اسلام: خیر خواہی کا ضابطۂ حیات

علی حسن  جمعـء 3 جولائ 2020
 فوٹو : فائل

فوٹو : فائل

خیر، عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معانی نیکی اور بھلائی کے ہیں خصوصاً جب کوئی نیکی اپنے کمال کو پہنچ جائے تو اسے لفظ ’’خیر‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ خیر کی جمع خِیرات ہے، ہر وہ کام جو خالق کی خوش نُودی اور مخلوق کی فلاح و بہبود کے لیے کیا جائے، خیر کے ہی زُمرے میں آتا ہے۔

خیر: امام راغب اصفہانی نے خیر کی دو اقسام بیان کی ہیں۔

خیر مطلق: جو ہر حال میں، ہر ایک کے نزدیک پسندیدہ ہو جب کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا، مفہوم: ’’وہ خیر کچھ بھی خیر نہیں جس کے بعد آگ ہو اور وہ شر کچھ بھی شر نہیں جس کے بعد جنّت حاصل ہوجائے۔‘‘

خیر و شر مقید: دوسری قسم وہ ہے جس میں ایک خیر، ایک کے لیے خیر اور دوسرے کے لیے شر ہو، جسے دولت کسی کے لیے خیر ہو سکتی ہے اور کسی کے لیے شر۔

خیر خواہی کا مفہوم:

دوسروں کا بھلا چاہنا اور اسے نقصان سے بچانا خیر خواہی کہلاتا ہے۔ خالق کائنات نے جتنے بھی نبی اور رسول بھیجے وہ تمام انسانیت کے خیر خواہ تھے۔ تمام انبیائؑ نے توحید کے ساتھ دین اسلام کی ہی تبلیغ کی، کیوں کہ دین اسلام سلامتی ہے اور یہ دین فطرت جسے اﷲ تعالیٰ نے انسانوں کی خیر خواہی کے لیے پسند کیا ہے۔

کسی مذہب یا فلسفے میں خیر و شر مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ انسان فطرتاً خیر کا طالب ہے اور شر سے گریزاں ہے۔ ہر بچہ دین فطرت پر ہی پیدا ہوتا ہے۔ دین اسلام وہ حقیقی راستہ ہے جو ہر نبی نے آدمؑ سے لے کر آخری نبیؐ تک دکھایا۔ جو لوگ بھی اس خیر سے دور رہے انہوں نے زمین پر ظلم و تباہی برپا رکھی اور جو بھی دین اسلام پر عمل پیرا ہوئے انہوں نے زمین کو جائے امن بنا دیا۔ دین اسلام صرف دنیاوی کام یابی ہی نہیں، بل کہ آخرت میں بھی انسانیت کی خیر خواہی کرکے اُس کو نارِ جہنم سے بچاتا ہے۔ جو بھی ضابطہ یا تعلیم اسلام میں ہے وہ خیر خواہی ہے۔

قرآن مجید میں خیر خواہی پر بہت زور دیا گیا ہے قرآن تو خیر خواہی کا ہی ضابطۂ حیات ہے۔ خالق کائنات نے پہلی وحی کا آغاز ’’اقراء‘‘ سے کیا اور انسانیت کو تعلیم اور خیر کی طرف بلایا کہ غافل انسان پڑھ تاکہ تیری اس دنیا میں اور آخرت میں بھلائی ہوسکے۔ قرآن مجید میں اپنے عزیز و اقارب کو نار جہنم سے بچانے کا حکم ہے اور جہنمیوں کی نشانیاں بتاتے ہوئے قرآن کہتا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو مسکینوں اور یتیموں کو دھکے دیتے ہیں اور غرباء کو کھانا نہیں کھلاتے۔

دین اسلام کی خیر خواہی احادیث کی روشنی میں:

احادیث مبارکہ میں بھی خیر خواہی پر زور دیا ہے۔ (مفہوم) جیسے کسی بھائی کی حاجت پوری کرنے والا ایسا ہے کہ گویا تمام عمر عبادت الہی میں گزاری۔ تم اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ ظالم ہو یا مظلوم۔ ظالم کو ظلم سے روک کر مظلوم کی مدد کرکے۔ جس کو مسلمان کا غم نہیں وہ میر ی امّت میں سے نہیں۔ اگر ایک شخص مشرق میں قتل ہو اور دوسرا مغرب میں اس پر خوش ہوا وہ اس کے قتل میں برابر کا شریک ہے۔ لڑنے والوں میں صلح کرانا لازم ہے۔

دین اسلام کی تمام عبادات کا مقصد دراصل انسانیت کو دوسروں کی خیر خواہی کے لیے تیا ر کرنا ہے۔ مثال کے طور پر کلمۂ توحید، بت پرستی سے نجات دلاتا ہے۔ نماز مساوات انسانی کا مظہر ہے۔ روزہ، غریبوں کے لیے ہم دردی کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ نظام زکوٰۃ سے غربت کا خاتمہ ممکن ہے۔ حج، مسلمانوں میں اتحاد پیدا کرتا اور انہیں ایک امّت بناتا ہے۔ جہاد، ظلم کو روکتا اور مظلوم کی مدد کرنا سکھاتا ہے۔ انصاف حق دار کو اُس کا حق دیتا ہے۔

دین اسلام نے خیر خواہی کے کیا کیا کام کیے؟

اسلام نے خیر خواہی کا عظیم نظام قائم کیا ہے۔ عرب کے جہلاء جو قتل و غارت اور قافلوں کو لوٹنے والے تھے وہ پُرامن معاشرے کی تشکیل پر آمادہ ہوئے۔ اسلام نے انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نجات دلائی اور تکریم انسانیت کا درس دیا۔ جس سماج میں بچیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا، وہاں بچیوں کو رحمت بنایا اور انہیں حقوق عطا فرمائے۔ ظالمانہ قبائلی نظام سے انہیں نجات دلائی، سُودی استصالی نظام کا خاتمہ کیا، انتقام کے بہ جائے حسن سلوک اور معافی، پُرامن بقائے باہمی، یکساں حقوق اور احترام انسانیت کو فروغ دیا، عورتوں پر ظلم اور ان کی خرید و فروخت کو قطعاً ممنوع قرار دیا اور عورتوں کو مساوی حقوق دیے۔انسان تو اشرف المخلوقات ہیں، اسلام نے جانوروں کے حقوق کا بھی تحفّظ کیا ہے۔

ایک صحابیؓ چڑیا کے گھونسلے سے اس کے بچے اٹھا لایا تو آپؐ نے ناراضی کا اظہار کیا اور اسے حکم دیا کہ انہیں واپس گھونسلے میں رکھ کر آؤ۔

ایک اونٹ نے بارگاہ نبوی ﷺ میں شکایت کی تو آپؐ نے اس کے مالک کو بلوا کر سمجھایا کہ اسے پورا چارا ڈالا کرو۔

ایسے کئی واقعات سے تاریخ اسلام بھری ہوئی ہے۔

آپؐ نے فتح مکہ کے موقعے پر اپنے جانیں دشمنوں کو عام معافی دی۔ اپنے محبوب چچا کے قاتل کو معاف کر دیا۔ واقعہ طائف میں دشمنوں کو بَد دُعا تک نہیں دی، بل کہ ان کے لیے دعا فرمائی۔ آپؐ نے اپنی پوری زندگی میں کسی سے ذاتی بدلہ نہیں لیا۔

شہر علمؐ کے باب العلم حضرت علی کرم اﷲ وجہہ نے نصیحت کی کہ میرے قاتل سے بھی حسن سلوک کیا جائے۔ اسلام میں خیر خواہی پر انتہائی زور دیا ہے۔ کسی کی بھی دل آزاری سے اسلام نے سختی سے منع فرمایا ہے۔

آج کے مسلمان دین سے دوری کے سبب بے امنی کا شکار ہیں۔ اُن میں وہ جذبۂ خیر خواہی نظر نہیں آتا جو اسلام کی اصل روح ہے۔ اسلام، دین خیر خواہی ہے، دین ہے تو سلامتی ہے، خیر ہے، امن ہے اور انصاف ہے۔ لادینیت ہو تو دہشت گردی ہے، تباہی ہے، بے امنی ہے۔ دراصل انسانیت کی مکمل خیر خواہی اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی صرف دین اسلام میں پوشیدہ ہے۔ دین اسلام خیر خواہی کا مکمل ضابطۂ حیات ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔