

سراج تیلی نے زور دیا کہ لاک ڈاؤن میں پیر سے ہفتے تک چھ روز کے لئے مکمل نرمی کرنی ہی ہوگی تاکہ کراچی والے بنا کسی مشکل، جلدبازی اور پریشانی کے کمرشل مارکیٹوں میں جاسکیں جبکہ دکاندار بھی بھیڑ سے پاک ماحول میں اپنے کسٹمرز کو ڈیل کریں جس کی اشد ضرورت ہے تاکہ لوگوں کے درمیان سماجی فاصلے کو یقینی بنایا جاسکے جو کرونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کو موثر طریقے سے روکنے کے لئے انتہائی اہم حفاظتی اقدام ہے، بعد ازاں، سندھ حکومت کے اعلان کے مطابق عیدالفطر کی چھٹیوں سے لے کر 31مئی تک مکمل طور پرلاک ڈاؤن کو دوبارہ نافذ کردیا جائے جب کہ یکم جون اور اس کے بعد مجموعی صورت حال کا جائزہ لے کر سندھ حکومت اُسی فارمولے کے تحت چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کو پیر سے جمعرات ہفتے میں چار دن کاروبار کرنے کی اجازت دے جبکہ جمعہ، ہفتہ اور اتوار کے روز لاک ڈاؤن کو لاگو رکھا جائے۔

انہوں نے کرونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے لاک ڈاؤن کے نفاذ کے بعد سے سندھ حکومت کے اقدامات بالخصوص وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے سخت محنت اور کاوشوں کو سراہا تاہم انھوں نے اس بات پر افسوس کا اظہارکیا کہ بدقسمتی سے پچھلے ہفتے جب لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی تو یہ بات مشاہدے میں آئی کہ چھوٹے تاجروں اور دکانداروں نے باہمی رضامندی کے بعد طے شدہ ایس او پیز کو مجموعی طور پر نظر انداز کرکے سندھ حکومت سے کئے گئے وعدوں کی پاسداری نہیں کی۔

سراج تیلی نے کہا کہ ملک کے پریمئر چیمبر اور پوری تاجر وصنعتکار برادری کا حقیقی نمائندہ ہونے کی حیثیت سے کراچی چیمبر کو چھوٹے تاجروں، دکانداروں اور صنعتکاروں کو لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہونے والے نقصانات پر کافی تشویش ہے تاہم ساتھ ہی ساتھ عوام کی زندگیوں کی بھی اُتنی ہی پرواہ ہے کیونکہ ہم کسی بھی قیمت پر معصوم عوام کی زندگیوں کے عیوض کاروبار چلانے کے متحمل نہیں ہوسکتے جو کسی بھی وقت اس جالیوا وائرس کا شکار ہوسکتے ہیں لہذا یہ ہر ایک کی ا خلاقی و سماجی ذمے داری ہے کہ ان ایس او پیز پر عمل پیرا ہو۔

انھوں نے کراچی شہر کی تمام کمرشل مارکیٹوں کے چھوٹے تاجروں و دکانداروں سے اپیل کی کہ وہ عید الفطر کے شاپپنگ سیزن کے بقیہ دنوں کے دوران سختی سے تمام ایس او پیز پر عمل درآمد کریں کیونکہ ان ایس او پیزمیں کسی بھی قسم کی غفلت برتنے سے تباہ کن صورت حال پیدا ہوگی جو پہلے ہی کافی خراب ہے اور ملک بھر میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

بزنس مین گروپ کے چئیرمین نے مزید کہا کہ دوسری جانب شہریوں کو بھی احتیاط سے کام لیتے ہوئے ضروری حفاظتی تدابیر پر عمل کرنا ہوگا تاکہ ہم سب مل کر کرونا وائرس کی جان لیوا وبا کو شکست دے سکیں اور اپنے ملک کو مزید تباہی سے بچا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اول روز سے یہ بات دہرا رہے ہیں کہ کرونا وائرس کہیں جانے والا نہیں اور یہ کچھ وقت ہمارے ساتھ ہی رہے گا۔ یہ ہماری زندگی کا حصہ بن چکا ہے اور ہمیں اس کے ساتھ ہی رہنا ہے۔ ہم اپنے کاروبار کو ہمیشہ کے لئے بند نہیں کرسکتے  لہذا حکومت اور تاجر برادری کو مل کر ایسے طریقے اور ذرائع وضع کرنے ہوں گے جن کے ذریعے ہم اس وائرس کی موجودگی میں بحفاظت معمولات زندگی کو بحال کرسکیں۔ ایس او پیز صرف رمضان کے شاپنگ سیزن کے لئے نہیں بلکہ انہیں ہمیں اپنی زندگی اور روزمرہ کی کاروباری سرگرمیوں کا حصہ بنانا ہوگا۔انھوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے کرونا وائرس کی وجہ سے پھیلنے والی وبا کو روکنے کے لئے پچھلے دو ماہ کے عرصے میں بہت زیادہ محنت کی ہے اور ہم ان تمام تر کوششوں کو داؤ پر نہیں لگا سکتے لہذا دکانداروں پر یہ لازم ہے کہ وہ اپنی دکانوں کے احاطے میں اور ان کے باہر بھی سماجی فاصلے اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں جو نہ صرف اُن کی اپنی زندگیوں اور کاروبار کے حق میں ہوگا بلکہ ملک کے وسیع تر مفاد میں بھی ہے۔ ہر ایک زندگی انتہائی اہم ہے  لہذا ہم سب کو نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایس او پیز کو اپنانا ہوگا جن سے وائرس کی موجودگی میں ہی ہمیں اپنے کاروبار کو جاری رکھنے میں مدد ملے گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔