جہاں کبوتر شہر بدر کر دیے گئے

انتظار حسین  اتوار 8 دسمبر 2013
rmvsyndlcate@gmail.com

[email protected]

یہ اکیسویں صدی ہے اور نیا زمانہ ہے۔ وہ زمانہ جسے ٹیکنالوجی نام کا سرخاب کا پر لگا ہوا ہے اور جسے علامہ اقبالؔ نے مشینوں کی حکومت سے تعبیر کیا تھا اور ہمیں خبردار کیا تھا کہ؎

ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت

احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

اس نئے زمانے نے بیسویں صدی ہی میں پر پرزے نکال لیے تھے۔ اکیسویں صدی تک آتے آتے یہ زمانہ قیامت بن چکا ہے۔ علامہ اقبالؔ نے صحیح خبردار کیا تھا۔

کہاں کی انسانی دردمندی اور کیسا احساس مروت۔ پہلے آدمی نے آدمی سے بے مروتی برتی۔ پھر حیوانی مخلوقات اور سب سے بڑھ کر پرندے اس کی زد میں آئے۔ پاکستان میں پرندے کن مشکلات میں گرفتار ہیں اس وقت وہ ذکر مقصود نہیں۔ اس وقت تو ہانگ کانگ کے کبوتر ہمارے پیش نظر ہیں۔ کبوتر سمجھ لو کہ پرانی دنیا کے باسی ہیں۔ جب تک ہمیں پرانی دنیا عزیز تھی پرندے بھی عزیز تھے اور کبوتر تو ہمیں اتنے عزیز تھے کہ کتنے گھروں کی چھتوں پر ایک کابک ضرور رکھی نظر آتی تھی۔ صبح ہوئی، کابکوں کے در کھلے، کبوتر پھڑ پھڑا کر نکلے اور تھوڑی ہی دیر میں آسمان کی بلندیوں میں پرواز کرتے نظر آئے۔ اب جو ہم نے ہانگ کانگ سے آنے والی خبر پڑھی ہے اس سے پتہ چلا کہ شاید ہانگ کانگ کی بستیوں میں بھی یہی نقشہ تھا۔ مگر اب وہاں کبوتر اور کبوتروں کو پالنے والے و نیز فروخت کرنے والے مشکل میں ہیں۔

اصل میں ہانگ کانگ میں ابھی پچھلے زمانے تک کبوتر بازوں کا بہت دور دورہ تھا جو نہ صرف کبوتروں کو آسمان کی بلندیوں میں اڑتا دیکھ کر خوش ہوتے تھے بلکہ آپس میں مقابلہ کی صورت بھی پیدا کر لیتے تھے کہ کس کا کبوتر کتنی بلندی تک گیا اور کتنی دیر محو پرواز رہا۔ کبوتر بازی کی یہ وہی روایت ہے جو ہمارے یہاں بھی خوب پروان چڑھی اور بڑے بڑے کبوتر باز پیدا ہوئے۔ خیر ہمارے یہاں تو یہ ہوا کہ اس زمانے کے گزرنے کے بعد جب روایتی کھیلوں اور مشاغل کا بہت چرچا تھا کبوتر بازی کے ان مقابلوں کی بھی گہما گہمی گہناتی چلی گئی۔ مگر ہانگ کانگ میں دوسرا واقعہ گزرا۔ یہ جیسا کہ اخباری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہانگ کانگ کی اربن رینوئل اتھارٹی نے شہروں کی جدید طرز پر کایا کلپ کا منصوبہ تیار کیا۔ اس رنگ سے کہ بلند و بالا اپارٹمنٹ بلاک تعمیر کیے جائیں، شاندار ہوٹل، شاپنگ مال، دفاتر کے لیے پروقار عمارتیں۔ اس منصوبے کو پروان اس طرح چڑھایا گیا کہ پرانی دھرانی دکانوں اور کاروباری عمارتوں پر بل ڈوزر چل گیا۔ کبوتروں کی دکانیں خاص طور پر زد میں آئیں۔ کبوتروں کے کاروبار پر اعتراض یہ تھا کہ کبوتروں میں وہ جراثیم پلتے بڑھتے ہیں جن سے فلو پھیلتا ہے۔ مگر شاید اصل معاملہ یہ تھا کہ جدید طرز کی شاہراہ پر عالیشان اسٹور ہائوسوں کے بیچ کبوتروں سے بھری یہ پرانی دھرانی دکانیں سجتی نہیں تھیں۔

مگر وہ شخص اپنے آپ کو کتنا خوش قسمت سمجھ رہا تھا جس کی دکان بلڈوز کی زد میں آنے سے بچ گئی۔ مگر آخر کب تک بچی رہتی۔ اس کے غٹرغوں کرتے کبوتر اب بے وقت کی راگنی تھے۔ جلد ہی کارکنان تعمیر نو کو احساس ہوا کہ ہم سے چوک ہوئی۔ کبوتروں کی ایک دکان تو ابھی تک موجود ہے۔ ایک نامبارک صبح بلڈوزر نمودار ہوا۔ پھاوڑے بھی اپنا کام دکھانے کے لیے آن موجود ہوئے۔

تب وہ شخص اپنی مسمار ہوتی دکان کو اور اپنے بدحال کبوتروں کو دیکھ کر رویا اور بولا اے لوگو! میں اجڑ گیا۔ میرا تو سب کچھ یہی کبوتر تھے اور یہی ٹھیا تھا۔ میں اس ٹھیے سے اٹھ کر کہاں جائوں۔ میرے لیے پناہ اب کہاں ہے۔ ان کبوتروں کو دیکھ کر تو میں جیتا تھا۔ ارے ان میرے کبوتروں کی آنکھیں ہیرا موتی تھیں۔ نہیں، ہیرے موتیوں سے بڑھ کر۔ یہی آنکھیں تو میری بینائی تھیں اور میرے کبوتر اور کہاں جائیں گے۔ اس نئے دیار میں کبوتروں کے لیے کہیں ٹھکانا نہیں ہے۔

تب ایک کبوتر باز جو اس وقت پچھتر کے پیٹے میں ہے کسی گوشے سے نکل کر یہاں وارد ہوا۔ اس دلدوز منظر کو دیکھ کر آبدیدہ ہوا اور رقت بھری آواز میں بولا کہ ہانگ کانگ کے کبوتروں کا اب اس نگر میں کہیں ٹھکانا نہیں ہے۔ ہم خانہ بربادوں کو اپنے گھروں میں کبوتر رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔

جب یہ غریب کبوتر پرست بہت رو گا چکا تو اس منصوبے کے ارباب نے اس پر ترس کھایا اور اس نقصان کی تلافی کے طور پر ایک لاکھ ڈالر (ہانگ کانگ والے) اسے نذر کیے اور شہر سے پانچ میل دور ایک علاقے میں جو برڈ گارڈن کے نام سے جانا جاتا ہے زمین کا ایک ٹکڑا عطا کیا کہ یہاں اپنی دکان تعمیر کرو اور کام شروع کرو۔ مگر؎

تلافی بھی جو کی ظالم نے کیا کی

ہدایت کی کہ اپنی دکان میں سب پرندے رکھنا۔ بس کبوتر مت رکھنا۔

اس شخص نے جو مسٹر لینگ کہلاتا ہے مرے لہجہ میں کہا کہ اپنی سی کوشش تو کروں گا کہ طوطے اور گانے والی چڑیاں لا کر دکان میں رکھوں اور بیچوں۔ مگر۔ رک کر کہا کہ ’’زندگی میں شاذ و نادر ہی کوئی ایسی چیز آپ کی نظروں میں سماتی ہے جس سے آپ سچی محبت کرتے ہیں۔‘‘

لاہور والے شکر کریں اور خاص طور پر لاہور کے کبوتر باز کہ ان کے شہر میں ابھی یہ نوبت نہیں آئی ہے۔ ابھی لاہور کے آسمان پر کبوتر اونچی اڑان بھرتے دیکھے جا سکتے ہیں اور کوٹھوں اور چھتوں پر چھتریاں مشاہدہ کی جا سکتی ہیں۔ مگر شرط یہ ہے کہ آپ نئے نئے آباد علاقوں سے منہ موڑ کر پرانے لاہور کی طرف آسمان پر دیکھتے اور کوٹھوں چھتوں اور منڈیروں پر نظر دوڑاتے چلیں۔ نئے نئے آباد ہونے والے علاقے تو ماڈرن سٹی، بننے کا سہانا خواب دیکھ رہے ہیں۔ ہاں جب آپ ان کی طرف پشت کر کے پرانے شہر کی طرف قدم بڑھائیں گے تو جہاں کہاں کوٹھوں پر کابکیں بھی نظر آئیں گی اور چھتریاں بھی دکھائی دیں گی۔ ان پر کبوتر بھی بیٹھے نظر آئیں گے۔

جب قریب جائیں گے تو غٹرغوں غٹرغوں کا نغمہ بھی سنائی دے گا۔ پتنگوں سے تو ارباب شہر نے اپنے شہر کو فارغ کر دیا۔ مگر ہر چند کہ کبوتر بازی بھی لہو و لعب کے ذیل میں شمار کی جاتی ہے مگر کبوتر شہر کی چھتوں پر منڈلاتے اور آسمان کی بلندیوں میں اڑان بھرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ فی الحال یہی بہت ہے۔ غنیمت شمر صحبت مردماں و کبوتر بازاں۔ آگے زمانہ جو دکھائے وہ دیکھنے کے لیے تیار ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔