مرتی ہوئی مڈل کلاس تہذیب

وسعت اللہ خان  منگل 9 جون 2020

لگ بھگ نو دن پہلے ایک چھ سالہ بچی زہرہ شاہ کی بحریہ ٹاؤن پنڈی کے ایک رہائشی اور اہلیہ کے ہاتھوں تشدد آمیز موت کے سبب الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا میں تھوڑی بہت تشویش انگیز پھڑ پھڑاہٹ ہوئی اور پھر خبری ندی کا پانی اسی بہاؤ پر بہنے لگا جس رخ بہنا اس کی عادت ہے۔

آپ میں سے شائد بہت سوں کو یاد ہو کہ گھریلو مشقت میں ملوث بچوں پر بہیمانہ تشدد کی موجودہ سیریز کا سب سے معروف واقعہ لگ بھگ ساڑھے تین برس پہلے اسلام آباد میں سامنے آیا جب ایک دس سالہ بچی طیبہ کو اس کے متمول مالک اور مالکہ نے مسلسل تشدد کا نشانہ بنایا۔مالک راجہ خرم علی ایڈیشنل سیشن جج تھے۔ انھوں نے ابتدا میں دباؤ اور اثر استعمال کرتے ہوئے بچی کے والد سے جبری معافی نامہ بھی حاصل کر لیا۔مگر پھر اسلام آباد ہائی کورٹ کی مداخلت پر اس کیس کی ٹرائل کورٹ نے ازسرِنو سماعت کی اور ملزم جوڑے کو ایک برس قید کی سزا ہوگئی۔طیبہ کو ایک رفاعی اصلاحی ادارے میں قیام و تعلیم کے لیے بھیج دیا گیا۔

طیبہ تشدد کیس سے لے کر اب سے نو دن پہلے تک کے زہرہ شاہ قتل کیس تک ایسی وارداتیں کم تو خیر کیا ہوتیں، بس اتنا ہوا کہ ان واقعات کی الیکٹرونک میڈیا  میں نسبتاً زیادہ تشہیر ہونے لگی۔اب تو یہ ایک ایس او پی بن گیا ہے کہ ایک آدھ دن تک ٹویٹر، فیس بک وغیرہ پر ایسے واقعات کی مذ مت ہوتی ہے اور پھر اگلے کسی واقعے تک خاموشی چھا جاتی۔

ماشاﷲ ایسی عادت ہو گئی ہے کہ جب بھی کسی دور یا قریب والے کے مرنے کی خبر ملتی ہے تو ’’ ریسٹ ان پیس ’’لکھ کر اس کی تدفین میں خود کو شریک کرلیتے ہیں۔  انسانی حقوق کی پامالی، بالخصوص اقلیتی فرد، عورت یا بچے پر ظلم کا کوئی واقعہ یا ویڈیو نگاہ سے گذرے تو بس نہائت افسوسناک ( ویری سیڈ ) لکھ کر اپنی آواز بلند کرنے کا فرض نبھاتے ہوئے ماؤس کلک کر دیتے ہیں۔سنا ہے سوشل میڈیا سے قبل ایک ضمیر ہوتا تھا جو اکثر سو جاتا تھا اور اسے جگانا پڑتا تھا۔اب دل کی طرح ضمیر کا بھی بائی پاس عام ہو چلا ہے۔

طیبہ کیس کے بعد امید یہ تھی ( مجھے یہ جملہ لکھتے ہوئے ہنسی روکنا پڑ رہی ہے مگر لکھنا بھی ضروری ہے ) کہ مرکزی و صوبائی حکومتیں آئین کے آرٹیکل پچیس اے کے تحت ہر چھ تا سولہ برس کے پاکستانی بچے کے لیے لازمی و مفت تعلیم کے حق پر عمل درآمد کی خاطر اپنے عملی ڈھانچے کو اوپر سے نیچے تک ازسرِ نو استوار کریں گی۔

نیز کم عمری کی مشقت کے خلاف نافذ قوانین کو مزید بہتر کریں گی اور اگر کم عمر گھریلو ملازموں کو سپلائی اور ڈیمانڈ کے مطابق ہلکے پھلکے کام اور بچوں کی دیکھ بھال وغیرہ سے روکنا انتظامی طور پر مشکل ہے تو بطور متبادل سرکاریں مرکز سے تحصیل لیول تک کوئی ریگولیٹری ادارہ بنائیں گی۔ صرف اسی ادارے میں رجسٹرڈ بچوں کو ہی گھروں میں ایک تحریری معاہدے کے تحت طے شدہ کام دیا جا سکے گا۔

اس معاہدے میں کام کاج کے لیے رکھے جانے والے بچے کے معاوضے، رہن سہن کے بنیادی معیار اور کام کے ساتھ ساتھ تعلیم کے حق کے تحفظ کے لیے بھی قانونی تحفظات شامل کیے جائیں گے۔ ادارے کی معائنہ ٹیمیں کسی بھی وقت کسی بھی گھر میں ایسے کسی بھی بچے سے ملاقات کر سکیں گی اور ادارے کے پاس اپنے قواعد و ضوابط پر عمل کرانے کے لیے ضروری اختیارات اور قوتِ نافذہ بھی ہو گی۔

مگر اس ساڑھے تین برس کے عرصے میں ہوا  کیا؟وفاقی سطح پر مشقتی قوانین میں معمولی رد و بدل ہوا۔ جب کہ پنجاب نے جنوری دو ہزار انیس میں ڈومیسٹک ورکرز ایکٹ منظور کیا جس کے تحت پندرہ برس سے کم عمر کے بچوں سے گھریلو مشقت لینے پر پابندی لگا دی گئی۔ مگر ہر نئی واردات ثبوت ہے کہ بچوں کی سلامتی سے متعلق قوانین بھی کم سن بچوں کی طرح لاچار ہیں۔

اب تک کم سن گھریلو ملازموں پر تشدد اور موت کے جتنے بھی واقعات سامنے آئے ہیں،ان میں ایک افسوسناک رجحان مسلسل دیکھا جا سکتا ہے۔زیادہ تر واقعات متوسط اور اعلی متوسط گھرانوں میں پیش آ رہے ہیں۔ زیادہ تر واقعات ڈاکٹروں، وکلا، مینیجریل کلاس، کارپوریٹ سیکٹر یا معاشرے کی نام نہاد پڑھی لکھی کریم کے ہاں یا اردگرد ہو رہے ہیں۔

آپ کو طیبہ کیس میں ملوث ایڈیشنل سیشن جج اور ان کی بظاہر باشعور اہلیہ سے لے کر زہرہ شاہ کیس میں ملوث احسن صدیقی اور ان کی مڈل کلاس اقدار میں گندھی اہلیہ تک اور لاہور میں ہائیکورٹ کے ایک سرکردہ وکیل کے خاندان کے ہاتھوں ایک کم سن ملازمہ کو استری سے جلانے کے واقعے سے لے کر کراچی کے اعلی متوسط علاقے  بہادر آباد  میں ایک نو عمر ملازم کو معمولی چوری کے شک میں ایک کھمبے سے باندھ کر پڑھے لکھی پروفیشنل کلاس کی لنچنگ تک ایک تشویش ناک پیٹرن دکھائی دے گا۔

یہی مڈل کلاس بظاہر نا انصافیوں پر سب سے زیادہ شور مچاتی ہے اور عملاً یہی مڈل کلاس ان ناانصافیوں کے ڈھانچے میں ریڑھ کی پوشیدہ ہڈی بھی ثابت ہو رہی ہے۔ جو لوگ ہوا میں سب سے زیادہ مکے چلا رہے ہیں، ان میں سے ہر دوسرے یا تیسرے کے گھر میں کوئی نہ کوئی کم سن بچہ یا بچی کام کاج میں جٹے ہوئے ہیں۔وہ رات کو کس حالت میں سوتے ہیں، کیا کھاتے ہیں ،کیا سہتے ہیں۔یا تو ان بچوں کو یہاں رکھوانے والا دلال یا ضرورت مند باپ جانتا ہے یا پھر خود یہ  بچہ۔

پوچھنا یہ ہے کہ چلیے سرکاری پیلے اسکولوں کا حال تو ہر اعتبار سے برا ہے۔مگر مہنگے اعلی تعلیمی اداروں میں بچوں کو کس طرح کی بنیادی تہذیبی اقدار پڑھائی جاتی ہیں اور ان بچوں کے سرپرست گھروں میں انھیں دوسروں سے حسنِ سلوک کے بارے میں کیا سکھا ، دکھا ، پڑھا رہے ہیں؟

جب کسی گھر میں ایک چھ سالہ بچی پر والدین کے ہاتھوں بہیمانہ تشدد دیکھنا کسی بھی چار پانچ سال کے برخوردار سے لے کر اٹھارہ سال تک کی لڑکی کے لیے معمول کا منظر بن جائے تو پھر وہ اپنی باقی ماندہ زندگی میں اپنے سے کمزور لوگوں سے کیا سلوک کرے گا یا کرے گی ؟

زہریلی تربیت کا یہ ببوبل ایک سے اگلی کتنی نسلوں تک بطور ٹرافی منتقل ہوتا چلا جائے گا۔کیا یہ بھی کبھی مجھے ایسے کسی مڈل کلاسئے نے سوچا جو صرف کھوکھلے خوابوں کے سہارے جہاں بدلنے کا پختہ ارادہ باندھتے باندھتے مر جاتا ہے۔

اپنی مرتی ہوئی اقدارکے متعفن کفن میں جھانکیے۔ آپ کو طیبہ سے زہرہ تک ہر بچے کو پڑنے والے ہر ہر چانٹے اور ڈنڈے کی ضرب کا جواب مل جائے گا۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیےbbcurdu.com پر کلک کیجیے)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔