پشاور کو قبل از تاریخ بنانا

سعد اللہ جان برق  ہفتہ 4 جولائ 2020
barq@email.com

[email protected]

ہمیں یقین تونہیں لیکن شبہ سا تھا اور یہ تو آپ بھی جانتے ہیں کہ خداماروں کا شبہ یقین سے کم نہیں ہوتا کہ کچھ تو ہونے والا ہے یعنی

رات دن گردش میں ہیں سات آسماں

ہورہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا؟

اگرچہ جوکچھ ہورہاتھا اس کی پردہ داری تھی یعنی اوپر کہیں بہت اوپر ہورہاتھا لیکن پھر بھی نگاہ عاشق کی تاڑ لیتی ہے۔پردہ(م) کو ہٹاکر سوہم بھی صرف محسوس کررہے تھے کہ کچھ تو ہورہاہے کچھ تو ہونے والاہے کچھ تو ہوکر رہے گا۔

کیوں اندھیری ہے شب غم ہے بلاوں کا نزول

آج ادھر کو ہی رہے گا دیدہ اختر کھلا

اور آخرکار وہ خبر آہی گئی۔پشاور کی تاریخی حیثیت بحال کرنے پرکام کا آغاز ہوگیاہے منصوبے پر تین ارب روپے خرچ ہوں گے۔ آدھے منصوبے تکمیل کے قریب۔’’پشاور کی تاریخی حیثیت‘‘ان الفاظ کا مطلب توکوئی بچہ بھی سمجھ سکتاہے کہ ٹائم مشین میں بیٹھ کر سیکڑوں ہزاروں سال پیچھے چلے جانا۔اب ہم جب ماضی میں جھانکتے ہیں اور تاریخ میں دیکھتے ہیں تو رحمان بابا کا ایک شعر سامنے آتاہے جواسی تاریخی شہر کے پہلو میں رہتے تھے اور وہ پہلو آج شہر کے درمیان میں آگیاہے، پشاور کے وسیع وعریض قبرستان سمیت فرمایاہے

پہ سبب د ظالمانو حاکمانو

کور او گور او پیخاور درے واڑہ یو دی

یعنی بابرکت حاکموں کی وجہ سے آج گھر،گور اور پشاور تینوں ایک ہیں۔ اور پشاور کی وہ تاریخی حیثیت یعنی گھر،گور اور پشاور کی یکسانیت تو بحال ہوچکی ہے۔ بلکہ یہ حیثیت کبھی ختم ہی نہیں ہوئی تھی ہمیشہ تسلسل میں رہی ہے۔ پشاور کی تاریخی حیثیت کے بارے میں جب بات ہوتی ہے تو اس میں ’’گورگھٹٹری‘‘ یا تحصیل گور گھٹٹری کانام ضرور آتاہے جو تاریخی زمانے میں دارالحکومت ہوا کرتا تھا۔

’’گور‘‘اور ’’گھٹڑی‘‘ کا مفہوم توظاہر ہے کہ ’’گور‘‘عوام کے لیے اور گھٹڑی چوروں کے لیے۔تیری گھٹڑی میں لاگا چور۔کہا جاتا ہے کہ مشہور تاریخی راجہ کنشک بھی اسی گورگھٹڑی میں رہتا  تھا اور شاید یہ ’’گورگھٹڑی‘‘کا لفظ بھی اس کنشک کے دور سے پڑگیاہوگا کیونکہ راجہ کنشک جب بیمارہوگیا تواس وقت کے ’’معالجوں‘‘نے اسے دو دبیز رضائیوں میں لپیٹ کر باندھ یا سی دیا تاکہ پسینہ نکل آئے لیکن آج ہی کے معالجوں کی طرح غلطی سے مسٹیک  ہوگیا اور پسینے کے ساتھ ساتھ اس کی ’’جان‘‘بھی نکل گئی۔

ظاہر ہے کہ دو لحافوں نے ’’گور اور گھٹڑی‘‘ دونوں کا کام کردکھایا تھا اس لیے یہ لفظ گور گھٹڑی وجود میں آیا۔اور اب اس خبر میں کہاگیاہے کہ گورگھٹڑی کی تاریخی حیثیت بحال کردی گئی ہے یا بحال کرنے کے قریب ہے۔حالانکہ یہ بتانے کی کوئی ضرورت نہیں  تھی وہ تو ہم آپ اور سب دیکھ رہے ہیں کہ یہاں کے معالج کسی تیزرفتاری سے ’’گورگھٹڑیاں‘‘ بنا رہے ہیں، اتنی تیز رفتاری سے کہ اگر آپ اسپتالوں کو گورگھٹڑیوں کے کارخانے سمجھ لیں تو بے جا نہیں ہوگا۔ علاج بھی تقریباً وہی ہے یعنی قرنطینہ۔اب قرنطینہ لحافوں کاہو یا کسی اور چیز کا۔قرنطینہ تو قرنطینہ ہوتاہے اور گورگھٹڑی بھی سوائے گور گھٹڑی کے اور کچھ نہیں ہوتی۔البتہ شاید لحاف کچھ بدل گئے ہوں، اب پھر رحمان بابا کا تاریخی شعر دہرایے

ظالم حاکموں کے سبب گھر،گور اور پشاور تینوں ایک ہیں…صرف گھر کی جگہ آپ لحاف یا قرنطینہ رکھ سکتے ہیں۔ سنا ہے کہ گورگھٹڑی سکھ حکومت کا بھی ہیڈکوارٹر رہاہے۔ ایک دن ہم اس راستے سے گزر رہے تھے، دیکھا کہ بہت ہی عظیم الشان قسم کی کھدائی میں بہت گہری گہری کھائیاں بنی ہیں جن میں کچھ تو پاتال تک پہنچی ہوئی تھیں لیکن اب کام رکا ہوا تھا اس لیے پتہ نہیں مل رہاتھا کہ یہاں کیاچیز ڈھونڈی گئی ہے اور آیا وہ چیز ڈھونڈنے والوں کو ملی یا نہیں لیکن کم ازکم  ’’گور‘‘تو موجود تھے شاید فنڈز کی گھٹڑی وہ لے گئے تھے جو گھٹڑیوں سے لگتے ہیں تیری گھٹڑی میں لاگا چور۔

معلوم ہوا کہ نئے زمانے میں گھٹڑی کو فنڈز کہتے ہیں جن میں اکثر لاگا لاگا کی کیفیت رہتی ہے۔ایک شخص نے پوچھنے پربتایا کہ یہاں پرگوتم بدھ کی راکھ کا وہ برتن بھی تلاش کیاگیاہے جو روایتوں کے مطابق ’’کنشک‘‘کہیں سے لایا تھا لیکن وہ بیچارا بالکل ہی بے وقت لحافوں میں ’’گورگھٹڑی‘‘ہوگیا اور اس مقدس برتن کا پتہ نہیں چلا جس میں گوتم بدھ کی مقدس راکھ بھری ہوئی تھی۔

ایک اور روایت کے مطابق یہاں گوتم بدھ کی آنکھیں بھی تھیں۔حالانکہ جہاں تک ہمارا علم بلکہ علم تحقیق ہے ’’بدھ مت‘‘گوتم بدھ کے مرنے کے سو اسی سال بعد شروع ہوا تھا۔جب گوتم بدھ کاکوئی نام و نشان بھی باقی نہ تھا۔خیر یہ تحقیق کی باتیں ہیں مثلاً جی ٹی روڈ پر ’’معلق بسوں‘‘کا جو سلسلہ چل رہاہے جسے کئی نام دیے گئے رپیڈبس۔بی آر ٹی،ٹی آر بی وغیرہ۔ حالانکہ سیدھا سیدھا اس کا نام ٹی بی ہونا چاہیے کیونکہ جب یہ بسیں چلیں گی تو پورے شہر کو اس کے گردوغبار سے ’’ٹی بی‘‘ہونے کا یقینی امکان ہے۔

پہلے پہل جب یہ کام شروع ہو گیا تھا تو ایسا لگ رہاتھا کہ جیسے کچھ تلاش کیا جارہا ہو، چنانچہ لوگوں میں یہ بات مشہور ہوگئی کہ یہاں موئن جوڈارو کا ہم عصر پشاور دفن ہے اور اسے ڈھونڈا جارہاہے۔ اس’’پشاور‘‘کا توپتہ نہیں چلا لیکن موجودہ پشاور کو موئن جوڈارو کا ہم شکل بنادیا گیاہے جسے ’’دیکھنے‘‘کے لیے لوگ دور دور سے ’’آتے‘‘نہیںبلکہ ’’نہ دیکھنے‘‘کے لیے ’’بھاگتے‘‘ ہیں کیونکہ جو اسے ایک بار دیکھ لیتاہے اسے دوبارہ دیکھنے کی ہمت نہیں کرتا۔

ایسا ’’موسم‘‘دیکھا پہلی بار

کوئیلیا کوکے کوے گائے ملہار

لیکن ہمارے اپنے تحقیقی ذرایع سے پتہ چلا ہے کہ ’’جن لوگوں‘‘کو کچھ ملنا تھا وہ انھیں مل چکا ہے وہ اسے اپنے گھر لے جا بھی چکے ہیں البتہ جو باقی ہیں ان کو بھی مل رہاہے۔ہر گزرتے دن کے ساتھ’’اربوں اربوں‘‘کا کھیل وسیع ہوتا جارہا ہے، شاید یہ خبر بھی ملے کہ پشاور کو تاریخی بیانیے کے لیے صوبے کو گروی رکھ لیا

یونہی گر روتا رہا غالب تو اے اہل جہاں

دیکھنا ان بستیوں کو تم کہ ویراں ہوگئیں

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔