مدیحہ پردیش؟

سہیل احمد صدیقی  جمعـء 3 جولائ 2020
کچھ لوگ سوچ رہے ہوں کہ شاید آج سہیل کا لطیفہ گوئی کا ارادہ ہے ۔  فوٹو : فائل

کچھ لوگ سوچ رہے ہوں کہ شاید آج سہیل کا لطیفہ گوئی کا ارادہ ہے ۔ فوٹو : فائل

( زباں فہمی نمبر 55)

ہوسکتا ہے کہ قارئین کرام یہ عنوان دیکھ کر ورطہ حیرت میں پڑگئے ہوں۔ کچھ لوگ سوچ رہے ہوں کہ شاید آج سہیل کا لطیفہ گوئی کا ارادہ ہے۔ نہیں صاحبو! بلکہ جتنی بھی ’مدیحائیں‘ ہیں، وہ بھی حیران پریشان نہ ہوں۔ کسی بھی مدیحہ کے نام کا کوئی دیس، پردیش (بمعنی ریاست=State=ہندوستان میں بمعنی صوبہ) ہرگز معرض ِ وجود میں نہیں آرہا، بلکہ یہ ایجاد بندہ ہے۔

آپ چاہیں تو ایجادِبندی کہہ سکتی ہیں۔ اب کچھ عرصے سے ٹی وی چینلز پر ’’اغلاطِ عامہ ‘‘ کا سلسلہ اس قدر دراز ہوگیا ہے کہ ہم مصلحت بالائے طاق رکھتے ہوئے ایسے تمام ’منفرد‘ خبرخواں، خبر رساں اور میزبان افراد کے اسمائے گرامی لکھنے پر مجبور ہیں جو اردو کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کرنے میں بہت ممتاز اور ہمہ وقت ’رواں‘ دکھائی دیتے ہیں۔

یہ نیا نام ہندوستان کی ریاست مدھیہ پردیش کو دُنیا نیوز ٹی وی کی خاتون خبرخواں، آنسہ آمنہ کھٹانہ نے دیا ہے۔ (ویسے تو عموماً اردوگو افرادبشمول اہل ِ قلم مَدھ۔ہیا۔ پردیش Madhya Pradesh] [کہتے ہیں، لیکن ہندی اور/یا سنسکرت سے واقف، ہندوستانی احباب، اس نام کا شُدھ تلفظ ’’مَدھ۔پردیش‘‘ ادا کرتے ہیں۔ اس ضمن میں نام گنواتے ہوئے خاکسار سب سے پہلے اپنے رشتے دار، قطر میں مقیم، ممتاز ہندوستانی شاعر ندیم ماہرؔ کا ذکر کرسکتا ہے)۔ یہ پہلا موقع نہیں جب ٹیلی وژن کے پردے پر اس طرح کا صریحاً غلط تلفظ سننے کو ملا ہو۔ گذشتہ تین عشروں سے یہ سلسلہ جاری ہے اور بنیادی وجہ ہے، زبان اور نشریات کی تکنیک کی بنیادی تعلیم وتربیت کا فقدان۔ نوبت بہ این جا رسید کہ سرکاری ٹی وی (یعنی پاکستان ٹیلی وژن) پر بھی بھانت بھانت کی بولی بولنے والے ایسے ہی لوگ جگما رہے ہیں، جنھیں نہ تو پوری اردو ہی آتی ہے نہ یہ پتا ہے کہ اس میں ’’فادری‘‘ زبان یعنی انگریزی کی آمیزش کرتے ہوئے، کھچڑی کس طرح پکانی ہے۔

ویسے یہ تو ہمارے یہاں ہر کوئی کہتا سنتا نظر آتا ہے: ’’فُلاں شخصMentally طور پر ایسا ہے۔‘‘ (خاکسار کے اس نکتہ اعتراض پر معترض ہونے والے افراد کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ یہ راقم یکم جنوری 1993ء سے بطور مصنف و محقق، اسی معتبر ادارے سے منسلک رہا ہے، دیگر ٹی وی چینلز کے لیے بھی کام کرچکا ہے اور بَربِنائے اہلیت، روزِاول سے درجہ اوّل یعنی ‘A-category’میں شمار ہوتا ہے، ٹی وی کے پردے پر بطور شریک ِ محفل، بطور صحافی اور بطور میزبان معلوماتی پروگرام یعنی Quiz master بھی نمودار ہوچکا ہے)۔ یادَش بخیر….بخیر کہنا بھی اچھا نہیں کہ یاد اچھی نہیں، یوں کہیے یادَش بہ زِشت۔ آج سے کوئی پینتیس برس قبل، ہندوستان کے نجی ٹی وی چینل Zee نے اردو (ان کے بقول ہندی) میں انگریزی کے بلاضرورت ٹکڑے لگاکر، نیز قابل اعتراض حد تک عجیب اشاروں کے ساتھ، اُوٹ پٹانگ بول چال کا آغاز کیا جسے ہمارے یہاں پاکستان ٹیلی وژن کے دو سربراہوں رعنا غنی اور یوسف بیگ مرزا نے شرف ِقبولیت بخشتے ہوئے اپنے تمام میزبانوں(Anchors)اور ٹی وی پر دکھائی دینے والی شخصیات کے لیے فوری تقلید کا نمونہ سمجھا۔ بس پھر کیا تھا۔

پروگراموں کی نوعیت اور معیار کی بات تو پس پشت چلی گئی، ہدایات کے تحت، سب پر واجب ہوگیا کہ ایسی زبان بولنی ہے جسے سمجھنے کے لیے سامع کا کچی پکی انگریزی اور گزارے لائق اردو جاننا ضروری ہو اور ساتھ جسمانی حرکات وسکنات بھی پورے زورشور سے جاری رہیں۔ زی ٹی وی کی اس عجیب وغریب زبان کے خلاف، خلیجی ممالک کے مشہور اخبارات خلیج ٹائمز اور گلف نیوز میں، خود ہندوستانی ہندؤوں نے آواز بلند کی۔ اسے ہنِگلش (Hinglish=Hindi+English) اور زِنگلش (Zinglish=ZeeTV+English) قرار دیتے ہوئے اس مصنوعی بولی کی مذمت کی، مگر ایسے اہل علم کی آواز، صدا بہ صحرا ثابت ہوئی۔ (خاکسار بہت پہلے زباں فہمی کے ایک کالم میں یہ ماجرا مختصراً بیان کرچکا ہے، مگر چونکہ عِلّت ابھی باقی ہے اور علیل بڑھتے جارہے ہیں، لہٰذا اس کی تکرار ضروری محسوس ہوئی)۔

چونکہ ایک طویل عرصے سے ہمارے بچوں کی تربیت کا ذمہ پہلے ٹی وی نے لیا اور پھر انٹرنیٹ ودیگر ذرائع ابلاغ نے اس کی جگہ لے لی، لہٰذا یہ بے ہودگی معاشرے میں ہر جگہ اور ہر شعبے میں عام ہوگئی۔ ابھی چند روز پہلے ہمارے ایک مشہور کرکٹر وہاب ریاض نے ٹیسٹ کرکٹ سے سبک دوشی کا اعلان واپس لیتے ہوئے۔

انگلستان کے دورے پر جانے کے لیے آمادگی ظاہر کی۔ انھوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں کچھ اس طرح Minglishکے پھول جھاڑے: ’’مجھ کو پی سی بی نے Enquireکیا، انگلینڈ کے Tourکے لیے Availabilityکے لیے……تو مَیں نے کہا، Obviously، اپنے Countryکے لیے Performکرنا اور جب بھی ٹیم کو ضرورت پڑی تو…………….‘‘ وہاب ریاض کتنی اچھی انگریزی جانتے ہیں اور اُن کی کرکٹ سے وابستگی، جُوئے کے رسوائے زمانہ معاملے سے بہ کمال ہوشیاری اُن کی بریّت سمیت تمام باتیں کس قدر مشہور ہیں، یہ جاننے والے جانتے ہیں۔ ابھی تو ہم اسی نکتے پر اصرار کررہے تھے کہ لاک ڈاؤن Lockdown کو ’’بندشِ عامّہ‘‘ کہا جاسکتا ہے (یہ ترجمہ فی البدیہ، گذشتہ دنوں خاکسار نے اپنے واٹس ایپ پر بزرگ ومشفق معاصر، محترم سلمان صدیقی کے استفسار پر کیا تھا جسے انٹرنیٹ پر بعض دیگر اہل قلم بشمول محترم رفیق سندیلوی، مقیم اسلام آباد نے بھی استعمال کرکے سند ِقبولیت عطا کی)۔ آئسو لیشن Isolation کا ترجمہ موجود ہے۔

تنہائی، علیٰحدگی، انفراد، تفرِید (طب)، متعدی بیماری میں مبتلا شخص کی دوسرے لوگوں سے علیٰحدگی (قومی انگریزی اردو لغتQaumi English-Urdu Dictionary مرتبہ و موشوعہ زیرنگرانی ڈاکٹر جمیل جالبی، مطبوعہ مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد)۔ انگریزی ہی بولنی ہے تو SOPSکی جگہ، Precautions or Precautionary measures/steps کہا جائے یا اردو میں سیدھا سیدھا احتیاطی تدابیر کہا جائے۔ Sanitizeکا ترجمہ تو ہماری اسی لغت میں درج ہے: صحت گاری کے مطابق بنانا; جراثیم رُبائی کرنا…مگر Sanitizer کا ترجمہ دستیاب نہیں۔ خاکسار نے اسی ترجمے کی بنیاد پر اپنی واٹس ایپ بزم بعنوان زباں فہمی میں Sanitizerکا اردو ترجمہ جراثیم رُبا قرار دیا۔……….اب آج کی تازہ خبر یہ ہے کہ ایک ٹی وی چینل نے ایک قدم آگے بڑھ کر لاک ڈاؤ ن کی جگہ Cordon off کا استعمال شروع کردیا ہے۔ ویسے تو اس اصطلاح کا عام فہم ترجمہ محاصرہ ہے، مگر شاید برگر لوگ اس کے استعمال سے واقف نہیں یا اس کے استعمال سے کشمیر (یا کراچی کے ماضی میں) مخدوش حالات یاد آجاتے ہیں۔

اس اصطلاح کا ترجمہ، لغات کی مدد سے کریں تو معلوم ہوگا کہ اس سے مراد کسی علاقے کا گھیرا یا گھیراؤ ہے، نیز کسی وباء سے متاثر ہونے والے علاقے کے گرد حلقہ بنانا ہے۔ خاکسار کے نزدیک یہاں بہرحال لاک ڈاؤن ہی کا جواز ہے۔ لاک ڈاؤ ن کو محاصرہ یا گھیراؤ کہنا ازرُوئے لغات، درست نہ بھی ہو تو فقط یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اول یہ کہ آپ نے اصطلاح کا استعمال غلط کیا ہے، دُوَم یہ کہ اس کا اردو متبادل موجود ہے اور سِوم یہ کہ یہاں انگریزی ہی جھاڑنی ہے تو لاک ڈاؤ ن کہیں۔ اسی طرح تمام ٹی وی چینلز کہہ رہے ہیں کہ فُلاں شہر میں فُلاں فُلاں مقامات کو سِیل  (Sealed)کردیا گیا ہے۔ بھائی سیدھے سبھاؤ یہ کیوں نہیں کہتے کہ (آمدورفت کے لیے/نقل وحمل کے لیے)، بند کردیا گیا ہے۔

صورت حال یہ ہے کہ کوئی بھی سیکھنے کو تیار نہیں، لغات دیکھنے کو تیار نہیں۔ جتنا وقت اور پیسہ خبرخواں افراد (خصوصاً خواتین) کے خوش لباس اور خوش نُما بناکر دکھائے جانے پر صَرف ہوتا ہے، اس کے چوتھائی میں تمام معاملات درست ہوسکتے ہیں۔ کبھی BBC,CNN,Aljazeera,DDW یا کسی ہندوستانی ٹی وی چینل پر دیکھا کہ اگر دو افراد خبریں پڑھ رہے ہوں تو اُن کے لباس کی یکسانیت یعنی Matching پر کس قدر توجہ دی گئی ہے؟…..انگریزی کے غلط استعمال اور اردو میں اس کے زبردستی، نیز بے جا استعمال کی بات تو اس قدر طویل ہوسکتی ہے کہ ایک پوری کتاب لکھ دی جائے، مگر ساتھ ہی یہ المیہ بھی ہمارے قلب و ذہن پر نِشتر کی طرح چُبھتا ہوا دکھائی دیتا ہے کہ بظاہر اہل زبان، اپنی زبان کے عام فہم الفاظ ہی سے واقف نہیں۔ تازہ ترین مثال یہ ہے کہ ایک نجی ٹی وی چینل پر (ایک خبر کی تفصیل پڑھتے ہوئے) خبر خواں اور (پیش کرتے ہوئے) خبررساں دونوں ہی کہے جارہے تھے: ’’جسم کے کسی بھی اعضاء کو مت چھُوئیں‘‘…..یعنی اعضاء کا واحد ’’عضو‘‘ اتنا مشکل یا خارج ازروزمرہ ہے کہ کسی کو معلوم نہیں یا کسی سے معلوم نہیں کیا جاسکتا۔ ہمارے تمام ٹی وی چینلز پر جلوہ افروز ہونے والے میزبان اور خبرخواں دن میں کئی بار کہتے دکھائی دیتے ہیں: ’’اب ہم لیں گے ایک چھوٹی سی Break، یا، یہاں ہوگا ایک Break، یا Breakتو بنتا ہے / بنتی ہے۔‘‘ جو لوگ وقفہ کہنے کا تکلف گوارا کرتے ہیں۔

انھیں یہ معلوم نہیں کہ اس کا استعمال کس طرح ہونا چاہیے۔ لغات دیکھنے کی زحمت گوارا کرتے ہیں نا کسی اہل علم بزرگ سے پتا کرنے کی۔ ٹی وی سے نظریں ہٹاکر اخبارات اور رسائل پر ڈالیں، حتیٰ کہ ادبی جرائد دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ وہی سلسلہ ہے۔ کوئی غلط دَرغلط، نقل دَر نقل لکھنے پر مُصر ہے تو کوئی اس کی تصحیح و اصلاح کو سِرے سے غیرضروری سمجھتا ہے۔ زبان وبیان کی صحت کا خیال رکھنا، اب ہمارے اُدباء وشعراء کے نزدیک اتنا اہم نہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ کوئی بھی شوقین اُوٹ پٹانگ نثر یا نظم لکھ کر فوراً اس کی اشاعت (خاص طور پر آن لائن اشاعت) کے لیے بقول کسے ’’کاتا ، لے دوڑی‘‘ پر عمل پیرا نظر آتا/آتی ہے، بلکہ اس سے بھی سنگین مسئلہ، المیہ اور جُرم یہ ہے کہ ہمارے بعض بزرگ معاصرین، چہرہ دیکھ کر، کچھ اور دیکھ کر یا اپنی کسی قسم کی آسودگی کی خاطر، اسے سراہتے ہیں اور سندِقبولیت مرحمت فرمادیتے ہیں۔

ایک واقعہ شاید پہلے بھی آپ کی نذر کیا تھا کہ ریڈیو سے منسلک، ایک آزادہ رَو میزبان نے، ایک ریڈیو پروگرام کے تقریری مقابلے میں خاکسار کے ہاتھوں (بہ سبب حوصلہ افزائی) انعام وصول کیا (نشریات میں یہ ظاہر کیے بغیر کہ وہ اسی ریڈیو چینل پر، پروگرام بھی پیش کرتی ہیں) اور مختصر گفتگو کا اپنے طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ صاحب دیگر اُمور کے علاوہ ناشر بھی ہیں تو میرا مجموعہ کلام شایع کردیں گے۔ دفتر تشریف لائیں اور اپنا کلام دکھایا تو راقم نے برملا، بہت مناسب الفاظ میں استفسار کیا کہ آیا کسی بزرگ کو دکھایا۔

انھوں نے یہ کہہ کر ششدر کردیا کہ فُلاں بزرگ تو میری شاعری کی بہت تعریف کرتے ہیں۔ اب ایسے میں خاکسار نے بہت احتیاط برتتے ہوئے انھیں مشورہ دیا کہ براہ کرم پہلے اپنا پورا مجموعہ کلام ایک مرتبہ لاکر دکھائیں، پھر کسی سے اشاعت کی بات کریں اور پاکستان میں ماسوائے ایک آدھ سرکاری اداروں کے، کوئی بھی ناشر اپنے خرچ پر، کوئی کتاب شایع نہیں کرتا۔ وہ بہت خفا ہوئیں۔ اب بندہ کیا کرتا۔ اُن بزرگ کی طرح نا تو ’’دستِ شفقت‘‘ پھیرسکتا تھا نہ ہی اُن کے جلوہ افروز ہونے پر مدح سرائی کرسکتا تھا۔ انھوں نے بھی اس ’بدتمیزی‘ کے سبب، دوبارہ رابطہ کرنا گوارا نہیں فرمایا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔