عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی منظر عام پر؛ 198 افراد کو قتل کرنے کا اعتراف

ویب ڈیسک  جمعـء 3 جولائ 2020
سندھ حکومت کی جانب سے رپورٹ پیر کو پبلک کی جائے گی . فوٹو : فائل

سندھ حکومت کی جانب سے رپورٹ پیر کو پبلک کی جائے گی . فوٹو : فائل

 کراچی: لیاری گینگ وار کے اہم سرغنہ عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ منظر عام پر آگئی جس میں اس نے 198 افراد کو مارنے کا اعتراف کیا ہے۔

لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کی سنسنی خیز انکشافات پر مبنی 36 صفحات پر مشتمل جوائنٹ انوسٹی گیشن (جے آئی ٹی) رپورٹ کے مطابق عزیر بلوچ نے تمام 198 افراد کو لسانی اور گینگ وار تنازع میں قتل کیا۔

عزیر بلوچ نے کراچی کی شیر شاہ کباڑی مارکیٹ میں لسانی بنیادوں پر قتل کا اعتراف کیا، عذیر بلوچ کے کہنے پر جبار لنگڑا کے ذریعے شیرشاہ کباڑی مارکیٹ میں 11 افراد کو قتل کرایا، شیر شاہ کباڑی مارکیٹ میں قتل عام مخالف سیاسی جماعت کو بھتہ دینے کے شبےپر کیا۔

یہ بھی پڑھیں :سندھ حکومت کا سانحہ بلدیہ، عزیر بلوچ اور نثار مورائی کی جے آئی ٹیز عام کرنے کا فیصلہ

عزیر بلوچ نے اعتراف کیا کہ اس نے بابا لاڈلہ اور جبار لنگڑا کے ذریعے 2010 میں رزاق کمانڈو کے بھائی کو قتل کرایا جب کہ اپنے باپ کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے مارچ 2013 میں ارشدپپو کو قتل کرایا۔

جے آئی ٹی رپورٹ میں عزیربلوچ گروپ اورایم کیوایم کےدرمیان رابطوں کا بھی انکشاف کیا گیا، عزیر نے ارشد پپو اورغفار ذکری گروپ پر حملوں کے دوران شہریوں کے مارے جانے کا بھی اعتراف کیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔