افغان خفیہ ایجنسی کے دفتر پر طالبان کے حملے میں 7 اہلکار ہلاک اور 40 زخمی

ویب ڈیسک  پير 18 مئ 2020
دھماکے میں زخمی ہونے والوں میں سے 10 کی حالت نازک ہے، فوٹو : فائل

دھماکے میں زخمی ہونے والوں میں سے 10 کی حالت نازک ہے، فوٹو : فائل

کابل: افغانستان میں خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کے دفتر پر بارود سے بھری کار کو زوردار دھماکے سے اُڑا دیا گیا جس کے نتیجے میں 7 افغان انٹیلی جنس اہلکار ہلاک اور 40 زخمی ہوگئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کے صوبے غزنی میں واقع ملک کی خفیہ ایجنسی ’’ نیشنل ڈائڑکٹوریٹ آف سیکیورٹی ‘‘ کے دفتر پر زورد دار دھماکا ہوا جس کے بعد افرا تفری مچ گئی، دھماکا ایک کار میں ہوا جس میں بارودی مواد چھپایا گیا تھا۔ دھماکے میں 7  انٹیلی جنس اہلکار ہلاک اور 40 زخمی ہوئے۔

غزنی کے گورنر کے ترجمان نے کار بم دھماکے میں ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ زخمیوں میں سے 10 کی حالت نازک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ دھماکے کے بعد اںٹیلی جنس ادارے کے دفتر کا فوجی اہلکاروں نے گھیراؤ کر لیا اور حملہ آوروں کی تلاش میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا۔

یہ خبر بھی پڑھیں : کابل زچہ بچہ اسپتال پر حملے میں نومولودوں سمیت 10 خواتین ہلاک 

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے گزشتہ روز ہی قائم ہونے والے صدر اشرف غنی اور حریف رہنما عبد اللہ عبداللہ کے حکومتی اتحاد سے طالبان اسیروں کی امریکی معاہدے کے تحت فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔

یہ خبر پڑھیں : اشرف غنی اورعبداللہ عبداللہ کے مابین اتحادی حکومت بنانے پراتفاق

واضح رہے کہ رواں برس 29 فروری کو طالبان اور امریکا کے درمیان ہونے والے معاہدے میں 5 ہزار طالبان اسیروں کی رہائی پر اتفاق ہوا تھا تاہم اب تک صرف 700 سے زائد اسیر رہا ہوئے ہیں جس پر طالبان نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے افغان فوج کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔