طیارہ حادثہ؛ انجن کی رن وے پر رگڑ کے نشانات سامنے آگئے

ویب ڈیسک  اتوار 24 مئ 2020
رن وے پر مختلف چار مقامات پر پیچز اکھڑے ہوئے ملے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

رن وے پر مختلف چار مقامات پر پیچز اکھڑے ہوئے ملے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

کراچی: طیارہ حادثے کی تحقیقات کے دوران رن وے 25 .L پر طیارے کے انجن کی رگڑ کے نشانات ملے ہیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پی آئی اے طیارہ حادثہ تحقیقات میں پیش رفت سامنے آئی ہے، تحقیقات کے دوران رن وے 25 .L پر طیارے کے انجن کی رگڑ کے نشانات ملے ہیں، رن وے پر مختلف چار مقامات پر پیچز اکھڑے ہوئے ملے ہیں۔

یہ پڑھیں: ’’جہاز کے ملبے سے اللہ اکبر کی صدائیں آتی رہیں‘‘ عینی شاہد

ذرائع کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کی تحقیقات کے لیے متعین کردہ 4 رکنی تحقیقاتی ٹیم نے عید کے روز بھی تحقیقات کا کام جاری رکھا، اس دوران ٹیم نے جائے حادثہ اور جناح ٹرمینل ائرپورٹ رن وے کا دورہ کیا، رن ون کی مختلف زاویوں سے تحقیقات کی ، رن وے پر جہاز کی بیلی لینڈنگ اور انجن کے نشانات کے ثبوت حاصل کیے۔

یہ بھی پڑھیں: طیارے کے ملبے سے 3 کروڑ 16 لاکھ روپے سے زائد رقم برآمد

سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر اور ایڈیشنل ڈپٹی ڈی جی نے ٹیم کوفنل ایریا (جہاز کے ٹیک آف اور لینڈنگ کا مقام) کے دونوں کیمروں کی ریکارڈنگ بھی تحقیقاتی ٹیم کے حوالے کی۔

فوٹیجز میں دیکھا گیا کہ کپتان نے لینڈنگ کرتے ہوئے جہاز کے گیئر کو ڈاؤن نہیں کیا،  طیارے کے پہلے انجن کو زمین پر رگڑ لگی اس کے بعد دوسرے انجن نے رگڑ کھائی اور بعد میں دونوں انجن رگڑتے گئے اور طیارہ اوپر کی جانب اٹھا۔

فوٹیج سے پتا چلتا ہے کہ کپتان نے جہاز کو بیلی لینڈنگ (پیٹ کے بل) اتارنے کی کوشش کی تو جہاز کے انجن رن وے سے ٹکرائے اور چنگاریاں نکلیں۔ رفتار زیادہ ہونے پر کپتان نے جہاز کو گو راؤنڈ آپشن کے تحت دوبارہ  لے جانے کا فیصلہ کرتے ہوئے ٹیک آف کیا، گو راؤنڈ کے دوران طیارہ 13 منٹ تک فضاء میں رہا اس کے بعد گر کر تباہ ہوگیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔