بُک شیلف

عبید اللہ عابد  اتوار 5 جولائ 2020
جانیے دلچسپ کتابوں کے احوال۔ فوٹو:فائل

جانیے دلچسپ کتابوں کے احوال۔ فوٹو:فائل

 دیارشمس( ترکی نامہ)

مصنف: ڈاکٹر زاہد منیر عامر۔۔۔ قیمت:700روپے

ناشر: بک کارنر، جہلم،  054-4278051

بعض مسافر اپنی داستانِ سفر کچھ اس انداز سے سناتے یا پڑھاتے ہیں کہ سننے، پڑھنے والا ان کے ساتھ ہی منزلیں طے کرتا چلا جاتا ہے، علاقے دیکھتا ہے، گلیوں، کوچوں میں پھرتا ہے۔ ڈاکٹر زاہد منیر عامر بھی ایسے ہی مسافر ہیں۔ وہ ایک معروف مقرر، محقق، اقبال شناس، شاعر اور کالم نگار ہیں، ساتھ ہی ساتھ پنجاب یونیورسٹی لاہور میں شعبہ اردو کے سربراہ بھی ہیں۔  وہ ترکی کے دوشہروں استنبول اور قونیہ میں گئے، انھوں نے وہاں کی ثقافت اور تاریخ کے آثار کو بنظر عمیق دیکھا ، انھوں نے جو کچھ  دیکھا، اس کا اندازہ اس کتاب کے اندر موجود عنوانات سے ہوتا ہے جن کے تحت انھوں نے ابواب باندھے ہیں:

ترکی بہ ترکی، طربوش اور ترک دلہنیں، ایوب سلطان کی خدمت میں، حسن ظن کا انعام، قانونی سلطان اور ملکہ خرم،  نیلی مسجد، ڈاکٹر فواد سیزگین اور علوم کی آبنائے، نوجوان یوشع بن نون علیہ السلام کی خدمت میں، استنبول سے قونیہ، قونیہ کا چراغ، قونیہ میں ابن بطوطہ، پیرومرید کی یک جائی، قونیہ سے واپسی، استنبول یونی ورسٹی کی جانب، خالدہ ادیب خانم، پنجاب یونی ورسٹی اور استنبول یونی ورسٹی، توپ کاپی عجائب گھر،الوداع استنبول۔

پروفیسر ڈاکٹرآسمان بیلن اوزجان، صدر شعبہ اردو، انقرہ یونیورسٹی، ترکی نے لکھا:

’’ ترکی کے دو صوفیانہ شہروں میں گھومتے ہوئے زاہد منیر عامر نے انتہائی باریک بینی اور اشتیاق سے ترک ثقافت اور تاریخ کا مطالعہ کیا ہے۔ اس مطالعے کو رقم کرتے ہوئے جو جذبہ شدت سے کارفرما نظرآتا ہے وہ ترکی سے محبت ہے۔ محبت کے بغیر یہ کام نہیں ہوسکتا‘‘۔

کتاب میں سفرنامہ نگار کی مختلف مقامات کی تصاویر کے ساتھ ہی ساتھ بے شمار نادر دستاویزات کے عکس بھی شامل کئے گئے ہیں۔ عمدہ کاغذ، مضبوط جلد اور خوبصورت سرورق کی صورت میں ’بک کارنر‘  نے حسب سابق کتاب دوستی کا حق ادا کردیا ہے۔

 معرکہ بالاکوٹ اور گوجرقوم

مصنف: مولانا قاضی مہدی الزماں کھٹانہ۔۔۔ قیمت:300روپے

ناشر: مکتبہ جمال، تیسری منزل ، حسن مارکیٹ، اردو بازار لاہور،03008834610

کتاب کا تعارف اس کے عنوان ہی سے ہوجاتاہے۔ تحریک جہاد سیداحمد شہید اور 1857ء کی تحریک آزادی برصغیر کی ملی تاریخ کے دو اہم اور روشن ترین ابواب ہیں۔ ان دونوں انقلاب آفرین ، تاریخ ساز اور اسلامی نظریاتی معرکوں میں گوجرقوم نے مجاہدین کے ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔اپنے لہو سے آزادی کی تاریخ رقم کی اور انگریز سرکار کے عتاب اور انتقامی کارروائی کا نشانہ بنے۔ زیر نظر کتاب میں یہ ساری کہانی نہایت تفصیل سے بیان کی گئی ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تحریک جہاد اپنوں کی غداری اور مخبری سے ناکام ہوئی، یہ مخبری اور غداری کس نے کی، اس کا بھی کتاب میں مفصل ذکر ہے۔ مصنف نے نہایت عرق ریزی اور دیانت سے تحریک جہاد بالاکوٹ سے متعلق حقائق کو منظرعام پر لانے کی بھرپورسعی کی ہے۔

جہاد بالاکوٹ کا حقیقی رخ جاننے کے لئے یہ کتاب ازحد مفید ثابت ہوگی بلکہ اس کتاب کا مطالعہ کیے بغیر جہاد بالاکوٹ کی حقیقت تک پہنچنا نہایت مشکل ہے۔ کتاب چھ ابواب پر مشتمل ہے ،  جن میں گوجروں کا تفصیلی تعارف دیاگیا ہے، ان کے ہم نسل قبائل اور ذیلی شاخوں کا ذکر کیاگیا ہے۔ ان کی حکومتوں اور ریاستوں کا تذکرہ ہے۔ بتایا گیاہے کہ سکھوں کے ساتھ مجاہدین کے جہاد کی ابتدا کیسے ہوئی؟اور اس کے بعد کیا ہوا؟۔ اس لئے تاریخ کے طلبہ و طالبات کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہئے۔

نام: روزقیامت

مصنفہ: سلویا براؤن۔۔۔ ترجمہ: یاسرجواد ۔۔۔ قیمت :995روپے

ناشر: بک کارنر، جہلم، 054-4278051

جب چین کے شہر ووہان میں کورونا وائرس پھوٹا تو بین الاقوامی میڈیا میں ایک کتاب سے متعلق خبریں اور رپورٹس شائع ہوئیں کہ 2008ء میں ایک امریکی مصنفہ نے اپنی کتاب میں 2020ء میں کورونا وائرس پھوٹنے کی پیش گوئی کی تھی۔  یہ کتاب تھی End of Days اور مصنفہ ’سلویا براؤن‘۔ وہ ایک امریکی تھیں۔ان کی 40کتابیں شائع ہوئیں، 2013ء میں ان کا 77سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔

زیرنظرکتاب  End of Days  ہی کا اردو ترجمہ ہے، اس میں سلویا براؤن نے لکھا کہ 2020 کے قریب نمونیہ جیسی ایک شدید بیماری دنیا بھر میں پھیلے گی جو پھیپھڑوں اور سانس کی نالیوں پر حملہ کرے گی اور علاج کے تمام معلوم طریقے ناکارہ ثابت ہوں گے۔ بیماری سے بھی زیادہ بوکھلا دینے والی بات یہ ہوگی کہ یہ جس تیزی سے آئے گی ، اسی تیزی سے ختم بھی ہوجائے گی۔ پھر یہ دس سال بعد دوبارہ آئے گی اور اس کے بعد مکمل طور پر ختم ہوجائے گی‘‘۔

آج جب ہم کورونا کے عہد میں جی اور مر رہے ہیں، حیرت ہوتی ہے کہ بارہ سال پہلے کیسے ایک خاتون کو اس بیماری کا پتہ چلا؟ اس سوال کا جواب مختلف لوگوں نے تلاش کیا، تجزیے کیے، مصنفہ کے بارے میں اپنی معلومات کا اظہار کیا اور ان کے ٹریک ریکارڈ کو کھنگالا۔ بہرحال یہ ایک حقیقت ہے کہ مصنفہ نے یہ پیش گوئی کی تھی اور وہ سچ بھی ثابت ہوئی۔

زیرنظرکتاب میںسلویا براؤن نے اپنی کتاب میں قیامت سے متعلق مختلف تہذیبوں کے تصورات اور نظریات کا احاطہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر وباؤں اور آفات ، نیوکلیائی جنگوں اور انسانی تباہ کاریوں  کے باعث دنیا کے خاتمے کی عالمی پیش گوئیوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ کتاب میں سلویا براؤن کا  تفصیلی تعارف بھی دیا گیاہے۔ امید ہے کہ یہ نہایت دلچسپ کتاب آپ کی معلومات میں خاطرخواہ اضافہ کرے گی۔

 سندھ طاس معاہدہ

مصنف : ضیا شاہد ۔۔۔ قیمت:800 روپے

ناشر: قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل،یثرب کالونی، بنک سٹاپ، والٹن روڈ لاہور کینٹ، 0300 0515101

صدرپاکستان جناب ڈاکٹرعارف علوی نے فرمایا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ پر نظر ثانی ہونی چاہئے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ’سندھ طاس معاہدہ‘ میں کیا طے پایا تھا جس کا اب پاکستان کو نقصان ہورہا ہے اور بھارت کو فائدہ ۔ اور کیوں صدر پاکستان نے اس پر نظرثانی کی ضرورت پر زور دیاہے؟

زیرنظر کتاب سندھ طاس معاہدہ کا اردوترجمہ ہے۔ اس لئے یہ اردوخواں حضرات وخواتین کے لئے ایک گراں قدر ریفرنس بک ثابت ہوگی، معاہدہ کا متن دینے سے پہلے مصنف نے پیش لفظ میں متعدد اہم پہلوؤں کی طرف نشان دہی کی ہے اور کئی انکشافات کیے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ یہ معاہدہ جلدی میں کیا گیاتھا۔  پاکستان کی طرف سے مذاکرات کس نے کیے اور وہ معاہدہ طے پانے کے بعد کیوں امریکا منتقل ہوگیا؟ یہ انکشافات بھی موجود ہیں۔ یہ کتاب آپ کو بتائے گی کہ 1960ء میں جس معاہدے پر پاکستان کے صدر ایوب خان اور بھارت کے وزیراعظم پنڈت جواہرلال نہرو نے دستخط کئے تھے اس میں پاکستان نے کیا شرائط تسلیم کی تھیں اور بھارت نے کیا کچھ تسلیم کیا تھا؟

تاریخ اور پاک بھارت تعلقات میں دلچسپی رکھنے والوں کو  یہ کتاب اپنے گھر کے کتب خانے میں ضرور شامل کرنی چاہئے۔ قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کی یہ گراں قدر کاوش ہے۔

تذکرۃ الاولیا

مصنف: حضرت شیخ فریدالدین محمد عطار نیشا پوری۔۔۔

ترجمہ، ترتیب و اضافہ : رئیس احمد جعفری

قیمت: 1200روپے۔۔۔ ناشر: بک کارنر، جہلم، 054-4278051

تصوف کیا ہے؟ یہ ایک اہم ترین سوال ہے،  اس کا ایک تو سیدھا سادا جواب ہے کہ  حب دنیا سے دوری، دنیا کی چمک دمک سے بے نیازی، جاہ اور نمائش کو زندگی میں داخل نہ ہونے دینا،  صرف خدا کی طرف متوجہ ہونا، زندگی کے ہر مرحلہ پر اسی سے لَو لگانا، یہ تصوف ہے۔ رسول اکرم ﷺ دن اور رات کا بڑا حصہ لوگوں سے الگ دنیا سے دور، غارحرا کی تنہائیوں میں بسر کرتے تھے، اسی طرح آپ ﷺ کے اصحاب کرام بھی خشوع وخضوع سے عبادت، مجاہدہ نفس کرتے، دنیا کی چمک دمک سے دور رہتے۔، وہ شیطان کے دشمن تھے اور جہاد فی سبیل اللہ کے شائق اور جویا۔ یہی طرزعمل تابعین، تبع تابعین اور بعد کے لوگوں نے بھی اختیار کیا۔ وہ تصوف کی راہ پر چلتے ہوئے تنقیہ نفس اور تصفیہ قلب کرتے تھے۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ایک حدیث قدسی کے ذریعے ارشاد فرمایا:

’’ میں نے جو کچھ فرض کیا ہے اس پر عمل کرکے بندہ مجھ سے قریب ہوسکتا ہے، نوافل کی پابندی کرکے بندہ مجھ سے قریب اور میرا محبوب ہوسکتاہے، جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو جو کچھ وہ سنتا ہے، میں سنتاہوں، جو کچھ وہ دیکھتاہے، میں دیکھتاہوں، میں اس کے ہاتھ سے پکڑتا اور پاؤں سے چلتاہوں۔ اگر وہ کچھ مجھ سے مانگتاہے میں اسے دیتاہوں۔ اگر وہ مجھ سے پناہ مانگتاہے  تو میں اسے پناہ دیتاہوں‘‘۔

اور ایسے ہی لوگوں کے بارے میں  رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:

’’ جب تم کسی ایسے آدمی کو دیکھو جو دنیا سے نفرت کرتاہے تو اس کا قرب حاصل کرو، وہ تمھیں حکمت بتائے گا۔‘‘(ابن ماجہ)

نبی مہربان ﷺ، صحابہ کرام ؓ  کے بعد عام مسلمانوں کا ایک حصہ دنیا کی محبت میں مبتلا ہونے لگا تو اس کے مقابل ایک بڑا گروہ اٹھ کھڑا ہوا۔اس نے ایک بار پھر فقر و غنا کی زندگی کی طر ف لوگوں کو بلانا شروع کردیا۔ یہی اہل تصوف تھے۔ زیرنظرکتاب ایسے ہی بیسیوں لوگوں کے تذکروں پر مشتمل ہے جن کے کردار اور سیرت کے واقعات دوسروں کی زندگی کو بناتے اور عمل کو سنوارتے ہیں۔ انہی لوگوں کی زندگی سے روشنی حاصل کرکے ہم بھی ویسے ہی بندے بن سکتے ہیں جنھیں رب پسند کرتاہے اور جن پر اللہ کی رحمتوں اور نعمتوںکا نزول ہرلمحہ ہوتاہے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔