حالیہ بھارت چین کشیدگی کا منظر نامہ

مزمل سہروردی  جمعـء 29 مئ 2020
msuherwardy@gmail.com

[email protected]

بھارت اور چین کے درمیان لداخ اور اس کے ملحقہ علاقوں پر مبنی سرحدی تنازعہ کوئی نیا نہیں ہے۔ دونوں ممالک انھی سرحدی تنازعات پر 1962میں ایک جنگ بھی لڑ چکے ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان سرحدی تنازعات کی موجودگی کے باوجود دونوں ممالک کی سرحدوں پر 1975سے اب تک دونوں ممالک کے درمیان ایک گولی بھی نہیں چلی ہے۔

تازہ سرحدی تنازعات اور دونوں ممالک کے درمیان لداخ اور اس کے ملحقہ علاقوں میں فوجوں کے stand off کے باوجود ابھی تک ایک گولی بھی نہیںچلی ہے۔ دونوں طرف سے ڈنڈوں اور پتھروں کا استعمال کیا گیا ہے۔ دونوں ممالک اس ضمن میں ایک خاموش معاہدہ پر عمل پیرا ہیں جس کے تحت وہاں گولی اور دیگر اسلحہ کا استعمال نہیں کیا جاتا۔

اس کے مقابلے میں پاکستان اور بھارت کے سرحدی تنازعات میں تو بات شروع ہی گولی اور بھاری توپ خانے کی گولہ باری سے ہوتی ہے۔یہ درست ہے کہ بھارت کا پاکستان کے سرحدی تنازعات پر رویہ اور حکمت عملی چین کے ساتھ سرحدی تنازعات پر بہت مختلف ہے۔ پاکستان کے ساتھ سرحدی تنازعات کے ساتھ بھارت کی قیادت لفظی گولہ باری بھی شروع کر دیتی ہے۔ جنگی ماحول پیدا کرنے والے بیان دیے جاتے ہیں جب کہ چین کے ساتھ ایسا نہیں کیا جاتا۔ اب بھی جب دونوں ممالک کے درمیان ایک ماہ سے فوجوں کا Stand offجاری ہے۔

بھارت یہ بھی الزام لگا رہا ہے کہ چین بھارتی علاقہ میں آگیا ہے تب بھی بھارت کی جانب سے مکمل خاموشی ہے۔ ابھی تک بھارت کے دفتر خارجہ نے ایک بیان بھی جاری نہیں کیا۔ جب کہ چین کے دفتر خا رجہ کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے۔ بھارت میں میڈیا شور مچا رہا ہے کہ چین بھارتی علاقہ میں گھس آیا ہے لیکن ابھی تک چین کے سفیر کو بلا کر احتجاج بھی نہیں کیا گیا۔

یہ درست ہے کہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے تینوں فوجی سربراہان سے چند دن قبل طویل اجلاس کیا ہے۔ لیکن نہ تو اس اجلاس کے بعد کوئی اعلامیہ جاری کیا گیا ہے اور نہ ہی مودی نے کوئی بیان جاری کیا ہے۔ اگر یہی صورتحال پاکستان کے ساتھ ہوتی تو اب تک شور مچ گیا ہوتا۔ لیکن چین کے ساتھ بھارت تحمل اور صبر سے کام لے رہا ہے۔اب تک کی بھارتی حکمت عملی واضح ہے کہ بھارت چین کے ساتھ کسی بھی قسم کی جنگ سے بچنا چاہتا ہے۔ بھارت کی کوشش ہے کہ معاملہ کو بیک چینل ڈپلومیسی کے ذریعے سنبھالا جائے۔

اس وقت بھارت اور چین کے درمیان چار مقامات پر کشیدگی موجود ہے۔ تین مقام لداخ میں ہیں جو کشمیر کے ساتھ ہے۔ بھارت نے حال ہی میںجب کشمیر کا خصوصی اسٹیٹس ختم کیا تھا تب لداخ کو بھی کشمیر سے علیحدہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم بھارت اور چین کے درمیان اس وقت لداخ کے تین اہم مقامات پر شدید سرحدی کشیدگی اور تنائو موجود ہے۔ تاہم چوتھا مقام NUKU La Passہے جو بھارت کی ریاست سکم اور چینی علاقہ تبت کے درمیان ہے۔ بھارت اور چین کے درمیان تبت کو لے کر ایک اختلاف موجود رہا ہے اس تناظر میں یہ مقام اور اس پر کشیدگی بہت اہم ہے۔

چین تبت کو اپنا اٹوٹ انگ کہتا ہے جب کہ بھارت نے تبت کی خود ساختہ جلا وطن حکومت کے سربراہ دلائی لامہ کو پناہ دی ہوئی ہے۔ لیکن اس تنازعہ کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان 92بلین ڈالرز کی تجارت ہو رہی ہے اور چین نے بھارت میں بھاری سرمایہ کاری بھی کی ہوئی ہے۔ چین کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس کا نوے ہزار کلومیٹر کا علاقہ بھارت کے کنٹرول میں ہے۔ جس کو چین واپس لینا چاہتا ہے۔ اس صورتحال میں بھارت اور چین کے درمیان دو طرح کا بارڈر موجود ہے۔ ایک Line of Actual Controlدوسرا چین کے مطابق CCL ( chineese claim of land)ہے۔

بھارت اور چین کے درمیان لداخ میں Pangong جھیل پر بھی تنازعہ ہے۔ 134کلومیٹر لمبی اس جھیل کے دو تہائی حصہ پر اس وقت چین کا قبضہ ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس جھیل پر کشیدگی رہتی ہے۔ یہ جھیل اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ لداخ سے تربت کو ملاتی ہے۔ اس جھیل کے ساتھ مختلف مقامات کو فنگرز کہا جاتا ہے۔ بھارت کا موقف ہے کہ سرحد فنگر نمبر 2سے شروع ہوتی ہے جب کہ چین کا موقف ہے سرحد فنگر نمبر8سے شروع ہوتی ہے۔

کارگل کے موقع پر جب بھارت نے یہاں اپنی تمام فوج پاکستان سے لڑنے کے لیے نکال لی تو چین نے فنگر نمبر 4پر ایک سڑک تعمیر کر لی تھی جس کی وجہ سے چین کو یہاں گاڑیوں سے پٹرولنگ کرنے میں آسانی ہو گئی ہے۔آپ کہہ سکتے ہیں کارگل سے چاہے پاکستان کو کوئی فائدہ ہوا تھا یا نہیں لیکن چین کو یہ سڑک بنانے کے حوالہ سے فائدہ ضرور ہوا تھا۔ اور چین کی پوزیشن بھی مستحکم ہو گئی تھی۔ تب سے بھارت اس کے جواب میں گزشتہ کئی سال سے فنگر نمبر2کے قریب سڑک بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ جس پر چین کو سخت تحفظات ہیں اور چین نہیں چاہتا کہ بھارت یہ سڑک بنائے۔ کیونکہ اس کے بعد بھارت بھی اس علاقہ میں گاڑیوں سے پٹرولنگ کرنے کی پوزیشن میں آجائے گا۔

اسی لیے چین نے اب فنگر نمبر3کے مقام کے قریب اپنی فوج کی تعداد میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے وہاں فوجی بنکر بنا دیے ہیں تا کہ بھارت کو اس سڑک بنانے سے روکا جا سکے۔ چینی فوجوں کا فنگر نمبر3تک پہنچنے کو بھی بھارت کہہ رہا ہے کہ چین بھارتی علاقہ میں گھس آیا ہے۔بھارت کی یہاں پوزیشن اب بہت کمزور ہوتی جا رہی ہے، اگر بھارت یہ سڑک نہ بناسکا تو یہ جھیل اس کے ہاتھ سے چلی جائے گی۔

گالوان ویلی 1962سے پرامن رہی ہے۔ یہ وہ واحد علاقہ ہے جہاں چین کا CCLاور LACتقریباً ایک ہی ہے۔ اس لیے سرحدی تنازعہ نہیں ہے۔ تاہم بھارت اس علاقہ میں LAC کے قریب سڑکیں بنا رہا ہے جس پر چین کو سخت تحفظات ہیں۔ چین کا موقف ہے ان سڑکوں کی تعمیر سے بھارت کو علاقہ میں برتری حاصل ہوجائے گی۔ سڑکوں کی تعمیر کو روکنے کے لیے چین نے وہاں اپنی فوجوں کی تعداد میں بھی اضافہ کر دیا ہے اور سڑکوں کی تعمیر رکوا دی ہے۔ اس وقت  یہ تو تسلیم کیا جا رہا ہے کہ چین لداخ میں گالوان ویلی کے مقام پر Line of Actual Controlسے تین کلومیٹر اندر آچکا ہے۔ جس کی وجہ سے یہ کہا جا رہا ہے کہ چین نے بھارتی علاقہ پر قبضہ کر لیا ہے۔ لیکن چین کا موقف ہے کہ وہ CCLکے مطابق اپنے علاقہ کے اندر ہے۔

بھارت کی حتی الامکان کوشش ہو گی کہ جنگ سے بچا جائے۔ لیکن اس بار چین نے جن علاقوں میں اپنی پوزیشن بہتر کی ہے وہ بھارت کے لیے خطرناک ہیں۔ سی پیک کے لیے بھی اہم ہیں۔ اور بھارت کو اسٹرٹیجک اعتبار سے کافی نقصان ہو رہا ہے۔ لیکن پھر بھی بھارت کے پاس لڑنے کا آپشن نہیں ہے۔ بھارت کو اندازہ ہے کہ چین سے لڑنے کے لیے پاکستان سے صلح ناگزیر ہے۔ اسی لیے جب کارگل کے موقع پر چین نے بھارتی قبضہ میں علاقہ پر قبضہ کیا اور سڑک بنائی تو بھارت خاموش رہا۔ کیونکہ وہ ایک ساتھ دو جنگیں لڑنے کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔ پاکستان اس سب علاقہ سے زیادہ دور نہیں ہے۔ اور کشمیر پر پاک بھارت کشیدگی کوئی نئی بھی نہیں ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔