چین نے بھارت کو گردن سے دبوچ لیا

کنول زہرا  اتوار 28 جون 2020
بھارتیوں کی چالاکی ہڈی بن کر ان کے حلق میں پھنس گئی ہے ۔ فوٹو : فائل

بھارتیوں کی چالاکی ہڈی بن کر ان کے حلق میں پھنس گئی ہے ۔ فوٹو : فائل

بھارت کو ہمیشہ ہی خطے کا چوہدری بننے کا گھمنڈ رہا ہے،اسی خام خیالی کے تحت ہی اس نے چین کے علاقے لداخ پر قبضہ جمایا، جو 1962 کی چین اور بھارت کی جنگ کا باعث بھی بنا، جس میں چین نے بھارت کو ناک رگڑنے پر مجبور کردیا تھا، مگر بھارت چورمچائے شور کے مصداق اس معاملے کو اقوام متحدہ میں لے گیا اور معاملات کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی، بعدازاں لائن آف ایکچوئل کنٹرول کا قیام عمل میں آیا۔ دونوں ملکوں کے مابین لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر اختلاف رہا ہے۔ 2017 میں بھی سکم اور لداخ کے مقام پر بھارت اور چین کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔

9 مئی 2020 کو سکم میں نکولا کے مقام پر بھارتی اور چینی فوجیوں کے مابین ایک واقعہ پیش آیا تھا جس میں فریقوں کی جانب سے ’’جارحانہ رویہ‘‘ دیکھنے کو ملا جس کے نتیجے میں فوجیوں کو معمولی چوٹیں بھی آئیں۔ تاہم طے شدہ پروٹوکولز کے تحت مقامی کمانڈر کی سطح کے افسران کے مابین مذاکرات کے بعد فریقوں میں معاملہ رفع دفع ہوگیا، مگر ایسا نہیں ہے چین بھارت میں 20 کلومیٹر سے زیادہ تک آگے چلا گیا ہے، اور بھارت کی بہادر سینا بینرز اٹھا کر چین کی پیش قدمی کو ’’اسٹاپ اسٹاپ‘‘ کا کہہ رہی ہے۔

15 جون کی شب لداخ میں ہونے والی اس جھڑپ میں بھارتی کرنل سمیت 20 انڈین فوجی ہلاک ہوئے ہیں جب کہ چین کی جانب سے تاحال جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا ہے کہ ’وادی گلوان پر ہمیشہ سے چین کی عمل داری ہی رہی ہے۔ انڈین فوجیوں نے سرحدی معاملات پر ہمارے پروٹوکول اور کمانڈرز کی سطح کے مذاکرات پر طے شدہ اتفاقِ رائے کی سنگین خلاف ورزیاں کیں۔‘ چینی میڈیا کے مطابق مئی 2020 میں’مغربی سیکٹر کی گلوان وادی میں انڈیا نے غیر قانونی تعمیرات کی ہیں جو معاہدے کی شدید خلاف ورزی ہے جس کے بعد پیپلز لبریشن آرمی نے اپنا کنٹرول سخت کر دیا ہے۔’

٭چین نے بھارت کو گردن سے دبوچ لیا ہے :چین بھارت کو ایک جھٹکے میں توڑ سکتا ہے چین کی سرحدیں ہندوستان کے انتہائی اہم اہمیت کے حامل علاقے سلگری کوریڈور سے ملتی ہیں، جسے چکن نیک یعنی چوزے کی گردن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔چین نے چیک نیک تک آسان رسائی کے لیے سڑک بنائی ہے جس پر جون 2017 میں ہندوستان اور چین کی فوج کے درمیان چھڑپیں بھی ہوچکی ہیں۔

چین کی طرف سے تمام مخالفتوں کے باوجود یہ سڑک تقریباً تعمیر ہو گئی ہے، جس سے دفاعی حکمت عملی کے اعتبار سے بہت ہی اہم راہ داری ’چکن نیک‘ تک چین کی رسائی بہت آسان ہو گئی ہے۔ اب چین بھارت کی گردن کو پکڑ چکا ہے۔ یعنی ہندوستان کو توڑنے کے لیے چین کو صرف بیس کلومیٹر کا راستہ بند کرنا ہے اور بھارت کی آسام سمیت اہم ریاستیں بھارت سے ایک جھٹکے میں کٹ جائیں گی۔

٭ نیپال بھی بھارت کو آنکھ دیکھا رہا ہے :حال ہی میں بھارت کے تیرہ فوجی نیپال میں جاگھسے جنہیں نیپالی دیہاتیوں نے پکڑ کر اپنی فورسز کے حوالے کردیا، بعدازاں صورت حال یہ رونما ہوئی کہ بھارت کو باقاعدہ طور معافی نامے پر دستخط کرکے اپنے سورماؤں کو رہا کروانا پڑا۔ گُھس کر مارنے کے فلمی مکالمے بولے والوں کو حقیقی دنیا میں 27 فروری 2019 کے بعد پاکستان جب کہ حالیہ دنوں میں چین اور نیپال سے تاریخی چھترول کے بعد چپ لگ گئی ہے۔

نیپال نے بھارت کے خلاف اس وقت سخت ناراضی کا اظہار کیا جب بھارتی وزیردفاع راج ناتھ سنگھ نے آٹھ مئی کو حقیقی کنٹرول لائن پر واقع لیپو لیک کے قریب سے ہو کر گزرنے والی اتراکھنڈ۔ کیلاش مانسرور سڑک کا افتتاح کیا۔ لیپو لیکھ وہ جگہ ہے جہاں بھارت، نیپال اور چین کی سرحدیں ملتی ہیں۔ سڑک کے افتتاح کے بعد نیپال میں بھارت مخالف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا، جس کے بعد نیپالی وزیراعظم کو کُل جماعتی اجلاس طلب کرکے وضاحت کرنی پڑی۔نیپال کی وزارت خارجہ نے کٹھمنڈو میں بھارت کے سفیر کو اپنے دفتر میں طلب کرکے سخت احتجاج کیا اور کہا ’’بھارت نیپال کے علاقے کے اندر اس طرح کی کسی بھی سرگرمی سے گریز کرے۔‘‘ بھارت نیپال کی جانب سے آنکھیں دکھانے کے معاملے کو چین سے جوڑ رہا ہے جس کے بعد ماحول مزید تناؤ کا شکار ہوگیا۔

انڈیا ٹو ڈے کے مطابق پہلی بار نیپال اور بھارت کی متصل بارڈر پر نیپالی آرمی مکمل چاق چوبند انداز میں تعینات ہے۔ نیپال اور بھارت کے درمیان نہایت قریبی اور تاریخی رشتے رہے ہیں لیکن مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد دونوں کے درمیان مسلسل دوری دکھائی دے رہی ہے۔ نیپال کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے سرحدی تنازعے کو بھارت کے سامنے کئی مرتبہ اٹھایا ہے۔ گذشتہ برس نومبر میں بھی بھارت کی طرف سے جموں و کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے بعد شائع کیے جانے والے نقشے پر نیپال نے سخت اعتراض کیا تھا۔

اس نقشے میں کالاپانی نامی علاقے کو بھارتی ریاست اترا کھنڈ کا حصہ دکھایا گیا ہے جب کہ نیپال کا دعویٰ ہے کہ یہ اس کا علاقہ ہے جو بھارت، نیپال اور چین کی سرحدوں کے درمیان واقع ہے۔ اس نقشے کی اشاعت کے بعد نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔ بھارت کا خیال ہے کہ وزیراعظم کے پی اولی اور ان کی نیپال کمیونسٹ پارٹی کا جھکاؤ چین کی جانب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت نیپال کو جواب نہیں دے رہا کیوںکہ اسے علم ہے کہ اگر نیپال کے خلاف کوئی قدم اٹھایا گیا تو چین کو نیپال میں گھسنے، وہاں بیٹھنے اور بھارت کے خلاف کارروائی کا موقع مل جائے گا۔ اس کے علاوہ پاکستان بھی کھٹمنڈو میں اپنا انٹیلی جنس نظام مزید مضبوط اور مستحکم کر سکتا ہے۔

٭بھارتی ابلاغ عامہ کا بچکانہ اقدام:خطے میں کشیدگی بڑھانے کے لیے بھارتی حکومت نے ایک اور نئی چال چلی تھی۔ بھارتی وزارت اطلاعات و نشریات نے سرکاری ٹی وی دوردرشن اور آل انڈیا ریڈیو کے لیے احکامات جاری کیے ہیں کہ آزاد کشمیر کے شہر مظفرآباد اور میرپور کے علاوہ گلگت بلتستان بھارت کا حصہ ہیں۔

اس لیے بھارت کے دیگر شہروں کی طرح ان شہروں کے موسم کا حال روزانہ کی بنیاد پر پیش کریں، پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے بھارت کے اس گھناؤنے فعل کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے گذشتہ سال اپنے ملک کا نقشہ تبدیل کرتے ہوئے اس میں پاکستانی علاقوں کو شامل کر لیا تھا جو نہ صرف حقیقت کے برخلاف تھا بلکہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے بھی منافی تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا کوئی بھی غیرقانونی اقدام جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت کی اس گھناؤنی چال کا مقصد صرف یہ ہے کہ وہ بھارتی عوام اور دنیا بھر میں یہ تاثر پیدا کر سکے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان بھارتی علاقے ہیں۔ تاہم تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کی اس مذموم اور گم راہ کن حرکت سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا جس کی تمام تر ذمہ داری بھارت پر عائد ہوگی۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ سرحدپار دہشت گردی کے حوالے سے یو این او کے ریڈر کی بھارت پر کڑی نظر ہے۔ مودی کی جانب سے متنازعہ شہری قانون کی منظوری، مقبوضہ کشمیر کے آئین میں ردوبدل سے باخبر یو این او کو بھی ہے، جب کہ سری لنکا میں چرچ پر حملے کے تانے بانے بھی ہندوستان سے ملتے ہیں ۔

٭ ایل اے سی کی خاموشی سے خلاف ورزی بھارت کو لے ڈوبی:بھارت جس خاموشی سے ایل اے سی کے قوانین کو بالائے طاق رکھ کر سرحدی خلاف ورزی کرکے اپنے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے اپنا رہا تھا۔ بھارتی کی خاموش کاروائی پر چین نے جس خاموشی سے اپنی فوج کو میدان میں اتارا ہے وہ قابل دید ہے۔ بھارتی وزیراعظم، فوج اور میڈیا کی تو بولتی ہی بند ہوگئی ہے جب کہ بھارتی عوام مودی سرکار سے پوچھ رہے ہیں کہاں ہے وہ مضبوط بھارت جس کا خواب تم نے ہمیں دکھایا تھا۔

بھارت جو کھیل پاکستان کے ساتھ کھیل رہا تھا اللہ نے الٹی آنتیں گلے میں ڈال دی ہیں، اب بھارت اپنے عوام کو انرجی ڈرنک دینے کے لیے پاکستان پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ لیکن بھارتی سرکار کو یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان قدرتی ماحول دوست ملک ہے اب کی دفعہ اگر ہمارے درختوں کو کچھ ہوا تو چائے نہیں پلائیں گے بلکہ بکسے میں بند کرکے بھیجیں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔