وِژن یا وژن

سعد اللہ جان برق  جمعـء 3 جولائ 2020
barq@email.com

[email protected]

اب تک تو آپ اچھی طرح جان چکے ہوں گے کہ تحقیق ہمارا شوق بھی ہے مشغلہ بھی اور ہابی بھی، بیماری بھی مرض بھی اور جنون بھی اور عادت بھی۔جو بقول رحمان بابا کبھی چھوٹتی نہیں ، منہ سے یہ کافر لگی ہوئی چنانچہ جب لوگ بات کررہے ہوتے ہیں تو ہم ان کے دانت گن رہے ہوتے ہیں اور معلوم سے نامعلوم کا قیاس کرکے آنتیں گننا بھی شروع کردیتے ہیں۔

جب پہلی بار ہم اکیڈیمی کی عمارت کے سائے میں پورا ایک دن گزار کر تحقیق میں سند یافتہ ہوگئے تو جیسے ہی سائیکل پرسوار ہونے لگے، اس کے دونوں پہیوں کی تاریں گن ڈالی تھیںحالانکہ اس سائیکل پر دس سال کی سواری میں پہلے کبھی یہ خیال نہیں آیا پھرجس شخص سے ہم جلیبیاں لے کر کھاتے تھے اس سے جلیبیاں لیتے ہی تحقیق شروع ہوئی کہ آخر ان ٹیڑھی میڑھی نلکیوں میں یہ رس کیسے بھرتے ہوں گے۔

تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ پہلے یہ لوگ خالی نلکیاں بناتے ہیں اور بعد میں سرینج کے ذریعے ان کے اندر رس بھرتے ہوں گے۔چنانچہ گزشتہ دنوںجب ہم عمران خان کے ’’وژن‘‘پر کالم لکھ رہے تھے کہ ذرا اس’’وژن‘‘کے لفظ پر بھی تحقیق کا ٹٹو دوڑایا جائے کہ یہ کون ہے، کہاں سے آیا ہے یا لایا گیاہے؟ کہاں رہتاہے؟ کہاں سوتاہے اور کس کے ساتھ سوتا ہے۔

مسئلہ لسانیات کا تھا اس لیے ہم نے بھی اپنے ٹٹوئے تحقیق کو لسانیات کی طرف موڑ دیا۔بظاہر تو یہ لفظ ’’وژن‘‘ انگریزی کا بتایا جاتاہے لیکن پھر اچانک ہم نے محسوس کیا کہ یہ لفظ تو ہماری پشتو ’’وژ‘‘ اور ’’وژن‘‘ یا ’’وژل‘‘  میں مارنے کو کہتے ہیں صرف زبر کا فرق ہے لیکن جب ہم اپنے ٹٹوئے تحقیق کو آگے بڑھائیں گے تو معلوم ہوجائے گا کہ(vison)اور(vason) دونوں ایک ہیں کیونکہ لسانیات میں زیر زبر کا فرق نہیں مانا جاتا۔  اس ’’وژ‘‘کی کہانی یوں ہے کہ ہندیوں یا آریوں کا ایک دیوتاتھا ’اندر‘ جو بارش کا تھا۔

اس نے خشک سالی کے عفریت ورتیراہن کو مارنے کے لیے جو ہتھیار استعمال کیاتھا اس کانام وج سے’’وجر‘‘تھا، یہ ایک سہ شاخہ ہتھیارہے،جو بارش میں صاعقہ کی شکل میں ہوتا ہے۔ اصل میں خشک سالی اور سوکھے کے اس عفریت نے دیوتاؤں سے وردان حاصل کیا تھا، اسے زمین کی کسی بھی چیز سے نہ مارا جا سکے۔ لوہا، پتھر، اینٹ، پانی، لکڑی سارے ہتھیاروں کا تعلق زمین سے تھا تب ایک رشی نے قربانی دیتے ہوئے کہا کہ میری ہڈیوں سے ایک ہتھیار بنایا جائے، رشی کی ہڈی پسلیوں سے وہ سہ شاخہ ہتھیار بنایا گیا جو اندر کا ’’وجر‘‘(مارنے والا) کہلاتاہے جس کی اصل ’’وج‘‘یا ’’وژ‘‘ہے، اسی سے پھر وجر بجر بجریا اور بجلی کے الفاظ بنے ہیں۔ظاہر ہے کہ یہ بارش اور خشک سالی کا سیدھا سادا موسمی استعارہ ہے۔ بارش میں بجلی کڑکتی ہے جس کی شکل شاخدار اور ٹیڑھی میڑھی ہوتی ہے۔

وجر کڑکتا ہے تو بارش ہوتی ہے اور بارش سے خشک سالی ختم ہوجاتی ہے۔اندر کے اس وج وجر سے’’وژ‘‘کا لفظ بنا ہے جوہندی اور سنسکرت میں ’’ود‘‘کہلاتاہے جس کے معنی قتل کے یامارنے کے ہیں۔ عام قتل کو تو ’’ہتھیا‘‘  کہتے ہیں لیکن کسی عفریت یا بلا یا شیطانی مخلوق کا قتل ود کہلاتاہے جو وہی وج اور’’وژ‘‘ہے۔

ا ب ’’وژ‘‘سے پھر وژلی وژنہ اور’’وژن‘‘بمعنی مارنے کے بن جاتے ہیں بعد میں انگریزی والوں نے اس پر زبر لگاکروژن کردیا ہوا ہے، جسے ہم آنکھوں کی مار بھی کہہ سکتے ہیں۔ ایک بڑی دلچسپ بات بلکہ تحقیق یہ ہے کہ اس وژ،ود، وج سے ایک لفظ’’وز‘‘بھی بنتاہے غالباً’’وزیر‘‘کا لفظ اسی سے بناہے جو پرانے زمانوں میں بادشاہ لوگ بطور ایک ’’ہتھیار‘‘کے لوگوں پراستعمال کرتے تھے، یعنی وجیر، ودیر، وژیر یا وزیر بادشاہ کو عوام کے مارنے کے طریقے بتاتاتھا یاخود ہی وجر وجیر بن کر عوام کا ’’ود‘‘یا وژ کرتا تھا۔ ابتدائی زمانوں میں بادشاہ لوگ ’’غریب‘‘ ہوتے تھے اس لیے یہ ہتھیار بھی ایک یا دو رکھتے تھے جیسا کہ آج کل مالدار ممالک زیادہ ہتھیار یا ایٹم بم رکھتے ہیں لیکن پھر بادشاہوں اور وژیروں وجیروں نے مل کر اپنی آمدنیاں بڑھائیں تو یہ ہتھیار یعنی وجر وژر یا وزیر بھی بڑھانے لگے یہ بات ابھی تحقیق طلب ہے کہ کس نے کس کو بڑھایا۔

یعنی وجیروں نے آمدن بڑھائی یا آمدن نے وجیر عرف وزیر بڑھائے۔لیکن نتیجہ سامنے ہے کہ آج کی مالدار حکومتیں یہ مارنے والے ہتھیار’’وجر‘‘یا وجیر‘‘زیادہ سے زیادہ رکھتے ہیں تاکہ دشمنوں کو مارنے میں آسانی ہو۔ خلاصہ ہماری تحقیق کا یہ ہے کہ وز۔وژ،ود وج سارے کے سارے گھوم گھام کر وہیں پہنچتے ہیں جہاں سے آگے پھر کوئی راستہ نہیں ہے بلکہ وہی مقام ہے کہ

ترے دربار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے

بندہ و صاحب محتاج وغنی ایک ہوئے

ہم نے تو لسانی تحقیق سے’’وژ‘‘کا پتہ لگایا اب کوئی اسے زبر لگاتا ہے یا زیر لگاتاہے یہ اس کی مرضی ہے لیکن وہ جو کہتے ہیں کہ چارپائی میں سر اور پیر جس طرف بھی کرو سینٹر،سینٹر ہی رہے گا۔

ہر وقت خوش کہ دست دہد مغتنم شمار

کس راہ وقوف ہست کہا نجام کار چست

یعنی جوبھی وقت کٹے جیسا بھی کٹے اسے غنیمت سمجھ کہ یہ کسی کو پتہ نہیں کہ انجام کار کیاہوگا۔اب ہم تو اور دو اخبارات پڑھتے ہیں اور دو اخبارات میں الفاظ پر اعراب نہیں ہوتے(عرب ہوتے ہیں)اس لیے معلوم نہیں کہ یہ جو عمران خان کا ’’وژن‘‘ہے یہ زیر سے ہے یا زبر سے۔یعنی پشتو ’’وژن‘‘ہے یا انگریزی وژن۔ کیونکہ موصوف کا تعلق بھی پشتونوں اور انگریزوں دونوں سے بتایاجاتاہے لیکن چونکہ ’’وزیرلوگ‘‘اپنے عمران خان کے ’’وژن‘‘کا وظیفہ بہت کرتے ہیں اس لیے ان کو پتہ ہوگا کہ کونسا وژن ہے لیکن یہاں ہماری تحقیق ٹھپ اس لیے ہوجاتی ہے کہ ٹٹوئے تحقیق آگے جانے سے بالکل انکار کردیتاہے۔

دلیل اس کی یہ ہے کہ اگر ’’زیر‘‘ والا ’’وژن‘‘ہو۔تو ٹھیک لیکن اگر زبر کا ہوا تو؟۔ویسے بھی یہ لفظ۔ ’’اے تازہ واردان بساط ہوائے دل‘‘ہے اس سے پہلے جتنے بھی لوگ آئے یا آتے چلے گئے ان کے پاس سب کچھ تھا مگر ’’وژن‘‘نہیں حالانکہ وژیر وہ بھی رکھتے تھے۔ مگر نہیں تھا تو ’’وژن‘‘نہیں تھا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔