فائرنگ کے واقعات لاہور میں اہلسنت و الجماعت پنجاب کے صدر مولانا شمس الرحمٰن، کراچی میں3کارکن جاں بحق

لاہور:پولیس اہلکار اس کار کا معائنہ کررہے ہیں جس پر فائرنگ ہوئی ۔فوٹو : ایکسپریس

لاہور:پولیس اہلکار اس کار کا معائنہ کررہے ہیں جس پر فائرنگ ہوئی ۔فوٹو : ایکسپریس

لاہور / اسلام آ باد / کراچی: لاہور کے علاقے راوی روڈ میں نامعلوم موٹر سائیکل سوارمسلح افرادنے فائرنگ کرکے اہلسنت و الجماعت پنجاب کے صدرمولاناشمس الرحمن معاویہ کوقتل کردیا جبکہ ان کاڈرائیور اورایک راہگیرزخمی ہوگئے۔

واقعے کے خلاف اہلسنّت کے کارکنوں نے ملک کے کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے،اہلسنّت و الجماعت کی طرف سے ملک بھر میں 3 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے، واقعے کے خبر پورے شہرمیں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ 45 سالہ حافظ شمس الرحمان معاویہ کریم پارک محمدیہ مسجد میں نماز جمعہ پڑھانے کے بعد ڈرائیور 35 سالہ محمد عدنان کے ہمراہ کار پر واپس گھر جارہے تھے کہ رنگ روڈ کے قریب4موٹرسائیکل سوار ملزمان نے کار پر فائرنگ کردی اور فرار ہوگئے، حافظ شمس الرحمن معاویہ ، ڈرائیور عدنان اور راہگیر ظفر شدید زخمی ہوگئے،تینوں کو اسپتال منتقل کیا جارہاتھا کہ راستے میں ہی حافظ شمس الرحمٰن دم توڑ گئے۔ کارکنوں نے مال روڈ ،نیلا گنبد چوک اور مردہ خانے کے باہر احتجاجی مظاہرے کیے، ذرائع کے مطابق مقتول ایک مقامی انگریزی اخبارکے نیوز ایڈیٹر سیدالرحمان کے بھائی اور جم خانہ کلب کی مسجد کے امام تھے ۔راوی روڈ پولیس نے مقتول کے بھائی مولانا حسین احمد کے بیان پر 4نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیاہے۔

مقتول کی نماز جنازہ آج دن 2بجے مسجدشہدامیں ادا کی جائے گی،نماز جنازہ کے وقت پولیس کی بھاری نفری تعینات ہوگی۔اسلام آبادسے نمائندہ ایکسپریس کے مطابق حافظ شمس الرحمٰن کے قتل کے خلاف آبپارہ چوک میںمظاہرہ کیا گیا جس میںمرکزی قائدین نے صوبائی حکومت کوقاتلوںکی گرفتاری کے لیے 24 گھنٹوں کاالٹی میٹم دیتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر قاتلوں کو گرفتار نہ کیا گیا تو فیض آباد میں دھرنا دیاجائے ۔نمائندگان کے مطابق مولانا شمس الرحمٰن معاویہ کے قتل کے خلاف اہلسنت و الجماعت کے کارکنوں نے ملتان اور شجاع آبادمیں مظاہرے کیے ۔کراچی میں اہلسنت والجماعت کے تحت اہلسنت و الجماعت پنجاب کے صدرمولانا شمس الرحمن معاویہ کے قتل کیخلاف دائودچورنگی لانڈھی،نیشنل ہائی وے اورقیوم آباد پر احتجاجی دھرنا دیا گیا،اہلسنت و الجماعت کے رہنمائوں مولانا اورنگزیب فاروقی، مفتی طارق مسعود، مفتی حسن زیب و دیگر نے مولانا شمس الرحمن معاویہ کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت اہلسنت علماکے تحفظ میں ناکامی پرمستعفی ہوجائے ، ملک اس وقت شدیدخطرات میں گھراہے اہلسنت عوام اب تک صبر کا دامن تھامے ہوئے ہے۔

حکومت علما ،مدارس کے طلبہ اور مذہبی جماعتوں کے کارکنان کے قاتلوں کو عوام کے سامنے لائے حکومت پنجاب فی الفوراس واقعے کا سخت ایکشن لے۔مختلف علاقوں میں احتجاجی دھرنے کی وجہ سے ٹریفک کی روانی معطل ہوگئی جبکہ ملحقہ علاقوں میں بھی بدترین ٹریفک جام ہوگیااورگاڑیوں کی طویہ قطاریں لگ گئیں،احتجاج کی وجہ سے نیشنل ہائی وے اور بلوچ کالونی ایکسپریس وے پر ٹریفک کی روانی شدیدمتاثر ہوگئی جبکہ مین کورنگی روڈسمیت ڈیفنس خیابان اتحاد روڈ سمیت ملحقہ علاقوں میں بدترین ٹریفک جام ہوگیا۔حیدرآباد سمیت ملک کے دیگر شہروں میں بھی مظاہرے اور دھرنے دیے گئے جن میں قائدین اور کارکنوں نے مطالبہ کیاکہ مولانا شمس الرحمٰن معاویہ کے قاتلوں کو جلد سے جلد گرفتارکیاجائے، وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے مولانا شمس الرحمٰن کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کر لی۔

امیر جماعت اسلامی سیدمنورحسن،لیاقت بلوچ ،پاکستان کونسل کے چیئرمین، مولانا سمیع الحق، مولانا عبدالرؤف فاروقی ،مولانا یوسف شاہ ،اور مولانا محمد عاصم مخدوم، جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمٰن،جمعیت مشائخ اہلسنّت کے سربراہ یرسیف اللہ خالد،مولانالطیف الرحمن حقانی ،مولاناقاضی محمدیونس انور ،مولاناخلیل الرحمن حقانی، مولانامخدوم منظور احمد،مولانااسداللہ فاروقاور دیگرنے واقیہ کی شدید مذمت کی ،امیر جماعۃالدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید و دیگر نے کہا ہے کہ منظم سازشوں و منصوبہ بندی کے تحت ملک میں فرقہ وارانہ قتل و غارت گری پروان چڑھانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اورشیریں مزاری نے مولاناشمس الرحمٰن کے قتل کی شدیدمذمت کی اور کہاکہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے ذریعے ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کوہوا دینے کی سازش کی جارہی ہے۔

کراچی کے علاقے گلشن اقبال مسکن چورنگی کے قریب واقع الجنت ریسٹورینٹ پرموٹر سائیکل سوارملزمان نے کی فائرنگ سے اہلسنّت والجماعت  کے 3 کارکن جاں بحق جبکہ2افرادشدیدزخمی ہوگئے۔اچانک فائرنگ سے ہوٹل اورقریب ہی موجودافرادمیں بھگدڑمچ گئی،اطلاع ملتے ہی پولیس اور رینجرزکی بھاری نفری موقع پرپہنچ گئی اورعلاقے کوگھیرے میں لے لیا،جاں بحق ہونے والوں میں کاشف اورطالب سگے بھائی ہیں جبکہ سعیدان کا رشتے داراورملتان سے آیاہواتھا، جاں بحق ہونے والے دونوں بھائیوں کی مسکن چورنگی کے قریب مٹھائی کی دکان ہے اوروہ ہوٹل پرکھاناکھا رہے تھے کہ ٹارگٹ کلنگ کانشانہ بن گئے۔

تہرے قتل کی واردات کے بعدعلاقے میں خوف وہراس پھیل گیا اور دکانیں و کاروبار بندہوگیا۔اہلسنت والجماعت کے ترجمان عمر معاویہ نے ٹارگٹ کلنگ کی شدیدمذمت کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیاکہ قاتلوں کو فوری طورپرگرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایاجائے،جاں بحق ہونے والے تینوں افراد ہمارے کارکنان تھے،دہشتگردوں کی جانب سے ہمارے رہنماؤں،عہدیداروں اورکارکنوں کوچن چن کر ٹارگٹ کلنگ کانشانہ بنایاجارہاہے۔انھوں نے بتایا کہ مقتولین مبینہ ٹاؤن کے علاقے گلشن اقبال اسکاؤٹ کالونی کے رہائشی تھے۔ڈی آئی جی ایسٹ منیرشیخ کے مطابق 2موٹرسائیکلوں پر سوار4ملزمان نے ہوٹل پرفائرنگ کی جبکہ واردات میں نائن ایم ایم پستول استعمال کیاگیااور جائے وقوع سے ملنے والے خول قبضے میں لے لیے گئے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔