ہم ہر ناممکن کو ممکن کر سکتے ہیں

آفتاب احمد خانزادہ  اتوار 14 جون 2020
aftabkhanzada2@yahoo.com

[email protected]

زندگی بھر انسانوں اور ان کی قوتوں کے پوشیدہ سرچشموں کا مطالعہ کرنے کے بعد عظیم ماہر نفسیات الفریڈ ایڈلر نے اعلان کیا کہ انسان میں ایک تعجب خیز خوبی یہ ہے کہ اس کے پاس منفی کو مثبت میں بدل دینے کی قوت ہے۔

’’دیوتاؤں کے بارہ مخالفین‘‘ کے مصنف ولیم بولیتھو اسے یوں بیان کرتے ہیں، دنیا میں اہم ترین چیز یہ نہیں ہے کہ تم اپنے منافع کو بڑھاتے رہو بے وقوف بھی ایسا کرسکتے ہیں۔ درحقیقت اہم ترین چیز یہ ہے کہ تم اپنے خسارے سے منافع حاصل کرو، یہاں ذہانت کی ضرورت پڑتی ہے اور یہی عقل مند اور بے وقوف کے درمیان حد فاصل قائم کرتی ہے۔

بولیتھو نے یہ الفاظ اس وقت کہے جب ریل کے ایک حادثے میں اس کی ایک ٹانگ جاتی رہی، دنیا کے کامیاب انسانوں کی زندگیوں کا جس قدر زیادہ مطالعہ کیا جائے تو اتنا ہی یقین پختہ ہوتا چلا جائے گا کہ ان لوگوں کی کامیابی کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے رکاوٹوں اور مشکلوں سے آغاز کیا جنھوں نے ان کی عظیم کامیابیوں اور فتح مندیوں کے لیے مہمیزکا کام دیا۔

ولیم جیمزکے الفاظ میں ہماری کمزوریاں غیر متوقع طور پر ہماری امداد کرتی ہیں۔ یہ بالکل حقیقت ہے ملٹن بہترین شاعری اس لیے لکھ سکا کیونکہ وہ اندھا تھا۔ بیتھوون نے موسیقی کی آفاقی دھنیں ایجادکیں کیونکہ وہ بہرا تھا ہیلن کیلر کی درخشاں حیات کے پیچھے اس کی عدم بصارت اور بہرے پن کا ہاتھ ہے اگر چیکووسکی اپنی المناک شادی سے مایوس ہوکر خودکشی کرنے کے لیے تقریباً آمادہ نہ ہوجاتا اور اگر اس کی اپنی زندگی دردناک نہ ہوتی تو وہ شاید کبھی بھی اپنی غیر فانی رقت انگیز سمفنی ایجاد نہ کرسکتا۔

اگر دوستوفسکی اور ٹالسٹائی کی زندگیاں دکھ بھری اور اذیت ناک نہ ہوتیں تو غالباً وہ کبھی بھی اپنے غیر فانی ناول تصنیف نہ کرسکتے۔ نامور ناول نگار مسزتھامپسن اپنی کہانی سناتے ہوئے کہتی ہیں ’’دوران جنگ میرے شوہرکو نیومیکسیکو میں صحرائے موجیوکے قریب ایک فوجی تربیتی کیمپ میں تعینات کیا گیا میں بھی وہیں چلی گئی تاکہ اس کے پاس رہوں، مجھے اس جگہ سے نفرت تھی۔

میں ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں رہتی تھی گرمی ناقابل برداشت تھی، میکسیکو اور حبشیوں کے سوا وہاں بات چیت کرنے کے لیے کوئی دوسری مخلوق نہیں تھی اور وہ بھی انگریزی سے نابلد اور میں ان کی زبان سے ناآشنا۔ ہر وقت لو چلتی رہتی تھی، میرا کھانا ریت سے بھر جاتا تھا جس فضا میں سانس لیتی تھی وہ ریت سے اٹی ہوئی ہوتی تھی۔ میں اس قدر دکھی تھی کہ مجھے اپنے اوپر ترس آنے لگا اورگھبرا کر اپنے والدین کو خط لکھ دیا کہ میں یہاں کی زندگی ایک منٹ کے لیے بھی برداشت نہیں کرسکتی اس سے تو جیل کی چار دیواری ہی اچھی ہے۔

میرے والد نے اس کے جواب میں صرف دو سطریں لکھیں ان دو سطروں نے میری زندگی کی کایا پلٹ دی انھوں نے لکھا ’’دو آدمیوں نے جیل کی سلاخوں سے جھانک کر باہر دیکھا، ایک نے ستارے دیکھے اور دوسرے کو کیچڑ نظر آئی۔‘‘ میں نے ان سطروں کو بار بار پڑھا مجھے اپنے اوپر شرم آنے لگی اور میں نے تہیہ کرلیا کہ میں ستاروں کو تلاش کروں گی، پھر میں نے وہاں کے باشندوں کے ساتھ دوستی کرلی۔ تو انھوں نے مجھے اپنی ایسی ایسی شاندار چیزیں بطور تحفہ دیں جنھیں وہ سیاحوں کے پاس بیچنے سے انکارکردیتے تھے صحرا میں آفتاب کے طلوع اور غروب ہونے کے نظاروں کو دیکھتی سمندری سیپیوں کی تلاش کرتی جو وہاں لاکھوں سالوں سے پڑی تھیں جب صحرا سمندر ہوا کرتا تھا اور مجھ میں تعجب خیز تبدیلی پیدا ہوگئی۔

صحرائے موجیو نہیں بدلا تھا حبشی نہیں بدلے تھے لیکن میں ضرور بدل گئی تھی، میرا ذہنی رویہ بدل گیا تھا، میں نے ایک نئی دنیا دریافت کرلی تھی جس نے میرے اندر ایک نیا ولولہ اور جوش پیدا کردیا تھا اس نے میرے جذبات کو اس قدر ابھار دیا کہ میں نے اس کے متعلق ایک ناول لکھا جو ’’روشن پشتے‘‘ کے نام سے شایع ہوا میں نے اپنے بنائے ہوئے زندان کی سلاخوں سے باہر جھانکا اور ستاروں کو پالیا۔‘‘ مسز تھامپسن نے ایک بہت پرانی حقیقت کو دریافت کرلیا تھا جس کا پانچ سو سال قبل ازمسیح یونانی پرچار کیا کرتے تھے ’’بہترین چیزیں انتہائی مشکل ہوتی ہیں۔‘‘

میرے ہم وطنو! یاد رکھیں کہ آپ میں بھی منفی کو مثبت میں تبدیل کرنے کی حیرت انگیز صلاحیت موجود ہے آپ بھی ہر ناممکن کو ممکن کرسکتے ہیں۔ ذہن نشین رکھیے گا اس میں زیادہ مشکلات ممکن نہیں ہیں، جو آپ برداشت کر رہے ہیں لیکن اگر آپ اپنی مشکلات کی عزت کرنے لگے ہیں تو پھر ہر بات بے کار ہے اگر نہیں تو پھر آئیں مل کر اپنی مشکلات کی بے عزتی کرتے ہیں انھیں ذلیل و رسوا کرتے ہیں اور انھیں اتنا پریشان کردیتے ہیں کہ کبھی دوبارہ ہماری طرف رخ کرنے کا سوچیں بھی نہیں۔ اس سے پہلے بس ہمیں اپنے رویے تبدیل کرنا ہوں گے کیونکہ آسانی، خوشحالی اور ترقی کے لیے کسی بھی معاشرے میں سب سے ضروری عنصر تبدیلی کا ہوتا ہے۔

تبدیلی رویے تبدیل کرنے کا نام ہے سوچ کو تبدیل کرنے سے رویے تبدیل ہو جاتے ہیں اصل میں ہم ان عقائد وتاریخی حقائق کو جو ہمیں ورثے میں ملتے ہیں بغیر سوچے سمجھے قبول کرلیتے ہیں۔ اس کی ایک تو یہ وجہ ہے کہ انسان غور وفکر سے جی چراتا ہے اور دوسری یہ کہ ان کی جانچ پرکھ کا عمل خاصا اذیت ناک ہوتا ہے اس لیے عمرگزرنے کے ساتھ غور و فکر نہ کرنے کی وجہ سے ہمارے ذہن میں ان گنت جالے بن جاتے ہیں اور ہم ان جالوں سے اس قدر مانوس ہو جاتے ہیں کہ انھیں صاف ہی نہیں کرنا چاہتے۔

معاف کیجیے گا ہم 67 سالوں سے کچھ نہیں کررہے بس چوراہے پر بیٹھے آنے جانے والوں کو دیکھ رہے ہیں اور جب تھک جاتے ہیں توگھر جاکر سو جاتے ہیں اور صبح دوبارہ وہیں آکر بیٹھ جاتے ہیں نہ ہمیں اپنی صلاحیتوں کا علم ہے نہ ہمیں اپنی منزلوں کا پتا ہے۔ اور نہ ہی ہمیں اپنے حالات کو تبدیل کرنے میں کوئی دلچسپی ہے۔ بس ایک ہی گیت گائے جا رہے ہیں ’’جو دے اس کا بھی بھلا جو نہ دے اس کا بھی بھلا۔‘‘

تو پھر ظاہر ہے پیداگیروں، لٹیروں، غاصبوں کی عید تو ہونی ہی ہے۔ ان کے لیے اس سے زیادہ اچھے حالات اور کیا ہوسکتے ہیں۔ جب انسان اپنا دشمن آپ ہو تو پھر اسے دشمنوں کی کیا ضرورت ہے۔ معاف کیجیے گا ہم اپنے دشمن آپ بنے ہوئے ہیں اگر ہم اپنے حالات تبدیل کرنا چاہتے تو پھر ہمیں اپنے آپ سے محبت کرنا ہوگی اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب ہمیں اپنے آپ پر ترس آجائے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔