موجودہ عالمی حالات اور ہماری خارجہ پالیسی

عثمان دموہی  اتوار 31 مئ 2020
usmandamohi@yahoo.com

[email protected]

پاکستان کی سفارتی محاذ پر کمزوری میاں نواز شریف کے دور سے شروع ہوئی اس وقت میاں صاحب نے خود ہی وزارت خارجہ کا قلم دان اپنے پاس رکھ لیا تھا مگر وہ اندرونی مسائل میں ایسے الجھے کہ خارجہ امور کی جانب توجہ دینے کے لیے وقت ہی نہ نکال سکے۔ سرتاج عزیز اس وقت مشیر خارجہ تھے۔

سفارتی محاذ پر ہماری سست روی سے بھارت نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ اسی وقت یمن میں ہماری طرف سے فوجیں نہ بھیجنے کے فیصلے سے اسے سنہری موقع ہاتھ آگیا۔ اس نے ہمارے اس فیصلے کو ایران کی جانب ہمارے جھکاؤ اور عربوں سے بے وفائی سے تعبیر کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے ممالک کو ہمارے خلاف بھڑکانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور اپنے مذموم مقاصد میں کامیابی حاصل کرلی۔ اس وقت ہم نے ایران سے تعلقات کو استوار رکھنے کو زیادہ اہمیت دی ۔

بھارت چاہ بہار بندرگاہ کو ایران سے لیز پر حاصل کرکے وہاں تیزی سے تعمیراتی کام آگے بڑھا رہا تھا۔ اسی دور میں کلبھوشن یادیو بلوچستان کے علاوہ کراچی میں دہشت گردی کی کمان سنبھالے ہوئے تھا۔ اسی نے دہشت گردوں کی تربیت کے کئی کیمپ قائم کرلیے تھے جہاں  نوجوانوں کو دہشت گردی کی تربیت دی جاتی تھی۔ اس وقت پورا بلوچستان دہشت گردی کی لپیٹ میں تھا۔ حالات یہاں تک دگرگوں ہوچکے تھے کہ وہاں اہم مقامات پر قومی پرچم تک لہرانا مشکل ہو گیا تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ موقع غنیمت جان کر اس وقت کی بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے  ایسی سفارت کاری کی کہ  عرب ممالک  کھل کر بھارت کی طرف داری کرنے لگے حتیٰ کہ انھوں نے او آئی سی میں بھارت کو مستقل ممبر بنانے کی مہم شروع کردی۔اور پھر یہ ہوا کہ مارچ 2019 میں ابو ظہبی میں منعقدہ او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں بھارت کو اپنی طرف سے شرکت کی دعوت دے دی۔

بھارتی وزیر خارجہ اس سنہری موقع کو ضایع کیے بغیر اپنے وفد کو لے کر اس اجلاس میں شریک ہوگئیں۔ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے یہ صورت حال دیکھ کر اس اجلاس کا بائیکاٹ کردیا مگر اس بائیکاٹ کو کوئی اہمیت نہ دی گئی اور سشما سوراج کو اجلاس سے خطاب کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ اماراتی وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں تمام ممبر ممالک سے بھارت کو او آئی سی کا مستقل ممبر بنانے کی اپیل کی مگر ترکی اور ملائیشیا نے اس کی مخالفت کی جس کی وجہ سے بھارت ناکام ہوگیا۔

ادھر ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد کوالالمپور کانفرنس کا آغاز کرچکے تھے جو مسلم امہ کے مفاد میں اپنی آواز بلند کرکے اکثر مسلم ممالک کو اپنی جانب متوجہ کرچکی ہے۔ یہ کانفرنس کئی سالوں سے کامیابی سے منعقد ہو رہی ہے۔ ترکی کے صدر اردوان بھی  کوالالمپور کانفرنس کی حمایت کر رہے تھے اور اب بھی حمایت کر رہے ہیں۔

کوالالمپور کانفرنس کے حالیہ دسمبر 2019 میں منعقدہ اجلاس میں  پاکستان شریک نہیں ہوا حالانکہ وزیراعظم  عمران خان  اس کانفرنس میں شرکت کے لیے بہت پرجوش تھے شرکت سے محروم رہے مگر  پاکستان  کی سفارتی محاذ پر کمزوری واضح ہوگئی ۔ ہمیں ہماری  خارجہ  پالیسی سے کچھ حاصل نہ ہو سکا نہ تو ایران سے ہی تعلقات مثالی ہو سکے اور عرب ممالک بھی ناراض ہوئے ۔

یہ بات درست ہے کہ سابقہ حکومت کے دور میں خارجہ پالیسی پر کوئی توجہ مرکوز نہیں کی گئی جس کی وجہ سے بھارت کو پاکستان کے خلاف سفارتی کامیابیاں حاصل ہوئیں مگر اس وقت بھی سفارتی سطح پر حالات پہلے جیسے ہی ہیں۔ اگرچہ امریکا سے کچھ تعلقات بہتر ہوئے ہیں مگر اس میں بھی افغان مسئلے کے حل میں ہماری محنت کا عمل دخل ہے۔

عرب ممالک سے اب بھی سرد تعلقات چل رہے ہیں ان پر اب بھی بھارت کی خارجہ پالیسی کا اثر موجود ہے۔  وہ کشمیر کو بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دے  رہے ہیں۔  جہاں تک او آئی سی کا تعلق ہے اس پر  عرب ممالک نے اپنا مکمل کنٹرول قائم کر رکھا ہے ایسے ماحول میں ترکی، ملائیشیا اور انڈونیشیا کی حکومتوں کا کوالالمپور کانفرنس کا دائرہ کار وسیع کرنے اور اسے اسلامی ممالک کی نمایندہ تنظیم کی شکل دینے کی کوششیں جاری ہیں۔

ان کا خیال ہے کہ  اب اسی کے ذریعے دنیا میں پھیلے اسلاموفوبیا اور اسلامی ممالک کو دشمنوں کی جانب سے درپیش خطرات کا تدارک کیا جاسکے گا۔ گوکہ او آئی سی اپنے قیام کے پچاس سال پورے کرچکی ہے مگر افسوس کہ یہ مسلم امہ کا ایک بھی مسئلہ حل نہیں کرسکی ہے۔ فلسطین کا مسئلہ نہ صرف اب بھی باقی ہے بلکہ پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو گیا ہے، یہی حال مسئلہ کشمیر کا بھی ہے۔

عرب ممالک کشمیریوں کی آزادی  کی کھل کر بات نہیں کرتے ۔ اس وقت  کئی عرب ممالک اسرائیل سے اپنے تعلقات کو استوار کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں، اس لیے کہ  اسی میں ان کا مفاد ہے۔ وہ کشمیر کو بھارت کا اندرونی مسئلہ قرار دینے کے ساتھ فلسطین کے مسئلے  پر بھی کچھ لو اور دو کا اصول لاگو کرنے لگے ہیں۔

پاکستان اب بھی اسرائیل کے خلاف ڈٹا ہوا ہے مگر ہماری اس پالیسی سے بھارت بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اب تو پاکستان کے خلاف بھارتی دہشت گردی میں اسرائیل بھی اس کا ساتھ دے رہا ہے۔ محض اسرائیل کی وجہ سے امریکا بھی ہمارا دشمن بنا ہوا ہے۔ چنانچہ اب موجودہ حالات کے تناظر میں ہمیں اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرنے کی ازحد ضرورت ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔