چین کی فوج اکیسویں صدی میں

سید عاصم محمود  اتوار 5 جولائ 2020
سائنس وٹیکنالوجی میں مہارت تامہ پانے کے بعد چینی ماہرین اپنی فوج کو جدید سے جدید تر بنانے کا عمل شروع کر چکے ۔  فوٹو  : فائل

سائنس وٹیکنالوجی میں مہارت تامہ پانے کے بعد چینی ماہرین اپنی فوج کو جدید سے جدید تر بنانے کا عمل شروع کر چکے ۔ فوٹو : فائل

اٹھارہویں صدی میں پہلی جنگ افیون کے دوران برطانوی فوج کی تعدادصرف انیس ہزار تھی جبکہ چین کی فوج میں سوا دو لاکھ فوجی شامل تھے۔ جدید ہتھیاروں سے مگر انگریز  جیتنے میں کامیاب رہے۔ شکست نے چینی حکومت کو برطانیہ کے سامنے جھکنے پر مجبور کردیا۔

یوں اس سو سالہ دور کا آغاز ہوا جسے چینی قوم ’’ذلت کی صدی‘‘ کہتی ہے۔ بیسویں صدی میںکمیونسٹ برسراقتدار آئے تو چین میں کچھ ٹھہراؤ آیا۔طویل خانہ جنگیوں کے باعث چینی فوج آزمودہ، تجربے کار اور فنون جنگ و جدل میں طاق ہوچکی تھی۔ یہی وجہ ہے، 1962ء میں اس نے بھارتی فوج کو بہ آسانی شکست دی۔ بھارتی سینا اس پہلی ہار کے صدمے سے آج تک نہیں نکل سکی۔ وہ چینی فوج سے نفسیاتی طور پر اتنی مرعوب ہوچکی کہ  براہ راست اس کامقابلہ کرتے ہوئے خوف کھاتی ہے۔ لداخ میں جنم لینے والی حالیہ جھڑپیں اس امر کا ثبوت ہے۔

دفاع مضبوط کر نے کا وقت

ماضی میں افواج چین  کئی ڈویژنوں پر مشتمل تھیں۔ ان کا پھیلاؤ بہت زیادہ تھا اور اسی لیے حرکت بھی سست رفتار۔ لیکن پچھلے پانچ برس سے چینی آرمڈ فورسز تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہیں۔ اب انہیں چھوٹے ڈویژنوں میں تقسیم کیا جارہا ہے تاکہ ہر ڈویژن زیادہ متحرک اور حرکت میں تیز رفتار ہوسکے۔ نیز ہر ڈویژن کو جدید ترین، ہائی ٹیک ہتھیاروں سے لیس کیا جارہا ہے تاکہ میدان جنگ میں دشمن کا بھرپور مقابلہ ہوسکے۔چین مگر کبھی استعماری قوت نہیں رہا بلکہ اس پر کبھی مغربی قوتیں تو کبھی جاپانی قابض رہے۔

اکیسویں صدی کے اوائل تک چین معاشی طاقت بن چکا تھا۔ مگر اس نے کبھی اپنی عسکری قوتوں کا مظاہرہ نہیں کیا۔ چین کی بنیادی سرکاری پالیسی میں درج ہے: ’’چین کسی بھی ملک کو عسکری، معاشی، سیاسی یا معاشرتی طور پر اپنے دائرہ کار میں نہیں لانا چاہتا۔ چین کی فوجی سرگرمیاں خالصتاً دفاعی ہیں جو اس کا بنیادی حق ہے۔‘‘ چین نے جبوتی میں ایک عسکری اڈہ ضرور قائم کیا مگر وہ بھی دفاعی نوعیت کا ، مدعا یہ کہ بحرہند میں چینی تجارت کی حفاظت ہوسکے۔

اکیسویں صدی کے دوسرے عشرے سے جب امریکا اسے عسکری طور پہ چیلنج کرنے لگا تو چینی حکومت کو احساس ہوا کہ اب جنگ سے پرہیز کی پالیسی ترک کر کے اپنا دفاع مضبوط کر نے کا وقت آ چکا۔اس فلاسفی کے باعث چینی افواج پچھلے چند برس سے اصلاحات کے وسیع و جامع عمل سے گزر رہی ہیں۔

یہ عمل وسعت پذیر ہے کیونکہ امریکا اپنے چین دشمن اتحاد میں بھارت ،جاپان،تائیوان اور آسٹریلیا کو بھی شامل کرنا چاہتا ہے۔ہندوستانی قوم بھی استعماری قوت نہیں رہی مگر ماضی میں اس کے بعض حکمران توسیع پسندانہ عزائم رکھتے تھے۔ مثلاً ہندو شاہی سلطنت (850 ء تا 1026ء ) کے راجا جو مشرقی افغانستان میں اپنی حکومت قائم کرنا چاہتے تھے۔ ان ہندو راجاؤں کی سرکوبی کے لیے ہی محمود غزنوی کو ہندوستان آنا پڑا ورنہ وہ حملوں کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔

بھارت میں مگر 2014ء سے انتہا پسندوں کا ٹولہ نریندر مودی کی زیرقیادت حکومت کر رہا ہے۔ ہندومت کی سپرمیسی کے قائل موجودہ بھارتی حکمران بھی ہندو شاہی راجاؤں کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔یہ حکمران طبقہ پاکستان اور بنگلہ دیش کو ہڑپ کرکے ’’اکھنڈ بھارت‘‘ کا قیام چاہتا ہے تاکہ اپنے مذہبی جذبات کی تسکین کرسکے ۔

ان کے عزائم کی تکمیل میں چین  بڑی رکاوٹ بن رہا ہے۔ اہم وجہ یہ کہ چین بھی کشمیر تنازع میں تیسرے فریق کی حیثیت اختیار کرچکا۔ ریاست کا ایک حصہ ،اکسائی چین اس کے پاس ہے۔ نیز سی پیک منصوبے کے تحت وہ آزادکشمیر اور گلگت بلتستان میں انفراسٹرکچر بنانے پر بھاری رقم خرچ کررہا ہے۔ تنازع کشمیر کے علاوہ چین بحرالکاہل میں امریکی اجارہ داری سے بھی خائف ہے۔

اسی لیے وہ اپنا دفاع مضبوط کرنا چاہتا ہے تاکہ  کسی جنگ کی صورت دشمن کو نیچا دکھاسکے۔چین اور بھارت کی سرحد چار ہزار کلو میٹر طویل ہے۔ اس پہ بیس مقامات پر سرحدی تنازعات موجود ہیں۔ دونوں ممالک  متنازع سرحدی مقامات پر سڑکوں، پلوں، عمارتوں اور فوجی چوکیوں کا جال بچھارہے ہیں۔ جب تعمیری سرگرمی ’’نومین لینڈ‘‘ میں داخل ہوجائے تو دونوں ملکوں کے فوجی الجھ بیٹھتے ہیں۔ بات بڑھے تو قتال تک نوبت پہنچ جاتی ہے جیسے 15 جون کی شب ایک گولی چلائے بغیر چینیوں نے لداخ میں محض ڈنڈوں سے کئی بھارتی فوجی مار ڈالے۔

غربت کس نے ختم کی؟

بھارتی جرنیلوں اور عوامی دباؤ پر بھارتی حکمران طبقہ سرحدی مقامات پر انفراسٹرکچر کی تعمیر تیز تر کرے گا۔ نیز پہاڑی مقامات پر اسلحہ و فوجی تعینات کرنے اور جنگ لڑنے کی خاطر عسکری اصلاحات اپنائی جائیں گی۔ بھارتی حکمران طبقے کو مگر یاد رکھنا چاہیے کہ چین کی افواج پہلے ہی انقلابی تبدیلیوں سے گزر رہی ہیں۔ یہ تبدیلیاں انجام دینے کے لیے چینی حکومت اربوں ڈالر خرچ کرننے لگی ہے۔ امریکا کے جنگی بجٹ (721 ارب ڈالر) کے بعد چین کا جنگی بجٹ( 261 ارب ڈالر) ہی دوسرے نمبر پر ہے۔وجہ یہی  کہ چین دنیا کی دوسری بڑی معاشی طاقت بن چکا۔ اس کا نومنل جی ڈی پی 14 ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہے۔

(پہلے نمبر پر21 ٹریلین ڈالر کے ساتھ امریکا  ہے) خاص بات یہ  کہ پچھلے چالیس برس میں زبردست معاشی ترقی کے ذریعے چینی حکومت اپنی مملکت سے غربت کا تقریباً خاتمہ کرچکی۔ اب دور دراز واقع چند دیہات ہی ترقی و خوشحالی کے ان ثمرات سے محروم ہیں جن سے کروڑوں چینی عوام مستفید ہورہے ہیں۔ عوام کی محرومیاں دور کرنے اور خاتمہ غربت کے بعد ہی چینی حکمران اپنا دفاع مضبوط کرنے کی سمت متوجہ ہوئے۔

بھارت کا نومنل جی ڈی پی سواتین ٹریلین ڈالر ہے۔ یہ دنیا میں پانچویں نمبر پر ہے۔ مگر قابل ذکر بات یہ کہ بھارتی حکمران طبقہ پچھلے تہتر برس میں اپنے ملک سے غربت کا خاتمہ کرنے میں ناکام رہا۔ اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق بھارت کی 28 فیصد آبادی غریب ہے۔

یعنی وہ روزانہ دو ڈالر سے کم کماپاتی ہے ۔جبکہ حالیہ لاک ڈاؤن  سے کم از کم مزید 2 فیصد بھارتی غربت کی آغوش میں چلے گئے۔ گویا بھارت میں آج پچاس کروڑ شہری غربت میں مبتلا ہیں۔ انہیں زندگی کی بنیادی سہولیات بھی میسّر نہیں۔ وہ اکثر بھوکے رہتے، پھٹا پرانا لباس پہنتے اور گندا پانی پیتے ہیں۔بھارت کا جنگی بجٹ 71 ارب ڈالر دنیا میں تیسرا بڑا ہے۔ بھارتی حکمران طبقہ اپنے بجٹ کا نمایاں حصہ اسلحہ خریدنے اور افواج برقرار رکھنے پر خرچ کررہا ہے۔

سوال یہ  کہ چالیس پچاس کروڑ غریبوں کی موجودگی میں بھارتی حکمرانوں کو کیا یہ شوبھا دیتا ہے کہ وہ اربوں ڈالر اسلحہ خریدنے پر پھونک کردیں؟ اور ہتھیاروں کے بے محابا خریداری کا اصل مقصد دفاع کرنا نہیں بلکہ اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل ہے۔

تبدیلیوں سے گذرتی افواج

جدید اصلاحات کا یہ عمل 2013ء میں صدر شی جن پنگ کے آنے سے شروع ہوا۔ چینی صدر اگلے بیس تیس برس میں چین کو ماضی کی طرح عظیم قوت بنانا چاہتے ہیں۔ چناں چہ انہوں نے افواج میں اصلاحی پروگرام متعارف کرایا تاکہ انہیں مضبوط تر بنایا جاسکے۔ سب سے پہلے ملٹری کمانڈز سات سے کم کرکے پانچ کردی گئیں۔

اس کے بعد ایسے ڈویژن بنائے جارہے ہیں جو بیک وقت بری، فضائی جنگ لڑسکیں۔ یہ ڈویژن جدید ترین عسکری ٹیکنالوجی کے حامل اور ہائی ٹیک ہتھیاروں سے لیس ہوں گے۔عمل اصلاحات کے تحت بری فوج کی تعداد تیرہ لاکھ سے گھٹا کر پونے دس لاکھ کردی گئی۔ اس تبدیلی کے پس پشت یہ فلسفہ کارفرما ہے کہ کم تعداد والے ڈویژن زیادہ متحرک اور چست ہوں گے۔ یوں محاذ جنگ تک پہنچنے میں انہیں کم وقت لگے گا۔ پھر بری فوج کو نئے ہتھیار دیے گئے۔ ان میں ٹائپ 15 ٹینک، پی سی ایل۔181 توپ، الیکٹرومیگنیٹک توپ اور دیگر اسلحہ شامل ہے۔ ان ہتھیاروں کی خصوصیت ہلکا ہونا ہے۔ لہٰذا یہ پہاڑوں میں جنگ کے لیے نہایت موزوں ہیں۔

چین کی بحریہ بھی پچھلے چھ سال کے دوران اصلاحات کے عمل سے گزر کر مضبوط ہوچکی۔ آج یہ پوری دنیا میں سب سے زیادہ جنگی جہاز رکھتی ہے۔ ڈھائی لاکھ نفری اس سے وابستہ ہے۔ چین اب طیارہ بردار جہاز، آبدوزیں اور جنگی جہاز اپنی بندرگاہوں میں بنارہا ہے۔

چینی حکمران اپنی بحریہ کو طاقتور بناکر بحرالکاہل اور بحرہند میں موجود حریفوں کا بخوبی مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔فضائیہ بھی اصلاحی عمل سے گزر رہی ہے۔ چینی فضائیہ تقریباً چار لاکھ سپاہ پر مشتمل ہے۔ یہ لڑاکا بمبار ملٹی رول اور اسٹیلتھ طیارے رکھتی ہے۔ اواکس اور ڈرون بھی فضائی فوج کا حصہ ہیں۔ جے۔20 جدید ترین اسٹیلتھ طیارہ ہے۔ صرف چین اور امریکا کی فضائیہ ایسے پانچویں نسل کے بہترین طیارے رکھتی ہیں۔

چین میں افواج سے متعلق فیصلہ سازی کرنے والا سب سے اعلیٰ ادارہ سینٹرل ملٹری کمیشن ہے۔ صدر شی جن پنگ اس کے سربراہ بننے والے پہلے صدر ہیں۔ اس حیثیت سے انہوں نے 2015ء میں میزائل اور راکٹ کا انتظام سنبھالنے والی آرٹلری کور کو ایک نئی باقاعدہ فوج’’ راکٹ فورس‘‘ کی صورت دے ڈالی۔ اب اس فوج سے سوا لاکھ سپاہ وابستہ ہے۔چینی حکومت نت نئے ایٹمی اور غیر ایٹمی میزائل بنوارہی ہے۔ میزائلوں میں ہائپرسونک بلاسٹک میزائل DF-17 اور فضا سے فضا میں مار کرنے والا P1-21 میزائل قابل ذکر ہیں۔

ان میزائلوں کے ذریعے چین اس پوزیشن میں آچکا کہ اپنے حریفوں کا دلیری سے مقابلہ کرسکے۔صدر شی جن پنگ نے 2015ء ہی میں ایک اور خود مختار عسکری فوج ’’اسٹریٹجک سپورٹ فورس‘‘ کی بنیاد رکھی۔ یہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ نفری رکھتی ہے۔ یہ فوج الیکٹرونک وارویئر، سائبر وار ویئر اور سپیس وار ویئر لڑنے میں طاق ہے۔ نفسیاتی تدابیر سے دشمن کو زک پہنچانا بھی اس فوج کے فرائض میں شامل ہے۔جنوری 2016ء میں ایک اور باقاعدہ فوج’’جوائنٹ لاجسٹکس سپورٹ فورس‘‘ کا قیام عمل میں آیا۔یہ فورس دوران امن یا جنگ جنگی سامان کی نقل وحمل کی ذمے دار ہو گی۔اسی فورس کے ذریعے لداخ میں حالیہ کشیدگی کے دوران چین بھاری ہتھیار پہاڑوں تک بہ سرعت پہنچانے میں کامیاب رہا۔

جدید ترین ٹیکنالوجی کا حصول

چین میں سب سے نمایاں تبدیی اسلحہ سازی کی صنعت میں آئی ہے۔ ماضی میں چین بیرون ممالک سے اسلحہ خریدتا تھا لیکن آج وہ سبھی ہتھیار خود بنارہا ہے۔یہ تبدیلی بھی زیادہ تر صدر شی جن پنگ کے دور میں انجام پائی۔ انہوں نے سرکاری اور نجی شعبوں کا تعاون بڑھایا۔ سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے ڈیڑھ ہزار ارب ڈالر مختص کیے۔

چینی یونیورسٹیوں کے بیرونی ممالک کے تعلیمی اداروں اور نجی کمپنیوں سے معاہدے کرائے تاکہ اسلحہ سازی کی جدید ترین ٹیکنالوجی حاصل ہوسکے۔انقلابی اقدامات کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج چین امریکا کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا اسلحہ ساز ملک بن چکا۔ وہ پاکستان اور دیگر ممالک کو جدید ترین ہتھیار فروخت کرتا ہے۔ خاص بات یہ کہ چین اب عسکری صنعت میں مصنوعی ذہانت، 5جی اور ڈیٹا سائنس جیسی اعلیٰ ٹیکنالوجیاں بھی بروئے کار لارہا ہے۔ ماہرین کے مطابق آج چین ہی ان ٹیکنالوجیوں میں سب سے آگے ہے۔ دنیا بھر میں ان پر سب سے زیادہ مقالے چین میں شائع ہوتے ہیں۔

درج بالا حقائق سے عیاں ہے کہ انقلابی تبدیلیوں سے گزر کر چینی افواج زیادہ مضبوط ہوچکیں۔ وہ جدید ہائی ٹیک اسلحے سے لیس ہیں۔ بھارتی افواج تادیر ان کا مقابلہ نہیں کرسکتیں۔ عقل یہ کہتی ہے کہ بھارتی حکمران طبقے کو اپنے پڑوسیوں سے سرحدی تنازعات مل بیٹھ کر حل کرلینے چاہیں۔ مگر اس پرانا اور توسیع پسندی کا بھوت سوار رہا تو مستقبل میں جنوبی ایشیا میں خوفناک جنگیں ہوسکتی ہیں۔

پاکستان کے لیے اہم بات یہ کہ چین بھی  تنازع کشمیر کا فعال کردار بن چکا۔ بھارتی حکمران طاقت کے نشے میں پاکستان کو خاطر میں نہیں لاتے تھے مگر  چین کی شمولیت سے تنازع کشمیر کو کاغذات تلے دبا دینا اب ممکن نہیں رہا۔ مزید براں چین کی اب سعی ہوگی کہ افواج پاکستان کو بھی ہائی ٹیک ہتھیاروں اور مشترکہ جنگی مشقوں کے ذریعے طاقتور بنایا جائے۔ ان  اقدامات سے شاید  متکبر بھارتی حکمران راہ راست پر آجائیں کیونکہ جنگ کی صورت ان کی کامیابی کا امکان کم ہوچکا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔