کورونا کے لوازمات

سعد اللہ جان برق  بدھ 1 جولائ 2020
barq@email.com

[email protected]

ان دنوں ہم خود کو شدید خطرناک صورت حال یعنی ’’ڈینجر زون‘‘ میں محسوس کررہے ہیں، اگرچہ اس کا تعلق بھی اس کم بخت مارے کورونا عرف کووڈ نائنٹین سے ہے لیکن ویسا نہیں جیسا آپ سمجھ رہے ہیں بلکہ جیسا آپ نہیں سمجھ رہے ہیں ویسا ہے۔

مطلب یہ کہ ٹیکنیکلی اسے خطرہ کہہ بھی نہیں سکتے لیکن اس ’’ناک‘‘ والے خاندان میں جتنی بھی ناکیں ہیں مثلاً غم ناک، دردناک، تشویشناک اور شرمناک وغیرہ سب اس میں سمائی بلکہ گھسی ہوئی ہیں۔بزرگوں نے کہاہے کہ خطرے ہزار ہوں یا ایک، سب کی منزل وہی ایک ہوتی ہے جہاں ہرکسی کو پہنچنا ہوتاہے اور ایک سالک نے اس کے بارے میں کہاہے کہ

موت بھی اس لیے گوارا کی

موت آتا نہیں ہے آتی ہے

ایک اور دانا کے راز بلکہ دانا کی ساس نے کہاہے کہ

آتی جاتی ’’ساس‘‘کا عالم نہ پوچھ

جیسے دوہری دھار کا خنجر چلے

جب کہ صوفیہ شیخہ سالکہ مرحومہ اقبال بانو نے تو دوٹوک بات کہی ہے کہ چاہے ہوا میں اڑو اس کے نشانے سے بچنا ممکن نہیں اور جس چیز سے بچنا ممکن ہی نہیں بچنے کی کوشش یونہی دل کو بہلانے والی بات ہے جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کرلیتا ہے ،کل ملا کر بات یہ نہیں ہے کہ خطرہ ہمیں ’’مرض‘‘سے ہے بلکہ اس کے قبل ازموت لوازمات سے ہے، زیادہ سے زیادہ جان ہی لے گا تو وہ ویسے بھی ہماری جان پہ بھاری ہے غم کا افسانہ۔کہ اس زندگی عرف شرمندگی میں ہم نے کیا تیر مارا ہے جو اس کے بعد مار لیں گے۔

نہ تو ودستی نے مارا نہ تو دشمنی نے مارا

گلہ موت سے نہیں ہے ہمیں زندگی نے مارا

بچاری موت تو ویسی ہی بدنام ہے، بری تو زندگی ہے کہ انسان کو دونوں جہانوں میں رسوا کردیتی ہے جب کہ موت اس پر پردہ ڈال کر چھپالیتی ہے۔ہم نے اس ناہنجار نابکار سراسر آزار کورونا عرف کووڈ نائنٹین کے جن  ’’لوازمات‘‘کا ذکرکیاہے، اس کا معاملہ یوں ہے جیسا کہ ایک پشتو کہاوت میں کہاگیاہے کہ شادی تو آسان ہے لیکن اس کے ’’ٹکہ ٹوکا‘‘یعنی لوازمات مشکل ہیں۔

منگنی سے لے کر شادی تک جو لوازمات ہوتے ہیں، وہ انسان کا بھرکس نکال دیتے ہیں۔اسی طرح اس کورونا کے جو لوازمات ہیں جو یہ اپنے ساتھ جہیز میں لے آکر آئی ہے، انھی لوازمات نے ہمیں ہمہ اقسام کی ’’ناکوں‘‘کا نشانہ بنارکھاہے۔اب یہ ہاتھ دھونے کا جو سلسلہ یا پھانسی سے پہلے مشقت ہے، اسے لے لیجیے۔کوئی بیس منٹ  ہاتھ دھونے کے لیے وقت کہاں سے نکالے کہ آخر زندہ انسان ہے، کسی نہ کسی چیز کو تو ہاتھ لگانا پڑتاہے جب کہ اس کم بخت بے شرم وبے حیا کورونا عرف کووڈنائنٹین کو اتنا بھی احساس نہیں کہ کم ازکم بزرگوں کی تصاویر والی کرنسی کا تو احترام کرتا۔جب کہ قدم قدم اور سانس سانس کے ساتھ بچارا اس مہنگائی آئی ایم آئی اور انصاف کے مارے کو جیب میں ڈالنا پڑتا۔اب اگر صرف ’’نوٹوں‘‘ کے تبادلے کے حساب سے بھی ہاتھ دھونا پڑیں تو…

ہاتھ دھو دل سے یہی گرمی گر اندیشے میں ہے

آبگینہ تندئی صہبا سے پگھلا جائے ہے

جب ہاتھوں پرپہلے ہی سے کسی’’میل‘‘کانام ونشان نہ ہو، انھیں بار بار دھونے سے توان کی وہ لکیریں بھی مٹ جائیں گی جو پہلے ہی سے نہایت شکستہ اور کٹی کٹی بلکہ مری مٹی ہیں۔انھی ہاتھوں کی شکستہ لکیروں کی وجہ ہی سے تو آج تک کسی ’’مسرت نذیر‘‘نے تو کیا ’’حسرت نذیر‘‘ نے بھی ہم سے نہیں کہاہے کہ

اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں بسالے مجھ کو

کہ ان ہاتھوں کا نصیبہ صرف ملناہے میل نہیں

ہم یہ نہیں کہتے کہ ہاتھ دھونے کی تلقین کرنے والے غلط ہیں۔ وہ اچھے اور سچے لوگ ہیں۔ کبھی کچے بول بول ہی نہیں سکتے۔ اچھا ہے کہ ہاتھ ہر بیس سکنڈ کے بعد ہراس صابن سے دھوئے جائیں جومخیر لوگ آج کل ٹیوی وغیرہ پرپیش کررہے ہیں لیکن ہم اپنی مجبوریاں بیان کرنا چاہتے ہیں، اس بچاری نونو چوڑیوں والی کی طرح کہ

میرے ہاتھ میں نو نو چوڑیاں ہیں

ذرا دیکھو سجن مجبوریاں ہیں

ناک چھپانا یعنی منہ پر نقاب یا ڈھاٹا باندھنا بھی برا نہیں ہے بلکہ اس کے تو فوائد بے شمار ہیں صرف کورونا وائرس ہی کی وجہ سے نہیں بلکہ ’’لہسن‘‘کھانے کی وجہ سے کیونکہ پاکستان کے لوگ آج کل لہسن بہت زیادہ کھارہے ہیں جو آئی ایم ایف کی طرف سے فراہم کیا جارہاہے اور جس کی بدبوُ سے بچنے کے لیے چھ تو کیا دس فٹ کا فاصلہ بھی ناکافی ہے۔ارے ہاں اس چھ فٹ کے فاصلے کا رونا توہم نے ابھی رویا نہیں ہے جس نے ہماری ساری’’ان کمنگ‘‘کوختم کردیاہے۔ خوش قسمتی یا بدقسمتی سے ہماری شنوائی یعنی سماعت پاکستان کی معیشت اور لیڈروں افسروں کی دیانت سے بھی زیادہ کمزور ہے۔اب ذرا منہ پرنقاب اور دس فٹ کے فاصلے کا تصور قائم کیجیے اور پھر سمجھیے کہ کوئی صاحب ہمیں سمجھائے کہ ہم کسی کی بات کیاسنیں گے اور کیاسمجھیں گے، بس وہی چیونگم چبانے والی بات ہوجاتی ہے۔

وہ ہونٹ ہلا رہاہوتاہے اور ہم دیوار بنے بیٹھے رہتے ہیں کیونکہ نقاب کی وجہ سے ہونٹ نہیں دکھتے اور آپ ریڈنگ بھی نہیں کرسکتے،گویا بچارے’’بہروں‘‘کی ایک اور مجبوری۔پہلے تو بہروں کی مجبوری یہ ہوتی تھی کہ انھیں لطیفے پر دو مرتبہ ہنسنا پڑتا تھا، ایک بار سنے سمجھے بغیر لوگوں کو دیکھ کر ہنسنا اور دوسری بار لطیفہ سمجھ کر۔اسی طرح ہمیں ہربولنے والے کی بات پر دو دو دفعہ ’’رونا‘‘ پڑتا ہے۔ ایک مرتبہ نہ سننے کی محرومی پر اور دوسری دفعہ سمجھ میں آنے کے بعد۔کیابتائیں کہ آج کل کتنے لوگوں کے ساتھ ہمارا یہی معاملہ چل رہا ہے، وہ بولتے رہتے ہیں اور ہم کھولتے رہتے ہیں۔ یادل نہ دیا ہوتا یا غم نہ دیا ہوتا۔

وقت مجھ پرزندگی میں دو ہی گزرے ہیں کھٹن

اک ترے آنے سے پہلے اک ترے جانے کے بعد

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔