ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی پرجرمانے بڑھانے کی تجویز

ارشاد انصاری  اتوار 31 مئ 2020
ودہولڈنگ ٹیکس اکٹھانہ کرنے پر جرمانہ 40 ہزار سے 70 ہزار کرنے کی سفارش (فوٹو: فائل)

ودہولڈنگ ٹیکس اکٹھانہ کرنے پر جرمانہ 40 ہزار سے 70 ہزار کرنے کی سفارش (فوٹو: فائل)

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)نے آئندہ مالی سال 2020-21کے وفاقی بجٹ میں ٹیکس قوانین کی خلاف ورزیوں پر جرمانوں کی شرح میں مزیداضافہ کرنے کی تجویزکاجائزہ لیناشروع کردیاہے۔

ایف بی آرفیلڈ فارمشنز کی جانب سے دی گئی تجویز کے مطابق ایف بی آرٹیموں کوروکنے، ریکارڈ تک رسائی نہ دینے والے ٹیکس دہندگان ،ویلتھ اسٹیٹمنٹس و ری کنسیلئیشن اسٹیٹمنٹس جمع نہ کروانے سمیت دیگر خلاف ورزیوں پر جرمانے لاگو ہونگے۔مختلف ٹیکس قوانین پر عملدرآمدنہ کرنے پرجرمانہ5ہزار سے بڑھا کر50ہزار کرنازیر غور ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے قبل رواں مالی سال کے بجٹ میں فنانس ایکٹ 2019 کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس کی سیکشن 182 میں متعدد ترامیم کی گئی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ حکومت کیلئے ود ہولڈنگ ٹیکس اکٹھا نہ کرنے والے ود ہولڈنگ ایجنٹس کیلئے جرمانہ کی شرح پچیس ہزار روپے سے بڑھا کر چالیس ہزار روپے کی گئی ہے اب اس شرح میں مزید اضافہ کرکے سترہزار روپے کرنے کی تجویز ہے۔

ویلتھ اسٹیٹمنٹس اور ری کنسلیئیشن اسٹیٹمنٹس جمع نہ کروانے والے ٹیکس دہندگان پر جرمانوں کی شرح ایک لاکھ سے بڑھا کر ڈیڑھ لاکھ روپے تک کرنے کی تجویز ہے۔رجسٹریشن نہ کروانے پر جرمانے دس ہزار سے پندرہ ہزار کرنے کی تجویز ہے۔اصل آمدن چھپانے پرجرمانہ ایک لاکھ سے بڑھا کر ڈیڑھ لاکھ روپے کرنے کی تجویزہے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔