مغربی طاقتوں نے 1971 تک چین کواقوام متحدہ سے باہر رکھا

ڈاکٹر عرفان احمد بیگ  اتوار 24 مئ 2020
فوٹو : فائل

فوٹو : فائل

( قسط نمبر15)

اقوا م متحدہ کی جدید تاریخ پچھتر سال پر محیط ہے جس کو ہم پچیس پچیس سالہ دورکے اعتبار سے تین حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں،دوسری جنگِ عظیم اگرچہ 2 مئی یا 9 مئی 1945 کو ختم ہوجانی چاہیے تھی جب جرمنی نے برلن میں 2 مئی کو ہٹلر کی خود کشی کے بعد ہتھیار ڈال دئیے تھے اور اس جنگ کے چار اتحادی امریکہ، بر طانیہ، فرانس ،اور سویت یو نین برلن میں اپنی اپنی اعلیٰ ترین فوجی قیادتوں کے ساتھ مو جود تھے۔ مگر 2 مئی سے 9 مئی تک اگر چہ اِن چاروں اتحادیوں میں کو ئی بڑا تنازعہ بظاہر سامنے نہیں آیا لیکن یہ حقیقت ہے کہ 2 مئی 1945 ہی سے دنیا میں سرد جنگ کا آغاز ہو گیا تھا۔

دوسری جنگ ِعظیم کے درمیان اور اس سے قبل نو آبادیاتی نظام کی بنیاد پر آزاد اور بڑی قوتوں نے ایک دوسرے کی مقبوضا ت پر قبضے کی بنیاد پر جنگ کے منصو بے شروع کئے تھے۔ جرمنی نے پہلی جنگ عظیم میں اپنی ذلت آمیز شکست   کا بدلہ بھی لینا تھا اور اُس زمانے کے معاشی اقتصادی مالیاتی تقاضوں کے مطابق اُسے بھی دنیا میں نو آبادیات یعنی مقبوضہ علاقوںکی ضرورت تھی یوں اس کے ساتھ Tripartite Pect یعنی سہہ ملکی معاہدہ  میں جرمنی اٹلی اور جاپان شامل تھے۔

اگرچہ یہ معاہدہ 25 اکتوبر1936 سے جرمنی اٹلی اور جاپان کے درمیان ہونے والے سمجھو توں کا ایک تسلسل تھا جس کے تحت یہ تین ملک بر طانیہ فرانس سویت یونین اور دیگر نوآبادیاتی قوتوں کے خلا ف اکھٹا ہوئے تھے مگر اس معاہد ے کے بھی بعض نکات پر اِن تین ممالک نے ایک دوسرے سے انحراف کیا۔ مثلاً 1937 میںاٹلی اور جرمنی میںطے پا یاتھا کہ وہ کیمو نزم کے مخالف رہیں گے مگر معاہدے کا یہ نکتہ 23 اگست1939 کو اُس وقت غلط ثابت ہوا جب جرمنی اور سویت یونین کے درمیان Nonaggression Pect یعنی آپس میں جنگ نہ کرنے معاہدہ ہوا جس کے سبب بعد میں پو لینڈ پر قبضے کا رستہ صاف ہو گیا۔ Tripartite Pect  ایک بڑے باقائد ہ معاہدے کی حیثیت سے ستمبر1940 میں جنگ عظیم دوئم کے ایک سال بعد اُس وقت اہمیت اختیار کرگیا  جب جرمنی کے زویر خارجہ Joachin Von Ribbentrop (جواچین وان ریببنٹروپ) اٹلی کے Galeazzo Ciano  )گلیزو سیانو( نے اور جاپان کےKurusu Saburo (کرسو سبارو) نے دستخط کئے۔

جاپان اُس وقت چین اور ہند چینی علاقے میں گھس چکا تھا۔ 1941 کے آغاز تک جرمنی اٹلی اور جاپان جنگ عظیم دوئم میں بر طانیہ اور اس کے اتحادیوں پر بہت بھاری پڑ رہے تھے اور تقریباً ہر محاز پر اتحادیوں کو پسپائی کا سامنا تھا۔ اپریل 1941 میں جاپان نے سویت یونین سے غیر جانبداری کا معاہد ہ کر لیا۔ صورتحال مغربی اتحادی ملکوں کے لیے بہت ہی مشکل ہو چکی تھی، مگر 1941 جون سے دسمبر 1941 تک جرمنی اور جا پان کی دو بڑی غلطیوں وجہ سے جنگ کا پانسہ پلٹنے لگا۔ اپریل1941 میں جاپان جو سمندر سے سویت یونین اور چین کے قریب تھا اور چین اور ہند چینی علاقے میں مقبوضات بنا چکا تھا اس نے سویت یونین سے غیر جانبداری کا معاہد ہ کیا تھا اور اس معاہدے کے صرف دو ماہ بعد ہٹلر نے سویت یونین پر حملے کی وہ غلطی کی جو اس سے پہلے نیپولین نے کی تھی۔

پھرجون 1941 سے سویت یونین اپنے اشتراکی نظریات کے بر عکس مجبور ی کے تحت ہٹلر اور میسولینی کو فاشسٹ تسلیم کرتے ہو ئے مغربی اتحاد میں شامل ہو گیا۔ واضح رہے کہ جاپان نے جرمنی سے سویت یونین پر حملے سے اختلا ف بھی کیا تھا اور پھر اسی سال کے آخر میں جاپان سے یہ غلطی ہو ئی کہ اُس نے امریکہ کے بحری اڈے پرل ہابر پر حملہ کر دیا اور امریکہ کو بڑا جانی فوجی نقصان پہنچا یا اور امریکہ جو اتحادیوں کو مالی امداد اور اسلحہ کی امداد دینے لگا تھا دسمبر 1941 سے اعلانیہ دوسری عالمی جنگ کے اتحادیوں شامل ہوگیا، یعنی اب جرمنی ،اٹلی اور جاپان کے مقابلے میں برطانیہ فرانس ، سویت یونین اور امریکہ سمیت تقر یباً پور ی دنیا ایک طرف تھی۔ جہاں تک تعلق سویت یونین کا تھا تو یہ اشتراکی نظریات سے انحراف تھا کہ پہلے سویت یونین نے ہٹلر سے اتحاد کرکے پو لینڈ پر جرمنی کے ساتھ مل کر اس ملک کے حصے بخرے کر لیے۔ پھر چین ،ویت نام، جہاں اشتراکی نظریات کے ساتھ آ زادی کی جد وجہد جاری تھی، انہیں نظر انداز کرتے ہوئے اسٹا لن نے جاپان کے ساتھ بھی غیر جانبداری کا معاہدہ کر لیا اور پھر جب دو ماہ بعد ہٹلر نے سوویت یونین پر حملہ کیا تو اس کے بعد سوویت یونین نے اس میں عافیت سمجھی کہ جرمنی ،جاپان اور اٹلی کے خلاف مغربی یورپی اتحاد میں شامل ہو جائے۔ جو سوویت یونین کے اشتراکی نظریا ت کے بالکل ہی بر عکس نظریات رکھتے تھے۔

اُس زمانے میں اسٹالن کی جانب سے یوں پینترے بدلنے سے ہند ستان سمیت پوری دنیا میں اشتراکی نظریات رکھنے والوں کو بڑی ذہنی الجھن کاسامنا کر نا پڑا۔ یہ صورتحال بر طانیہ ،فرانس کے لیے بہت حوصلہ افزا تھی۔ مشرق وسطٰی میں جرمنی اور اٹلی کی فوجوں کو پسپائی ہوئی تو اٹلی میں عوام میسولینی کے خلاف ہو گئے اور اٹلی کی گرینڈ کو نسل نے 25 جولائی1943 کو وزیراعظم میسولینی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کر کے اُسے اقتدار سے بے دخل کر دیا۔  دوسرے دن  بادشاہ نے بھی اس کی منظوری دے دی۔ مگر ہٹلر نے فوجی قوت سے میسولینی کا اقتدار بحال کردیا۔ پھر اپریل 1945 میں جب جرمنی کی شکست یقینی ہو گئی تو میسولینی نے جان بچا کر آسٹریا بھاگنے کی کوشش کی لیکن کرمو جھیل کے کنارے انقلابیوں نے اُسے گر فتار کر کے وہیں پھانسی دے دی۔

9 مئی 1945 کو جب مغربی اتحادی ممالک جرمنی کے ہتھیار ڈالے کی تقریب کے دو دن بعد جشن منا رہے تھے تو برلن مغربی اتحادیوں بر طانیہ ،فرانس، مریکہ اورسویت یونین کے درمیان ایک تنازعہ بن رہا تھا اور دوسری جانب امر یکہ جاپان ،کو ریا، انڈ ونیشیا، ملا ئیشیا، نیوگنی ویت نام، ہانگ کانگ، لاوس کمبوڈیا،تائیوان ، اورچین کے پورے علاقے میں سویت یونین کے اثرات اور اشتراکی نظریات کو قابو کرنے کی حکمت عملی اپنا رہا تھا امریکہ نے 7 اگست اور 9 اگست 1945 کو ہیرو شما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرائے اور اس کے بعد جاپان ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو گیا۔

جاپان سمیت دنیا کے بہت سے ممالک میں انسان دوست حلقے امریکہ کے اس فعل کی مذمت کر تے ہیں تو امریکہ کا موقف یہ ہو تا کہ امریکی ایٹم بم کی وجہ سے جنگ ِ عظیم دوئم جلد ختم ہو گئی۔ ایٹم بم بنانے کے لیے آئن اسٹا ئن کو یہ حقیقی رپورٹ دی گئی تھی کہ جرمنی کے سائنس دن رات ایٹم بم بنا نے کی کو ششوں میں مصروف ہیں اور اگر وہ جلد کا میاب ہو گئے تو پھر جو دنیا کی صورت ہو گی اُس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے اور اسی وجہ سے آئن اسٹائن نے اس مہلک ہتھیار کو بنانے میں اہم کردار اد ا کیا تھا۔ برٹرنڈ رسل اورآئن اسٹائن سمیت اہم شخصیات اس کے خلاف تھیں، ان کے خیال میں جرمنی کی شکست کے بعد جاپان پر ایٹم بم گرانے کا کو ئی جواز نہیں تھا۔ مگر امر یکہ کو اس کے فوائد تھے۔ سب سے زیادہ فائد ہ یہ تھا کہ سوویت یونین یہ سمجھ لے کہ دنیا میں صرف امر یکہ ہی کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں۔ جاپان نہ صرف ہتھیار ڈالے بلکہ اپنی وہ مقبو ضات جو اُس نے 1945 تک حاصل کی تھیں اُن کے بارے میں وہی کرئے جو امریکہ اور اُس کے مغربی اتحادی یعنی بر طانیہ ، فرانس کے حق میں ہو۔

یوں ویت نام انڈو نیشیا کے علاقے میں برطانوی کے لارڈ ماونٹ بیٹن اور جنرل ڈیگلس گریسی نے امریکہ اور اس کے اتحادی بر طانیہ اور فرانس کے منصوبوں کے مطابق عمل کیا اور جاپان پر ایٹم بم گرائے جانے کے چھ دن بعد 15 اگست کوجاپان کے باد شاہ  ہیرو ہیٹوHirohito نے غیر مشروط طور پر شکست تسلیم کر تے ہو ئے ہتھیار ڈالنے کا اعلان کر دیا۔ ہتھیار ڈالنے کی تقریب خلیجِ ٹوکیو میں امریکی نیوی کے دیو ہیکل 53000 ٹن وزنی جہاز USS Missouri (میسوری) پر 2 ستمبر 1945 ء کو منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں 9 اتحادی ملکوں کے فوجی جنرل اور نمائیدے شریک تھے جن میں چین کی نمائیدگی بھی تھی۔

ہتھیار ڈالنے کی یہ تقریب بنیادی طور پر امریکہ کی زیر نگرانی تھی اور اس میں فاتح تھا امریکی جنرل اور سپریم کمانڈر فیلڈ مارشل ڈیگلس میکارتھر۔ کیونکہ چاروں اتحادی ممالک کی افواج برلن قابض تھیں اس لیے آخر کار برلن تقسیم ہو گیا۔ امریکہ اگر چہ پہلی جنگِ عظیم کے بعد ہی سے ورلڈ ویکڑی اسٹینڈ پر پہلی پوزیشن پر کھڑا ہو گیا تھا اب دوسری جنگِ عظیم کے اختتام پر سب کے سامنے دنیا کی واحد ایٹمی قوت اور سپر پاور تھا۔ جاپان کی جانب سے وزیر خارجہ Mannoru Shigmitsit (مانورو) اور جنرل Hideki Jojo (ہیڈکی) نے ہتھیار ڈالنے کی دستاویز پر دستخط کئے پھر 9 اتحادی ملکوں کے نمائندوں مشہور جنرلوں نے دستخط کئے اور پھر سپریم کمانڈر فیڈل مارشل جنرل میکار تھر  نے دستخط کئے۔ اس موقع پر جنرل میکار تھر نے جو تقریر کی وہ تاریخ ایک اہم تقریر تھی جس میں انہوں نے کہیں فتح کے نشے کا شائبہ بھی نہیں آنے دیا۔

بنیادی بات عالمی امن ،انصاف،آزادی اور در گزر کی بنیاد پر کی۔ یوں اگرچہ جاپان نے شکست کھائی تھی اور ہتھیار ڈالے تھے مگر اُس کے ساتھ معاملہ باوقار انداز میں کیا گیا اور بعد میں جنرل میکار تھر ہی کی تجویز پر جنگ سے تباہ حال جاپان کو مارشل پلان کے تحت تعمیر ِ نو کے تیز رفتار عمل سے جلد چند برسوں میں ایک ترقی یافتہ خوشحال اور مضبوط معاشی اقتصادی صنعتی قوت بنا دیا گیا۔ جہاں تک تعلق جاپان کی 1945 تک کی نو آبادیات کا تھا تو اس کے لیے پالیسی میں بنیادی کردار امریکہ ہی کا رہا جس کے ساتھ برطانیہ فرانس اور خود جاپان مدد گاراور مستفید تھے یہاں اگر چہ بظاہر سوویت یونین کو ناراض نہیں کیا گیا تھا، مگر بحر اقیانوس ٔبحر ہند اور اس پورے علاقے میں جاپان نے امریکہ کے ساتھ دینے کا پس پردہ عہد کر لیا تھا اور جاپان کا دفاع بھی اب امریکہ کے لیے اہم تھا۔

اُس وقت چین میں موزے تنگ آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے۔ اکتوبر 1945 میں اقوام متحدہ کی تشکیل پر جو 51 ممالک بنیادی اراکین تھے اُن میں جمہوریہ چین بھی  شامل تھا اور اُس کے اقتدار اعلیٰ کو مین لینڈ چین اور آج کے چین کے دیگر علاقوں پر تسلیم کیا جاتا تھا۔ مغربی طاقتیں پورے چین پر تائیوان کے مغرب نواز ٹولے کے اقتدار کو تسلیم کرتی تھیں۔ اسی تصور کے تحت اکتوبر1945 میں جمہوریہ چین کو اقوا م متحدہ کی جنرل اسمبلی کی رکنیت کے ساتھ ساتھ سیکورٹی کو نسل میں بھی ویٹو پاور کے ساتھ رکنیت حاصل تھی۔ اٹلی کو اقوام متحدہ کی رکنیت دس سال بعد 1955 میں آئرلینڈ، اردن، لاوس، لیبیا، نیپال، پرتگال ،رومانیہ،اسپین،کے ساتھ ملی تھی۔ جاپان کو اقوام متحدہ کی رکنیت مراکو ،مراکش، سوڈان،اور تیو نس کے ساتھ 1956 میں ملی اور اس سال اقوام متحدہ کے ممبران کی کل تعداد 80 ہو گئی۔

جہاں تک تعلق جرمنی کا ہے تو جرمنی مشرقی اور مغربی دو حصوں میں تقیسم ہو کر دو الگ الگ ملک بن گئے تھے مشرقی جرمنی سویت یونین کے زیر اثر اور کمیونسٹ ملک تھا جب کہ مغربی جرمنی امریکہ ،فرانس اور بر طانیہ کے زیر اثرتھا اور مغربی جمہوریت اور آزاد معیشت کا حامل ملک تھا۔ مشرقی اور مغربی جرمنی کو1973 میں الگ الگ ملک کی حیثیت سے اقوام متحدہ کی رکنیت ملی اور اس سال اقوام متحد ہ کے ممبران کی کل تعداد 135 ہو گئی۔

یوں اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے شکست خوردہ ممالک کی بنیاد پر سرد جنگ کن کن مراحل سے گذری اور پرانے نو آبادیاتی پس منظر کی بنیاد پر غیر اعلانیہ انداز میں بڑی قوتوں کی جانب سے صرف اپنے اپنے مفادات کے لیے کس انداز سے لڑی گئی۔ 1945 میں جب جاپان نے ہتھیار ڈال د یئے تھے تو چین کے عوام اپنے اعظیم لیڈر موزے تنگ کی قیادت میں آزادی کی جنگ کے حتمی مراحل میں تھے اور پھر چار سال بعد یکم اکتوبر1949 کو عوامی جمہوریہ چین آزاد ہو گیا مگر امریکہ ، بر طانیہ ،فرانس اور اس کے حاشیہ بردار ممالک نے عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم نہیں کیا اور جمہوریہ چین یعنی تائیوان کی بنیاد پر پورے چینی علاقے پر اقوام متحدہ کی رکنیت کی بنیاد پر اُسے ہی چین تسلیم کیا جا تا رہا۔

اب عالمی سطح پر چیئرمین ماوء اور چین کے وزیراعظم چو این لائی کے لیے صبر آزما جد وجہد تھی یہ وہ دور ہے جب آزادی کے فوراً بعد ہی سرد جنگ کی شدت میں اضافہ ہونے لگا تھا اور پھر نہ صرف بعد کے دنوں خصوصاً پچاس اور ساٹھ کی دہائیوں میں ہمارے ہاں پاکستان سیٹو ،سینٹو کا رکن بنا اور نیٹو جیسا ادارہ بھی تشکیل پایا جس کے مقابلے میں سوویت یونین نے وارسا پیکٹ کے تحت محاذ بنایا تو ساتھ ہی غیر جانبدار ممالک کی تحریک کے نام پر ترقی پذیر ملکوں کا ایک گروپ تشکیل دینے کی کو شش ہو رہئی تھی جو سرد جنگ  میں امریکہ اور روس نواز گروپوں سے الگ ہو۔ یہ تصور تو لاجواب تھا مگر حقیقت میں اس میں شامل ممالک خود کو کسی طرح بھی بعد کے دنوں میں غیر جاند ار نہیں رکھ سکے اور جہان تک تعلق بھارت کا تھا تو اُس نے اس سے کہیں زیادہ سیاسی فائدہ اٹھایا۔

چین نے آزادی کے بعد اشتراکی نظریاتی بنیادوں پر سوویت یونین کا بھر پور ساتھ دیا۔ ماوزے تنگ نے اپنی زندگی میں عوامی جمہوریہ چین کی آزادی کے بعد صرف دو بیرونی دورے کئے اور یہ دنوں دورے سوویت یونین کے تھے۔ پہلا دور اُنہوں نے آزادی کے فوراً بعد اسی سال 16 دسمبر1949 کو جوزف اسٹالن کی 70 ویں سالگرہ کی تقریب کے موقع پر کیا تھا۔ اُس وقت پوری دنیا خصوصاً امریکہ ، بر طانیہ ، فرانس کو تشویش تھی دنیا کے بہت سے ملکوں میں اشتراکیت کے لیے ماحول سازگار تھا۔ سیا سی نو آبادیاتی نظام کے خاتمے پر اقوام متحدہ میں اتفاق تو ضرور تھا مگر اس کا ٹائم فریم سیکیورٹی کو نسل کی پانچ ویٹو پاور رکھنے والی طاقتیں طے کرتیں تھیں۔ سوویت یونین، فرانس ، بر طانیہ ، امریکہ پوری دنیا میں مقبوضات رکھتے تھے۔ ان ملکوں کی تاریخ دوسرے ملکوں سے جنگوں اور علاقے ہتھیانے کے واقعات سے بھری پڑی تھی۔ اِن کے مقا بلے میں چین کی جانب سے عالمی سطح پر بڑی جارحیت کی کو ئی قابل ذکر تاریخ موجود نہیں۔  بلکہ وہ خو د 1949 تک نو آبادیاتی نظام کے جبر سہتا رہا تھا۔

یوں اب چین اشتراکی اور جمہوری بنیادوں پر اُن مقبو ضہ ملکوں کی حمایت پر سوویت یونین کے ساتھ تھا جو اشتراکی نظریات کے تحت سرمایہ دارانہ نظام اور عالمی نو عیت کے نو آبادیاتی نظام کے خلاف جد و جہد میں مصروف تھے۔ سوویت یونین چین کی مدد کر رہاتھا لیکن یہ بھی حقیقت تھی کہ چین کی آزادی اور دوستی سے خود سوویت یونین کو عا لمی سطح پر بڑی تقویت ملی تھی۔

ماوء زے تنگ نے دوسرا بیرونی دورہ بھی سوویت یونین سوویت انقلاب کی چالیسویں سالگرہ کے موقع پر1957 میںکیا تھا اور وہ 17 دن سوویت یونین میں رہے تھے۔ اس دوران انہوں نے خصوصاً دنیا کے کیمونسٹ ممالک کے بہت سے سربر اہوں سے ملاقات کی تھی۔ اس دوران چین کوریا کی جنگ میں سوویت یونین اور شمالی کو ریا کے ساتھ تھا۔ ہند چینی خصوصاً ویت نام میں بھی اب جنگ شدت اختیار کر گئی تھی۔ پھر آنے والے برسوں میں امریکہ نے یہاں اپنی فوجیں پہنچا دی تھیں۔

اس زمانے تک سوویت یونین، چین اور بھارت کے تعلقات بہت بہتر تھے، مگر چین باوجود بہت زیادہ قربانی دینے کے سوویت یونین اور بھارت کے مقابلے میں خود کو مشکل میں محسوس کر رہاتھا۔ جب تک سوویت یونین پر اسٹالن کی حکومت تھی تو صورتحال پھر بھی بہتر تھی کہ اسٹالن چین کو بھی مشرقی یورپ کے اشتراکی ملکوں کی طرح سمجھتا تھا حالانکہ چین آبادی رقبے اور اپنی سماجی بنت اور نظم وضبط کے اعتبار سے ماوزے تنگ کی قیادت میں سیاسی اور سماجی طور پر اُس وقت بھی دنیا میں سب سے زیادہ مضبو ط ملک تھا۔ بھارت جو سوویت یونین کے قریب تھا اُس نے امریکہ سے بھی بہتر تعلقات استوار رکھے تھے اور اس میں سہارا اپنی غیر جانبداری کا لیا تھا۔

1962 تک بھارت چین کے خلاف درپردہ امریکہ سے زیادہ مفادات حاصل کرنے کے لیے چین سے الجھتا گیا اور وہ ہند چینی بھائی بھائی کا جو نعرہ پہلے نہرو نے خود دیا تھا اس کو بالکل الٹ کردیا۔ بھارت نے تبت کے مسئلے پر چینی علاقے کے مذہبی پیشوا دلائی لامہ کو بھارت میں سیاسی پناہ دینے کے علاوہ لداخ کے علاقے میں چین سے با قائدہ جنگ کی جس میں بھارت کو شکست کا سامنا کر نا پڑا، مگر بھارت نے امریکہ کو یہ باور کرا دیا کہ وہ کیمونزم کا دوست نہیں ہے اور اپنی خارجہ پالیسی کو متوازن رکھتا ہے۔ یہ دور چین کے لیے ایک مشکل دور تھا آزادی کے اتنے برس گذر جانے کے باوجود اقوام متحدہ کی رکنیت اور اس میں ویٹو پاور سے عوامی جمہوریہ چین محروم تھا دوسری جانب سوویت یونین اُسے اپنا خاشیہ بردار رکھنا چاہتا تھا۔

1964 میں چین نے ایٹمی دھماکہ کر کے امریکہ ،سوویت یونین ،بر طانیہ اور فرانس کے بعد دنیا کی چوتھی ایٹمی قو ت ہونے کا اعلان کر دیا۔ یہ وہ دور ہے جب صدر ایوب خان کی کابینہ میں ذوالفقار علی بھٹو وزیرخارجہ تھے۔ 1947 سے 1962 تک بھارت، چین، سوویت یونین کے تعلقات مثالی تھے تو پاکستان کے پاس خارجہ پالیسی کے اعتبار سے اس کے علاوہ کو ئی راستہ نہیں تھا کہ وہ امریکہ ،برطانیہ اور فرانس سمیت اِن مغربی قوتوں سے تعلقا ت کو بہتر سے بہتر کرنے کی کوشش کرئے کے اُس کے ہمسائے میں یہ تین بڑے ملک آپس میں دوست تھے۔

یہی وجہ تھی کہ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور دیگر مغربی ممالک پاکستان کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرتے رہے۔ چین ، بھارت جنگ کے بعد پاکستان کو موقع مل گیا کہ وہ اپنے ہمسائے میں ایسی طاقت سے تعلقات بڑھائے جس کی سرحدیں بھارت سے بھی ملتی ہیں، یوں پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کو پہلی بار متوازن کرنے کی کامیاب کو شش کی۔ ویت نام کی جنگ جب انجا م کو پہنچ رہی تھی تو سوویت، چین تعلقات میں تناو پیدا ہونے لگا۔

چین کے اشتراکی نظام کی انفرادیت یہ ہے کہ اس میں مارکس اور لینن کے بنیادی فلسفے کے ساتھ چین کے معاشرتی تناظر میں ماوء زے تنگ کا اپنا فلسفہ اور تعلیمات بھی شامل تھیں یوں چینی کیمونزم کو ’ماوء ازم‘ کہا جانے لگا اور اِن تعلیمات پر عمل پیرا ماویسٹ کہلا نے لگے، یوں چین کی اپنی الگ شناخت بن گئی تھی جس کو سوویت یونین کے لیڈروں  خرو شیف اور برزنیف نے دل سے قبول نہیں کیا، اسی لئے سوویت یونین نے وارسا پیکٹ اور دیگر ملکوں کے ساتھ چین کے جنگ میں اہم ترین کرادر کو رد کر دیا۔

سوویت یونین کا اشتراکی نظریاتی اثر عالمی سطح پر اس لیے بھی زیادہ تھا کہ وہ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں امریکہ ، بر طانیہ ، فرانس اور جمہویہ چین،،تائیوان،، کے مقابلے واحد ویٹو پاور تھا یوں ایک جانب تو وہ خالص اشتراکی ممالک تو سویت یو نین کے ساتھ ہی تھے تو دوسری جانب بھارت ، مصر اور ایسے کئی ملک تھے جو سیکو رٹی کو نسل میں اپنے موقف کے لیے سوویت یونین کے ویٹو پارو کی ضروت محسو س کر تے تھے جیسے بھارت مسئلے کشمیر پر، اس لیے چین کے مقابلے میں سوویت یونین کی اہمیت خارجی سطح پر زیاد ہ تھی۔ یوں اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اُس وقت ماوزے تنگ کو کتنے مشکل حالات کا سامنا تھا۔

اُس وقت عوامی جمہوریہ چین کے مقابلے میں آج کا ،،تائیوان ،،جس کا آج رقبہ 36191 مربع کلو میٹر ہے اور آبادی 23063027 ہے اس کا پرانا نام فارموسا تھا، اسے پورے چین کی بنیاد پر ویٹو پاور دیا گیا تھا۔ 1969 تک کوریا اور ویتنام کی جنگوں ،چین کے عظیم قحط، افیونچیوں کے خلاف اقدامات اور انقلاب مخالف افراد کے خلاف کاروائیوں میں بعض اعدادو شمار کے مطابق آٹھ کروڑ تک چینی ہلاک ہوئے تھے۔

1964 میں چین کے ایٹمی دھماکے کے بعد چینی عوام میں ملکی دفاع کے اعتبار سے اعتماد آگیا تھا اور پا کستان سمیت کئی ممالک کے چین سے تعلقات قائم ہو گئے تھے اور دوسری جانب امریکہ، برطانیہ ،فرانس اور سویت یونین بھی اس بات کا دارک کر چکے تھے کی ماوء ز ے تنگ کی بے مثال قیادت میں جس منظم انداز سے چین آگے بڑھ رہا ہے تو اس کو اقوام متحدہ کی رکنیت کے لحاظ سے مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکے گا۔

بھارت کی کوشش تھی کہ چین کو ویٹو پاور اور اقوام متحدہ کی رکنیت سے محروم رکھا جائے سوویت یونین بھی اس معاملے میں غیر سنجیدہ تھا کہ وہ20 برسوں سے چین کی حمایت اور فوجی تعاون سے جنگیں بھی لڑتا رہا اور پھر بھی اقوام متحدہ میںچین کو اُ س کا جائز مقام نہیں دلا سکا تھا اس موقع پر پاکستان نے اپنا موثرکر دار ادا کیا اگرچہ جب پا کستا ن نے چین سے تعلقات قائم کئے تھے تو اُس وقت امریکہ ، بر طانیہ نے اِن تعلقا ت کو اچھا نہیں سمجھا تھا۔ 1970 میں جب ا قوام متحدہ کو قائم ہو ئے 25 برس ہو رہے تھے تو پا کستان کی جانب سے یہ کوشش جاری تھی کہ امریکہ اور چین ایک دوسرے کے قریب آئیں یہ وہ دور ہے جب سوویت یونین کے ساتھ بھی چین کے سرحدی تنازعات سامنے آگئے تھے۔

چین نے اشتراکی نظریات کی بنیاد پر آزادی کے فوراً بعد سوویت یونین کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر سوویت یونین سے کہیں زیادہ جانی قربانیاں خصوصاً کوریا اور ویتنام میں دی تھیںلیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ 1971 کے بعد عالمی سطح پر سرد جنگ میں چین نے عموماً اپنی پوزیشن کو متوازن رکھا جولائی 1971 میں امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے پا کستان سے پی آئی اے کے طیارے میں چین کا خفیہ درہ کیا جو اصل میں امریکی صدر نیکسن کے دورے اور امریکہ چین تعلقات بحالی کے لیے تھا۔ اس کے بعد ہی صدر نکسن نے بھی چین کا دور ہ کیا اور دیوار چین بھی دیکھی اور اس موقع پر چین کو اُوپن کر نے کی بات بھی ہو ئی اور امریکہ سمیت اس کے دائرہ اثر میں رہنے والے ممالک اس پر آمادہو ئے کہ جمہوریہ چین کی جگہ اب عوامی جمہوریہ چین کو اقوام متحدہ میں نمائنندگی دی جائے۔

25 اکتوبر 1971 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں البانیہ نے قرارداد نمبر2758 پیش کی جس میں جمہوریہ چین (تائیوان) کی جگہ عوامی جمہوریہ چین کو نمانیدگی دی گئی یوں 1945 سے 1971 اکتوبر تک جمہوریہ چین اقوام متحدہ میں پورے چین کی نمانیدگی کر رہا تھا۔

یہ بہرحال اقوام متحدہ کی ایک ایسی ناانصافی تھی جس کو  آخر اسی اقوام متحدہ نے تسلیم کیا مگر یہ تلخ حقیقت ہے کہ عالمی سیاست میں بہت سے ایسے مواقعے آتے رہے ہیں جب بڑی قوتوں نے صرف اپنے مفادات کو سامنے رکھا اور اس دوران لاکھوں کروڑوں افراد ہلاک ہو ئے۔ ،9 ستمبر1976 کو ماو زے تنگ کا انتقال ہوا ، اُس وقت تک ماوزے تنگ چین کو پوری دنیا میں اُس کی بھر پور شناخت اور ایشیا کی منفرد قوت کے لحاظ سے تسلیم کر واچکے تھے۔                      (جاری ہے)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔