بھارت مقبوضہ کشمیرکی مسلم اکثریت کواقلیت میں تبدیل کرنا چاہتا ہے،وزیرخارجہ

ویب ڈیسک  پير 22 جون 2020
او آئی سی رابطہ گروپ نے مقبوضہ کشمیر میں طویل لاک ڈاؤن ختم کرنے کا مطالبہ کیا، وزیرخارجہ

او آئی سی رابطہ گروپ نے مقبوضہ کشمیر میں طویل لاک ڈاؤن ختم کرنے کا مطالبہ کیا، وزیرخارجہ

اسلام آباد: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ بھارت بزور بازو حریت کے جذبے کو ہندوتوا سوچ سے کچلنے کی کوشش کررہا ہے۔

مقبوضہ کشمیر پر او آئی سی رابطہ گروپ کے ہنگامی اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کشمیرپر او آئی سی رابطہ گروپ کا اجلاس اس لیے بلایا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال تیزی سےبگڑتی جارہی ہے، اجلاس میں بتایا کہ حریت رہنماؤں کو پابند سلاسل کیا گیا، جس طرح مقبوضہ کشمیرمیں شہریوں کونشانہ بنایا جارہا ہےاس پرتشویش ہے۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ اجلاس میں آزاد کشمیرکے صدرکا پیغام بھی آیا اورسب نے سنا، واضح طور پربتایا کہ بھارت بزور بازو حریت کے جذبے کو ہندوتوا سوچ سے کچلنے کی کوشش کررہا ہے اور مقبوضہ کشمیرکو مسلم اکثریت سے اقلیت میں تبدیل کرنا چاہتا ہے، گروپ کو مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج کےجعلی مقابلوں ،پیلٹ گنزکے استعمال سے آگاہ کیا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت کے 5 اگست کے اقدامات کے پیچھےسوچ کیا تھی اس سےاجلاس کو آگاہ کیا، اجلاس کو آگاہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں میڈیا کی آواز دبائی جارہی ہے، بھارت مقبوضہ کشمیرمیں حریت اورآزادی کے جذبے کو ظلم اور تشدد سے روکنا چاہتا ہے لیکن بھارت اس ظلم وتشدد سے جذبہ آزادی ختم کرنے میں ناکام ہے اورناکام رہے گا۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ رابطہ گروپ نے کشمیر میں طویل لاک ڈاؤن ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیرمیں کالے قوانین ختم کیے جائیں، عالمی میڈیا کو مقبوضہ کشمیرمیں رسائی دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ رابطہ گروپ کو مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی اقدامات کی حقیقت سے آگاہ کیا، بھارت نے ان ممالک کوکہا تھا کہ مقبوضہ کشمیرمیں اقدامات عارضی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔