نجی اسکول آن لائن کلاسز کیلیے اساتذہ کو بلوا سکتے ہیں، وزیر تعلیم سندھ

اسٹاف رپورٹر  بدھ 3 جون 2020
اسکول کھولنے اورایس اوپیزپرکمیٹی رپورٹ دیگی،والدین فیس ادا کریں،تمام اقدامات اسٹیئرنگ کمیٹی کے تحت کرینگے،سعید غنی ۔ فوٹو، فائل

اسکول کھولنے اورایس اوپیزپرکمیٹی رپورٹ دیگی،والدین فیس ادا کریں،تمام اقدامات اسٹیئرنگ کمیٹی کے تحت کرینگے،سعید غنی ۔ فوٹو، فائل

کراچی: وزیر تعلیم سعید غنی کی زیر صدارت منعقد ہونے والے محکمہ تعلیم کی اسٹیرنگ کمیٹی کے اجلاس میں کلاس نویں تا بارہویں تک کے طلبہ وطالبات کو بغیر امتحانات کے اگلی جماعتوں میں ترقی دینے کی سب کمیٹی کی سفارشات کو منظور کرلیا گیا، سندھ بھر کے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں تدریسی عمل کا آغاز صوبے میں کرونا وائرس کی صورتحال کو دیکھ کر کیا جائے گا۔

تاہم اگر نجی اسکولز چاہیں تو وہ آن لائن کلاسز شروع کرسکتے ہیں اور اس کے لیے انھیں اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کو بلوانے کی اجازت ہوگی تاہم انھیں ایس او پیز پر عمل کرنا ہوگا،نجی اسکولوں کی جانب سے پہلی تا آٹھویں جماعت کے طلبہ وطالبات کے پرموٹ کرنے پر تحفظات پر اسٹیئرنگ کمیٹی کی سب کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو نہ صرف ان تحفظات کو دور کرے گی بلکہ وہ آئندہ تعلیمی سال کے لیے پلان کو بھی مرتب کرے گی اور تعلیمی اداروں کو کھولنے اور کھلنے سے قبل وہاں پر تمام ایس او پیز کو نافذ کرنے کے حوالے سے ایک ہفتہ میں تجاویز پیش کرے گی۔

وزیر تعلیم سعید غنی کی زیرصدارت سندھ سیکریٹریٹ میں محکمہ تعلیم کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں سیکریٹری تعلیم سید خالد حیدر شاہسیکریٹری کالجز باقر نقوی،سیکریٹری جامعات محمد ریاض الدین،اسٹیئرنگ کمیٹی کی منتخب اسمبلی ارکان تنزیلہ امہ حبیبہ، رابعہ اظفر نظامی، ماہر تعلیم شہناز وزیر علی،  ڈاکٹر فوزیہ، بورڈز کے چیئرمین، اسکول انجمنوں کے چیئرمینوں نے شرکت کی، اجلاس میں اسٹیئرنگ کمیٹی کے اراکین کو گزشتہ اجلاس کی روداد سے آگاہ کیا گیا اور اس کی منظوری لی گئی اور سب کمیٹی کی سفارشات جو نویں تا بارہویں جماعت تک کے طلبہ و طالبات کو اگلی جماعتوں میں ترقی دینے کے حوالے سے مرتب کی گئی تھیں اس کی منظوری لی گئی۔

اس موقع پر اراکین اسٹیئرنگ کمیٹی نے چند تحفظات کا اظہار کیا جس پر فیصلہ کیا گیا کہ جو طلبہ وطالبات  2 پرچوں میں فیل ہوں گے ان کو ان کے دیگر مضامین کے نمبر دیکھتے ہوئے مارکس دیے جائیں گے البتہ اس سے زیادہ مضامین میں فیل بچوں کو صرف 33 فیصد پاسنگ مارکس ہی دیے جائیں گے۔

اجلاس میں ان طلبہ وطالبات کو جو امپروومنٹ کے لیے امتحانات دینے کے خواہ تھے انھیں 2 آپشن دیے گئے ہیں کہ اگر وہ جن جن مضامین میں امپروومنٹ چاہتے ہیں انھیں 3 فیصد اضافی مارکس دیے جائیں اور اگر وہ ایسا نہیں چاہتے تو پھر انھیں امتحان دینے کا موقع فراہم کیا جائے گا لیکن اس کے لیے کوئی تاریخ متعین نہیں کی جاسکتی ، اجلاس میں نجی اسکولوں کی جانب سے پہلی تا آٹھویں جماعت کے طلبہ و طالبات کو پرموٹ کرنے پر چند تحفظات کا اظہار کیا گیا جس پر صوبائی وزیر نے اسٹیئرنگ کمیٹی کے7 ارکان پر مشتمل سب کمیٹی تشکیل دی جس میں ان نجی اسکولوں کے نمائندوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

کمیٹی نجی اسکولوں کے نہ صرف پہلی تا آٹھویں تک کے طلبہ و طالبات کو پروموٹ کرنے پر ان کے تحفظات دور کرنے کے ساتھ ساتھ نئے تعلیمی سال کے حوالے سے بھی رپورٹ مرتب کرے گی،ساتھ ہی اسکولوں کو کھولنے اور ایس او پیز کے حوالے سے رپورٹ مرتب کرکے ایک ہفتے میں جمع کرائے گی،اجلاس میں نجی اسکولوں کی جانب سے اسکول کھولنے کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا کہ تمام نجی اسکول چاہیں تو آن لائن کلاسز کا آغاز کرسکتے ہیں۔

تاہم اسکولوں میں تدریسی نظام کی اجازت نہیں ہوگی اور نہ ہی وہ بچوں کو وہاں بلوا سکیں گے،نجی اسکول چاہیں تو اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کو بلواسکیں گے ،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ والدین نجی اسکولوں کی طلبہ کی فیس ادا کریں، تعلیمی معیار بہتر کرنے کے لیے اساتذہ کی تربیت کے حوالے سے کام شروع کردیا گیا ہے بچوں کی آن لائن تعلیم کے حوالے سے موبائل ایپلی کیشن کا اجرا کردیا ہے مائیکروسوفٹ سمیت دیگر کے ساتھ مل کر مزید کام جاری ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔