گردوں کو ناکارہ ہونے سے کیسے بچائیں؟

 ڈاکٹر حکیم وقار حسین  جمعرات 28 مئ 2020
جو چیزیں جگر کو نقصان دیتی ہیں وہ لازمی گردوں کو نقصان پہنچاتی ہیں ۔  فوٹو : فائل

جو چیزیں جگر کو نقصان دیتی ہیں وہ لازمی گردوں کو نقصان پہنچاتی ہیں ۔ فوٹو : فائل

علم طب میں گردہ کو عضو ِمرؤس (خادم عضو ) کہا جاتا ہے۔چنانچہ گردے کے مقام اور افعال سے واقف ہونا لازم ہے۔

٭گردے کا مقام

پشت میں ریڑھ کے مہروں کے دائیں اور بائیں  جانب ، حجابِ حاجز (ڈایافرام) کے نیچے واقع ہیں ،ان کی شکل مونگ پھلی سے ملتی ہے، سائز 11cm x 7cm x 3cm ہوتا ہے۔

٭انسانی جسم میں گردے کا کردار

1۔ زہریلے موادکوخون سے چھاننا۔

2۔ برق پاشیدوں ( الیکٹرولائٹس) کا توازن قائم رکھنا،واضح رہے کہ ان کی خرابی سے بلڈ پریشر کا توازن خراب ہو جاتا ہے۔

3۔ خاص ہارمونز پیدا کرنا  ’اِرایتھروپوئی ٹین ‘( یہ جسم میں سرخ خلیات پیدا کرنے میں مدد دیتے ہیں)۔

4۔ جسم میں تیزابیت اور قلویت ( ایسیڈیٹی اور الکلائنٹی) کا توازن قائم کرنا۔

5۔وٹامِن ڈی کا استحالہ (میٹابولزم)۔

٭گردے کی کمزوری:

جس انسان کا گردہ کمزور ہو گا، اس میں مذکورہ بالا افعال بھی ٹھیک طرح  نہیں ہوسکیں گے، لہذا گردے کے مقام پر ورم پیدا ہوجاتا ہے، اور کمر پر ہلکی سوجن محسوس ہو تی ہے،علاوہ ازیں ٹانگ میں درد  اور پیشابکی مقدار میں فرق ہونے لگتا ہے۔

٭گردے کی کمزوری کی علامات

ابتدائی علامات:

1۔وزن میں کمی، 2۔ متلی، 3۔ قے،4۔ تھکان، 5۔ سر درد، 6۔ ہچکیاں،7۔ خارش۔

بعد کی علامات (اگر دھیان نہ دیا جائے تو):

1۔ بول کی مقدار کا بڑھنا یا گھٹنا، 2۔ رات بول کے خاطر بار بار اٹھنا، 3۔ خون کا دیر سے جمنا، 4۔ قے یا براز یا دونوں میں خون، 5۔ منہ سے بدبو آنا،6 ۔جسمانی عضلات میں کھچاؤ، 7۔ ٹانگوں میں دھکن،8 ۔سستی،9 ۔ جلد کی رنگت میں تبدیلی،10 ۔ برق پاشیدوں  کے توازن میںخرابی کی وجہ سے بلڈ پریشر ، 11۔گھبراہٹ اور ہاتھ پاؤں کا جلنا۔

٭گردے فیل کیوں ہوتے ہیں؟

جو چیزیں جگر کو نقصان دیتی ہیں وہ لازمی گردوں کو نقصان پہنچاتی ہیں، کیونکہ گردے جگر کا فضلہ خارج کرتے ہیں۔یہی امور گردہ فیل کرنے میں معاون ہیں۔ نقصان دینے والی چند اشیا یہ ہیں:

1۔ سگریٹ نوشی، 2۔کچلہ کی زیادہ مقدار، 3۔  میلا پانی پینا (آج کل اکثر گھروں میں میلا پانی فراہم کیا جاتا ہے لہذا فلٹرڈ پانی پیئیں)،  4۔گرم موسم میں گرم مصالحہ جات کا بکثرت استعمال،5۔  شراب نوشی، 6۔ پروٹین والی غذا کا زیادہ استعمال، 7۔ بلڈ پریشر کے مریضوں کا گردے کی طرف توجہ نہ دینا  ( اکثر ایسے مریضوں کو موٹاپے اور دل کی ادویہ دی جاتی ہیں مگر گردے پر توجہ نہیں دیتے)۔

٭گردہ فیل ہونے کی علامات

گردے ناکارہ ہونے سے پہلے کئی علامات کا اظہار کرتے ہیں ، جن میں گردے کی کمزوری پہلے ہوتی ہے۔ البتہ گردہ فیل ہو جائے تو جسم میں شدید زہر پھیل جاتا ہے، جس کے نتیجے میں دل، جگر اور پھیپھڑے بُری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ یرقان، جسم میں پانی بھرنا، پیٹ کا سوجنا ، کمر اور ٹانگوں میں شدید درد ، بینائی کی کمزوری ، خراب خیالات کیونکہ زہریلا مادہ دماغ میں سرایت کرجاتا ہے، سر میں شدت کا درد اور چکر، بلڈ پریشر کے توازن میں خرابی، چوٹ میں پیپ پڑنا، قے ، کھانے کی نالی میں تنگی ، بخار ، زبان کی میلی رنگت ، بول کی انتہائی بدبودارمقدار، جھٹکے پڑنا، خون میں کمی ، پانی کی کمی (پئیے جانے والا پانی خلیات کے درمیانی جگہ جمع ہو کر جسم کو پھلا دیتا ہے، پیاس برقرار رہتی ہے)۔

٭گردہ فیل ہونے لگے تو کیا کریں؟

جیسے ہی گردہ فیل ہونے کی علامات ظاہر ہوں، خصوصاً کمر کے درمیانی حصے میں درد  ہو تو لیب ٹیسٹ کرائیں۔ اور بول آور جڑی بوٹیاں استعمال کریں بالخصوص  ’بچھو پھل کا قہوہ   پیئیں۔ یہ قہوہ یورک ایسڈ میں مفید ہے۔ اگر انفیکشن ہو تو مناسب  ’یو ۔ٹی۔آئی ‘ ادویہ لیں،  مثلاََ  ’ آفلاکسا سین 200 ملی گرام  ‘ کا کورس کریں۔

٭گردے کی صحت کا خیال کیسے رکھیں؟

گردے کی صحت کیلئے رات میں پیاسا نہیں رہناچاہیے، کیونکہ دن میں پیئے جانے والا پانی جسم میں خون کی مقدار اور رقت کو توازن میں رکھتا ہے، مگر اس سے بول کی خاص مقدار نہیں بنتی، جبکہ شام کو پیئے جانے والا پانی بول کی زیادہ مقدار بناتا ہے، یعنی اس پانی کا گردے سے گزر ہوتا ہے۔ہفتے میں ایک مرتبہ نمکول کا استعمال صحت مند افراد کیلئے مفید ہے جبکہ بلڈ پریشر کے مبتلا افراد کو شہد کا استعمال پانی میں ملا کر (ماء العسل) ضرور کرنا چاہیے۔دواء کا استعمال ذیابیطس کے مریضوں کو ہفتے میں ضرور کرلینا چاہیے ،کیونکہ اس مرض میں گردے اور قوتِ باہ کو بہت نقصان ہوجاتا ہے، حلتیت ، انیسون رومی ،بسکپھرا کا قہوہ ہفتہ  وار ضرور پینا چاہیے۔ مہینے میں ایک بار ’  آر ۔ ایف۔ ٹی ‘  اور  ’یو ۔ٹی۔آئی ‘  ٹیسٹ ضرور کرائیں، اکثر  بول کے انفکشن سے گردے فیل ہوتے ہیں۔

٭گردہ فیل ہونے کا علاج

پاکستان میں ہر 10لاکھ  افراد میں سے 100سے زیادہ لوگ اس مرض کا شکار ہیں۔ گردہ ناکارہ ہوجائے تو گردے کا کام مصنوعی انداز میں’ڈایالیسس‘ سے لیا  جاتا ہے۔ ’ڈایالیسس‘  سے پہلے یہ ادویہ استعمال کریں:  ریوند خطائی،  سوما کلپا،  دارچینی،  پینیکس جنسنگ کی جڑ،  ملٹھی،  سلائیبم میری اینم،  بچھو پھل، گوٹو کولا (نہ ملے تو برہمی بوٹی)۔   جب گردوں کا کام صرف 10سے 20 فیصد رہ جائے تو گردے کا فیل ہونا گردانا جاتا ہے۔ لہذا   ڈایالیسس سے پہلے ڈیڑھ ہفتہ یہ ادویہ استعمال کریں۔ ’ڈایالیسس‘ خون کو صاف کرتا ہے۔

جسم کو صحت کے قریب رکھنے کیلئے  ’ڈایالیسس‘ مدد دیتا ہے جبکہ یہ ادویہ قدرتی’ڈایالیسس‘  ہیں۔ اگرایک ہفتے میں تھوڑا سا فرق بھی محسوس ہو تو انہی کو جاری رکھیں،  ’ڈایالیسس‘  نہ کرائیں۔ ’ڈایالیسس‘  غیر ضروری نمکیات اور دوسرے زہریلے موادکو جسم میں جمع نہیںہونے دیتا ورنہ یہ جسمانی اعضاء کو نقصان پہنچاتے ہیں۔اکثر ’ہیموڈایالیسس‘ کا طریقہ استعمال کیا جاتا ہے، اس میں یہ مشین زہریلے مواد اور غیر ضروری پانی کو خون سے خارج کرتی ہے۔ خون کو جسم سے خارج کیا جاتا ہے اور مشین اس خون کو چھانتی ہے، چھنا ہوا خون مشین جسم میں واپس ڈال دیتی ہے۔

٭فیل گردے کے لیے قدرتی ادویہ:

کیونکہ گردہ کلّی طور پر ناکارہ نہیں ہوتا ، اور نہ گردے جراحت کر کے الگ کیے جاتے ہیں ، ایسی اشیاء جن میں بول خارج کرنے کی صلاحیت پائی جائے مفید ہوتے ہیں۔ پانی ایسے مریضوں کو نہیں پلایا جاتا یا کبھی حالاتِ جسم کے پیش نظر تھوڑا دیا جاتا ہے،   ’ڈایالیسس‘  کے دوران ان ادویہ کو چبانا قوتوں کو بحال بھی رکھتا ہے اور گردے کو خود کام پر آمادہ بھی کرتا ہے۔

بسکھپرا، انیسون رومی ، سونف، حلتیت، گھوکھرو خورد (سفوف) مغز فندق، مغز بادام ان اجزاء میں بہت سارے برق پاشیدیں ہیں اور ساتھ ہی گردے کو قوت بھی دیتے ہیں ، جسم سے زہریلہ مواد ، غیر ضروری پانی کو خارج کرتے ہیں ۔

انتباہ:  یاد رکھیں کہ زیادہ مقدار میں صرف پانی پینا گردے کی صحت کا ضامن نہیں بلکہ مناسب اجزاء جو  اِس پانی کو جذب کرنے میں معاون ہوں ، بھی استعمال کرنے چاہیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔