سہما ہوا بچہ؛ کشمیر کی اصل تصویر

فرحین شیخ  جمعـء 3 جولائ 2020
ان بچوں کی آنکھوں سے کشمیر کو دیکھیں تو نظارہ بے حد بھیانک ہے۔ (فوٹو: فائل)

ان بچوں کی آنکھوں سے کشمیر کو دیکھیں تو نظارہ بے حد بھیانک ہے۔ (فوٹو: فائل)

بھارت کی تو کیا ہی بات ہے۔ یہاں صرف فلموں میں ہی حقیقت کا رنگ نہیں بھرا جاتا بلکہ حقیقی زندگی کو بھی ایسے فلمی بنا دیا جاتا ہے کہ دیکھنے والا ہکا بکا دیکھتا رہ جاتا ہے۔ بالکل ایسے جیسے اس تصویر کو دنیا بھر میں حیرت سے دیکھا جارہا ہے جس میں انسانیت کی ایک رمق بھی ڈھونڈے سے نہیں مل رہی۔ کشمیر کی سڑکوں پر بالی وڈ کی بے شمار فلمیں فلمائی جاچکی ہیں لیکن یہاں حقیقت میں جو سین دیکھنے کو ملتے ہیں وہ فلموں میں نہیں مل سکتے۔

اب اس منظر کو دیکھیے ناں! سڑک پر پڑا خون آلود بے جان جسم اور اس پر بیٹھا ننھا کشمیری بچہ، جو لاش سے الگ ہونے کو کسی طور تیار نہیں۔ اس کی روتی خوف زدہ آنکھیں سوالیہ نشان بنی ہوئی ہیں اور جواب ہمیشہ کی طرح دنیا کے پاس نہیں ہے۔ کل تک جو اپنے نانا کے کاندھوں پر بیٹھ کر دنیا دیکھتا تھا، آج اس کے سینے سے ابلتے خون پر گم صم بیٹھا دنیا کو تک رہا ہے۔ آنسوﺅں میں درد کے ساتھ خوف تیر رہا ہے۔ اس منظر میں درد ہی درد ہے۔ کرب ہی کرب ہے۔ یہ فلموں میں دکھایا جانے والا کشمیر نہیں، بلکہ اس بچے کا حقیقی کشمیر ہے، جہاں بچے گولیوں کی تڑتڑاہٹ میں پیدا ہوتے اور پلتے ہیں۔ پھر بھی یہ ننھے منے ظلم اور جبر سہنے کا خود کو عادی نہیں بنا پاتے۔ خود کو تکلیفوں کا عادی بنانا بھلا ممکن بھی کب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج سات دہائیوں بعد بھی کشمیر سے آتی ہر تصویر میں بچوں کی آنکھوں میں خوف کے لہراتے سائے نمایاں نظر آتے ہیں۔

تقریروں اور تحریروں میں ان بچوں کو کتنا ہی جرأت مند اور بہادر قرار دے لیا جائے لیکن اس سے انھیں کیا فائدہ۔ بچے تو بچے ہی رہیں گے، ہمارے اور آپ کے بچوں کی طرح۔ ذرا سی آہٹ پر ڈر جانے والے۔ ڈرے سہمے اس کشمیری بچے کی یہ تصویر تھوڑے ہی عرصے میں ہم تو اپنے حافظے سے محو کر دیں گے لیکن یہ بچہ ان اذیت ناک لمحوں کو کبھی بھلا نہ پائے گا۔ ظلم اور بربریت کی ایسی اور اس سے کہیں زیادہ خوف ناک تصویریں آئے دن ہماری نظروں سے گزر کر گواہی دیتی ہیں کہ کشمیر کی جنت میں جنت جیسا تو کچھ بچا ہی نہیں۔

بھارت کے ہاتھوں دہکتے اس جہنم میں کشمیری بچوں کا مستقبل پوری طرح بھسم ہوچکا ہے۔ چھاپے کے نام پر آدھی آدھی رات کو دھڑدھڑاتے دروازوں اور بھاری جوتوں کی خوف ناک آوازوں کے سوا ان معصوموں کی زندگی میں اور کچھ نہیں رہا۔ تعلیم اور صحت کے عالمی معیارات تو چھوڑیے بنیادی ضروریات تک انہیں میسر نہیں۔ 1990 کے بعد سے اسکول کا مفہوم ان بچوں کےلیے تقریباً ختم ہوچکا ہے۔ اپنی اور اپنے پیاروں کی جان کا خوف ان کی ساری خوشیوں پر حاوی رہتا ہے۔ آسمان کا رنگ ان کےلیے بس سیاہ ہے۔ ذہنی اور جسمانی نشوونما انتہائی ابتر ہے۔ یہ پیٹ میں ہوں یا باہر، گھر پر ہوں یا سڑک پر، کوئی جگہ ان کےلیے محفوظ نہیں۔ دنیا کا وہ کون سا ظلم ہے جو ان بچوں پر توڑا نہیں جارہا۔ جنسی تشدد، غیرقانونی نظر بندی یہاں تک کہ قتل۔ کشمیری بچے ہر ظلم اپنی جان پر سہہ رہے ہیں اور انسانی حقوق کے عالمی ٹھیکے دار آنکھیں بند کیے بیٹھے رہتے ہیں۔

بچے کسی بھی قوم کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں۔ دنیا بچوں کی فلاح و بہبود کےلیے ہر ممکن اقدام کرتی ہے، لیکن کشمیر سمیت دنیا کے تمام جنگ زدہ خطوں کے بچوں کی سلامتی بین الاقوامی سیاست کی بھینٹ چڑھ چکی ہے اور اس پامالی پر سب کے لب سلے ہوئے ہیں۔ اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ دنیا کے تمام متنازعہ اور جنگ زدہ خطوں میں کشمیر وہ خطہ ہے جہاں بچے سب سے بڑی تعداد میں متاثر ہیں۔ یہ شدید نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں۔ ان بچوں کے سامنے ان کے ماں باپ بہن اور بھائی قتل کردیے جاتے ہیں، جس کے بعد یہ ٹراما سے نکل نہیں پاتے۔

سیو دی چلڈرن کی رپورٹ کے مطابق کشمیر میں دو لاکھ چودہ ہزار بچے اس وقت یتیم ہیں جن میں سے سینتیس فیصد، تنازعہ کشمیر میں باپ کے مارے جانے کی وجہ سے یتیم ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے تمام متنازعہ خطوں میں کشمیری بچے سب سے زیادہ سماجی اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں۔ معاشی مشکلات اور صدمات کا شکار ان بچوں کےلیے تعلیم اور ترقی کے راستے مسدود ہوچکے ہیں۔

ان بچوں کی آنکھوں سے کشمیر کو دیکھیں تو نظارہ بے حد بھیانک ہے۔ جنت نظیر وادی کی داستانیں ماورائی لگتی ہیں۔ جہاں سکون نام کی چڑیا کا گزر نہ ہو اس سرزمین کو جنت کیسے کہا جاسکتا ہے۔ پوری دنیا تو چار ماہ سے گھروں میں قید ہے لیکن یہ کشمیری بچے اسی قید میں اپنا پورا بچپن بتا دیتے ہیں۔ گولیوں کی تڑتڑاہٹ میں دن گزارنا ہی ان کی کل زندگی ہے۔ کشمیریوں کی اس حقیقی زندگی پر کون بات کرتا ہے؟ بھارت اور پاکستان دونوں جگہ چینلز پر بے کار بحثیں ہوتی ہیں۔ ان ٹی وی مباحثوں کا ایک عام کشمیری کو بھلا اب تک کیا فائدہ پہنچا ہے؟

میری نظریں اب تک اس تصویر پر گڑی ہوئی ہیں اور میں سوچ رہی ہوں کہ نانا کی لاش پر بیٹھے بچے کی یہ کانپتی ٹانگیں میڈیا کو بس ایک دن دکھائی دیں گی اور کل سارا منظر بدل جائے گا۔ جس پر ابھی شور ہے کل اس کا ذکر تک کسی زباں پر نہ ہوگا۔ نہ سڑک پر پڑی لاش ہوگی اور نہ اس پر بیٹھے بچے اور اس کے کشمیر کی بات ہوگی۔ بالکل ایسے ہی جیسے پچھلے ہفتے بھارتی فوجی کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے چھ سالہ کشمیری بچے کا اب کہیں کوئی ذکر نہیں۔

بعض تصویریں واقعی بولتی ہیں۔ یہ تصویر بھی بول رہی ہے لیکن دنیا کے پاس سننے کا شاید حوصلہ نہیں۔ تصویر بہت کچھ پوچھ رہی ہے لیکن جواب کسی کے پاس نہیں۔ نانا کی لاش پر سوار اس بچے کے سوالوں کا جواب تو شاید وقت بھی نہ دے سکے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔