بھارت چین کشیدگی . . . مودی کی حکمت عملی ؟

مزمل سہروردی  پير 1 جون 2020
msuherwardy@gmail.com

[email protected]

بھارت اور چین کی فوجوں کے درمیان حالیہ  Stand offکوئی پہلی دفعہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی 2017میں بھارت بھوٹان اور چین کے بارڈر Doklam, پر بھارت اور چین کی فوجیں 73دن تک آمنے سامنے رہی ہیں۔ لیکن دونوں ممالک کے درمیان جنگ نہیں ہوئی تھی۔

بھارت نے تب بھی مسائل کو بات چیت سے حل کرنے کی کوشش کی تھی۔ تب بھی چین کا پلڑا بھاری رہا تھا۔ اور بالآخر ٹیبل پر بھی چین ہی جیتا تھا۔ لداخ اور بھارت چین تعلقات کے ماہراور سابق سفارتکار کا کہنا ہے کہ بھارت اور چین کی فوجیں کئی بار آمنے سامنے آئی ہیں۔ یہ ایک معمول ہے۔ لیکن اس بار جتنی تعداد میں چینی فوجیں اور اسلحہ وہاں پہنچایا گیا ہے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا۔

بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازعات کافی پیچیدہ ہیں۔ چین کا موقف ہے کہ اس کا نوے ہزار کلومیٹر کا رقبہ بھارت کے قبضہ میں ہے۔ اس میں بھارت کی ریاست اروناچل پردیش بھی شامل ہے۔ جس میں زیادہ بدھ مت کے لوگ رہتے ہیں۔جب کہ بھارت کا موقف ہے کہ اس کا 38ہزار کلومیٹر کا رقبہ چین کے قبضہ میں ہے۔ اس میں لداخ اور مغربی ہمالیہ میں Aksai Chin Plateau  بھی شامل ہے۔

دونوں ممالک نے1962میں ایک باقاعدہ جنگ لڑی جس میں بھارت کو شکست ہوئی تھی۔ لیکن اس کے بعد 1975سے اب تک دونوں ممالک کے درمیان ایک گولی بھی نہیں چلی ہے۔ اب بھی جب بھارت یہ تو تسلیم کر رہا ہے کہ گالوان وادی میں چین کافی کلومیٹر اندر آگیا ہے۔ لیکن ابھی تک گولی نہیں چلی ہے۔ ڈنڈوں اور لاتوں گھونسوں کی لڑائی میں بھی بھارتی فوجیوں کے شدید زخمی ہونے کی خبریں آئی ہیں۔

چین اور بھارت نے 1993میں سرحدوں پر کشیدگی کم کرنے اور معاملات کو حل کرنے کے لیے “Maintenance of Peace and Tranquility” کے نام سے ایک معاہدہ کیا ۔ اس معاہدہ کے بعد سے اب تک چین اور بھارت کے درمیان مذاکرات کے بیس ادوار ہو چکے ہیں۔ تاہم کسی بھی معاملہ پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود بھارت نے چین کے ساتھ نہ صرف تجارتی تعلقات بڑھائے ہیں بلکہ بھارت نے چین کی سو بڑی کمپنیوں کو بھارت میں بھاری سرمایہ کاری کا موقع بھی دیا ہے۔ اس وقت بھی بھارت میں صرف موبائیل سیل میں چین کی کمپنیوں کا ساٹھ فیصد شیئر ہے۔ چین اور بھارت کے درمیان تجارت کا توازن بھی چین کے حق میں ہے۔

اس بار کا stand offنہایت اسٹریٹجک مقامات پر ہے۔ اگر چین Pangonجھیل کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو بھارت کے لیے لداخ کا دفاع کرنا عملی طور پر ناممکن ہو جائے گا۔ کارگل کے موقع پر بھی چین نے اس جھیل کے دو اہم مقامات پر قبضہ کر لیا تھا لیکن اس بار چین جھیل کا مکمل کنٹرول لینے کے موڈ میں ہے۔ اسی طرح Nubra وادی اور Shyokمیں چین نے جو پیش قدمی کی ہے۔ اس کے بعد بھارت کی سیاچن تک رسائی مشکل اور چین کی ممکن ہو جائے گی۔

یہ صورتحال بھارت کے لیے ناقابل قبول ہے۔  چین کو اندازہ ہے کہ بھارت معاشی طور پر اس وقت شدید مسائل کا شکار ہے۔ اس لیے کسی بھی قسم کی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس بار بھی مودی کی کوشش ہے کہ وہ معاملہ کو جنگ کی طرف نہ لے کر جائے۔سوال یہ ہے کہ اب بھارت کیا کرے گا۔

امریکا نے حالیہ صورتحال میں بھارت کو چین کے ساتھ ثالثی کی پیشکش کی لیکن بھارت نے اس پیشکش کو قبول نہیں کیا ۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ امریکا نے بھارت کی مدد کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ جب بھارت نے امریکا کی کشمیر پر ثالثی کی پیشکش قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا تو چین کے ساتھ ثالثی کی پیشکش کیسے قبول کی جا سکتی ہے۔ ثالثی کی پیشکش کوئی مدد نہیں ہے۔

چین کی جانب سے بھارتی علاقہ پر قبضہ کے بعد دہلی میں نیشنل سیکیورٹی کانفرنس ہوئی ہے۔ جس میں پہلے مرحلہ میں معاملہ سفارتی ڈپلومیسی سے حل کرنے کی کوشش کرنے کا فیصلہ ہوا ہے۔ پہلے مرحلہ میں بھارت کی وزارت خارجہ دہلی میں امریکا روس جرمنی فرانس کینیڈا جاپان یورپی یونین کے سفیروں کو صورتحال سے آگاہ کرے گی۔

ان سے چین پر سفارتی دباؤ ڈالنے کے لیے کہا جائے گا تاکہ چین کو علاقہ خالی کرنے پر قائل کیا جا سکے۔ میری رائے میں عالمی سطح پر ایسے حا لات نہیں ہیں کہ دنیا چین کے مقابلے میں بھارت کے ساتھ کھڑی ہو جائے۔ شائد بھارتی قیادت کا خیال ہے جیسے پاکستان کے مقابلے میں دنیا ان کے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہے۔ ویسے ہی چین کے مقابلے میں بھی دنیا ان کے ساتھ کھڑی ہو جائے گی۔ لیکن شائد ایسا نہیں ہوگا۔ بھارت غلط کھیل رہا ہے۔

بھارت اس وقت امریکا کے کیمپ میں ہے۔ لیکن امریکا میں اس وقت انتخابات کا موسم ہے۔ ویسے بھی امریکا چین کے ساتھ شدید اختلافات کے باوجود معاملا ت کو ایک حد سے زیادہ نہیں بگاڑتا۔ وہ بھارت کے لیے چین سے تعلقات کیابگاڑے گا۔ جیسے سانحہ مشرقی پاکستان کے موقعے پر پاکستان امریکی ساتویں بحری بیڑے کا انتظار کرتا رہ گیا تھا، اسی طرح بھارت بھی امریکی مدد کا انتظار ہی کرتا رہ جائے گا۔ یہ بھی ممکن نہیں کہ روس چین کے مقابلے میں بھارت کی حمایت کرے گا۔ اپریل میں چین روس سے تیل خریدنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔

چین نے سعودی عرب کی بجائے روس سے زیادہ تیل خریدا ہے۔ ایسے میں روس بھارت کی کیا مدد کر سکتا ہے۔ یورپی یونین کی حمایت بھی ملنے کے کم امکان ہے۔ یورپی یونین تو کشمیر کے مسئلہ پر بھی بھارت کی حمایت نہیں کر رہی۔ جرمنی اور فرانس بھی کیا چین کے مقابلے میں بھارت کے ساتھ جائیں گے مشکل نظر آتا ہے۔ اس لیے مودی کی چین پر عالمی دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی کامیاب ہونے کے امکانات نظر نہیں آرہے۔ لیکن ابھی مودی نے یہی فیصلہ کیا ہے۔ اس میں دو ماہ کا وقت نکل جائے گا اور چین اپنی پوزیشن سرحدوں پر مزید مستحکم کر لے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔