چھ فٹ کا فاصلہ

ظہیر اختر بیدری  ہفتہ 23 مئ 2020
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

[email protected]

زندگی میں بعض اوقات ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں ، جس کا انسان تصور تک نہیں کر سکتا۔ آج دنیا ایسے ہی حالات سے گزر رہی ہے جس کا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ کورونا ایک اتنا چھوٹا وائرس جو کھلی آنکھوں سے ہی نہیں ، دوربین کی آنکھوں اور خورد بین سے بھی نظر نہیں آتا لیکن یہ وائرس موجود ہے جو اب تک لاکھوں انسانوں کی جانیں لے چکا ہے۔

بلاشبہ اب تک کوئی انسان اس کو دیکھ نہیں سکا لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ یہ وائرس موجود نہیں۔ جب تک اس وائرس کو دیکھا نہیں جائے گا اگر دیکھا گیا تو اس کی جانچ پڑتال یعنی تحقیق نہیں کی جائے گی اس وقت تک اس سے نجات پانا مشکل ہے۔ ہمارے ملک میں ہر شعبہ کے ماہرین اور محققین موجود ہیں اور تحقیق کے ذریعے ایسے انکشافات کر رہے ہیں جن کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

بلاشبہ ہم جس وبا سے دوچار ہیں اس وبا کی ذمے داری کورونا وائرس پر ہی عائد ہوتی ہے، اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ اس وائرس کو ابھی تک دیکھا نہیں گیا۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس کا کوئی وجود نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ محققین سب سے پہلے اسے دیکھنے کی کوشش کریں ہم نہ کوئی محقق ہیں نہ تحقیق کے شعبے سے ہمارا کوئی تعلق ہے لیکن کامن سینس کہتا ہے کہ کوئی چیز خواہ حجم میں کتنی ہی چھوٹی ہو اگر وہ نقصان پہنچا رہی ہے تو اس کا وجود ثابت ہو جاتا ہے وائرس نقصان پہنچا رہا ہے نقصان بھی ایسا ویسا نہیں بلکہ اب تک لاکھوں زندگیوں کی بھینٹ لے چکا ہے۔ بلاشبہ اس پر تحقیق ہو رہی ہے اور اس وائرس کے خاتمے کے لیے ویکسین بنانے کی سر توڑ کوشش بھی کی جا رہی ہے۔

ہم نے اس بات کی پہلے ہی وضاحت کر دی ہے کہ ہمارا کسی حوالے سے بھی کسی تحقیق سے کوئی تعلق نہیں لیکن فطرت نے ہمیں جو دماغ دیا ہے اس کا یہ مطالبہ ہے کہ جو چیز نقصان یا فائدہ پہنچا سکتی ہے اس کا وجود ثابت ہو جاتا ہے جب کسی چیز کا وجود ثابت ہو جاتا ہے تو خواہ وہ اپنے حجم میں کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو وہ دیکھی جا سکتی ہے اگر ہماری رائج الوقت دوربینوں سے یہ وائرس دیکھا نہیں جا سکتا تو ایسی کوئی دوربین بنانے کی کوشش کی جائے جو وائرس کو دکھا سکے ہماری معلومات اس حوالے سے صفر سے زیادہ نہیں۔

اس وائرس کو دیکھنے کی ممکنہ کوشش کی جائے۔ اس ویکسین کو بنانے میں اب تک کامیابی نہیں ہو سکی لیکن امید ہے کہ جلد یا بدیر انسان اس ویکسین کو بنانے میں کامیابی حاصل کر لے گا۔ یہ ایک منطقی خیال ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے ’’حکما‘‘ فرما رہے ہیں کہ اب ہمیں اس وبا یعنی کورونا کے ساتھ ہی زندہ رہنے کی کوشش کرنا ہو گی۔ اس حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ وائرس جہاں ہو گا وہاں موت ہو گی، جب حقیقت یہی ہے تو پھر انسان اس عفریت کے ساتھ کیسے زندہ رہ سکتا ہے؟

اگر اس زندہ رہنے کا مطلب احتیاط ہے تو ہماری قوم اب تک جس احتیاط کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ ماشا اللہ اس احتیاط کے ساتھ انسان مر تو سکتا ہے زندہ نہیں رہ سکتا۔ جو احتیاط ہمیں بتائی جا رہی ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان سے چھ فٹ کے فاصلے پر رہے یعنی دو انسانوں کے درمیان چھ فٹ کا فاصلہ رہنا چاہیے۔

واہ بھئی واہ! اس حوالے سے صرف ایک مثال پیش ہے ہمارے ملک خصوصاً کراچی جیسے بڑے شہر یا شہروں میں روڈ ٹرانسپورٹ کا عالم یہ ہے کہ بسوں، منی بسوں حتیٰ کہ ریلوے کے مسافروں کا حال یہ ہے کہ وہ بسوں اور ٹرینوں میں اس طرح ٹھنسے ہوئے ہوتے ہیں کہ سانس لینا دشوار ہوتا ہے ۔ اس دردناک حقیقت کے پیش نظر عوام سے یہ امید کرنا کہ وہ ایک دوسرے کے درمیان چھ فٹ کا فاصلہ رکھیں ایسی بات ہے کہ اس پر ہنسی بھی آتی ہے اور رونا بھی آتا ہے۔

اس کے برخلاف ’’ایلیٹ‘‘ کی ٹرانسپورٹ کا عالم یہ ہے کہ ’’صاحب‘‘ جب دفتر یا اپنے کاروبار کے لیے نکلتے ہیں تو لمبی چوڑی کار میں جس میں چار چھ انسان آسانی سے سفر کر سکتے ہیں صرف ’’صاحب‘‘ اکیلے سفر کرتے ہیں اور گھر کے ہر فرد کی اپنی ایک قیمتی کار ہوتی ہے اور ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ بسوں، منی بسوں اور ٹرینوں میں سفر کرنے والوں کو یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ یہ لمبی لمبی کاریں جس میں پانچ چھ انسان آرام سے سفر کرسکتے ہیں ان کی محنت کی کمائی سے خریدی ہوئی ہیں اور وہی ان لمبی لمبی کاروں کے حقیقی مالک ہیں۔ ہماری ایلیٹ کیا ان تلخ حقائق کا ادراک کرتی ہے۔ ان عوام دشمنوں کو تو کورونا وائرس کے سامنے ڈالنا چاہیے تو بھائیو! احتیاط کرو، دو انسانوں کے درمیان چھ فٹ کا فاصلہ رکھو۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔