اخلاقیات کی دھجیاں نہ اڑائیں

شیریں حیدر  اتوار 5 جولائ 2020
 Shireenhaider65@hotmail.com

[email protected]

کسی نے مجھے ایک وڈیو کلپ بھیجا، میں سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والے وڈیو اور آڈیو کلپ بہت کم دیکھتی ہوں، جب فارغ ہوں تو اس وقت کچھ دیکھ سن لیا اگر وقت نہیں ہوتا تو delete کر دیتی ہوں تا کہ فون پر بوجھ کم رہے۔ اسی طرح میں نے اس وڈیو کلپ کو آن کیا تو کسی ٹاک شو کا کلپ تھا، اب تک آپ میں سے بہت لوگوں نے اس کو دیکھا بھی ہو گا اور سنا بھی ہو گا۔ اپنی ذاتی وجوہات کی بنا پر میں ٹیلی وژن کے ٹاک شو نہیں دیکھتی۔ میںنے اس کلپ کے بعد ڈھونڈ کر اس پروگرام کو آغاز سے نکالا تا کہ سنوں تو سہی کہ سیاق وسباق کیا ہے ۔

میزبان اور مہمان خاتون کے درمیان کیسی گفتگو ہوئی ۔ یقین کریں کہ موقف جو بھی تھا، مہمان خاتون کا لہجہ بد تمیزی والا تھا نہ انداز۔ نہ ہی انھوںنے کوئی ایسی بات کی کہ جس سے کسی کو غصہ آتا۔ لیکن کیا کریں،اپنے پروگرام کی ریٹنگ بڑھانے کے لیے اکثر اوقات اینکرز چیخ چیخ کر بولتے ہیں، مہمانوں سے اکثر بدتمیزی بھی کردی جاتی ہے، نہ ان کی بات سنی جاتی ہے اور نہ ہی انھیں موقع دیا کہ وہ اینکر کی بات کا جواب دیں۔ اصولا تو ایسے پروگرام میں بیٹھے ہوئے باقی لوگوں کو میزبان کو اس کی بدتمیزی پر ٹوکنا چاہیے اور اگر بات نہ بنے تو پھر اس کے پروگرام سے اٹھ جانا چاہیے ۔ مت بھولیں کہ آج وہ کسی اور کے لتے لے رہا ہے کل کو انھیں میں سے کسی کے بارے میں ایسی ہی عامیانہ زبان استعمال کر رہا ہو گا۔

ایسے پروگرام کرنے والے اینکرز کو ہمیشہ کے لیے اسکرین آوٹ کردینا چاہے۔ خاص طور پر اگر کوئی اینکر کسی خاتون کے ساتھ بدتمیزی کرے ۔

ہمارا مذہب بھی عورت کی ہر روپ میں عزت اور توقیر کرنے کی تاکید کرتا ہے، ہر عورت کسی کی ماں ہوتی ہے، کسی کی بہن، کسی کی بیٹی اور کسی کی بیوی، آپ کو کس نے اختیار دیا ہے کہ آپ اس کی اس طرح بے عزتی کریں اور ذاتیات پر اتر آئیں ۔

کسی کے ٹاک شو کے میزبان کا غیر جانبدار ہونا بنیادی شرط ہوتا ہے۔ اگر اس نے ملک کی تین اہم سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو بلایا ہے تو سب کو بولنے کا موقع دینا چاہیے اور اپنی رائے نہیں دینا چاہیے ، اینکرز کا کام سوال کرنا ہوتا ہے ،جواب دینا شرکائے پروگرام کا حق ہوتا ہے ، اگر اینکر پہلا سوال کرکے خود ہی جواب دینا شروع کردے یا کسی کے بارے میں منفی باتیں کرنا شروع کردے تو اس کا یہی مطلب ہوتا ہے کہ وہ اینکر کسی سیاسی جماعت یا حکومت سے اپنی پسندیدگی اور وابستگی کو بھی ظاہر کررہا ہے اور یہ بھی واضح ہوجاتا ہے موصوف کتنا تنگ نظر اور جانبدار ہے۔

میری کسی سیاسی جماعت سے کوئی سیاسی وابستگی نہیں نہ ہی مجھے کسی سابقہ یا حالیہ حکمران سے کوئی دشمنی یا نفرت ہے اور نہ ہی والہانہ عشق کہ میں ان کی خاطر لڑنے مرنے اور اپنے تعلق اور دوستیاں خراب کر سکوں ۔ میں اپنے کالموںمیں سیاسیات سے عموماً اجتناب کرتی ہوں ۔ میری نظر میںوہ اچھاحکمران ہے جو اس ملک کے لیے اچھا ہے، ملک، اس کے اداروں اور اس ملک کے عوام کے ساتھ مخلص ہے۔ ملکی خزانے کو ملک کی ترقی پر خرچ کرتا ہے، دیانتدار ہے اور اپنے ہی خزانوں کے انبار نہیں لگائے جا رہا۔

اقتدار میں رہنا اور اپنے دور حکومت کو طوالت دینا، یہ معاملہ پہلے صرف ملک کے اقتدار کے اعلی ایوانوں تک رہا مگر اب کچھ برسوں سے اس رسم نے معتبر اداروں میں بھی اپنے قدم جما لیے ہیں اور جو بھی حکمران آتے ہیں وہ اپنی مرضی کے چیف اور دیگر محکمو ں کے سربراہوں کو بھی مدت ملازمت میں توسیع سے نواز کر غلط روایت قائم کر رہے ہیں۔ اس سے آیندہ ترقی کی قطار میں کھڑے ان افسران کی قابلیت مشکوک ہو جاتی ہے جو لگ بھگ تین چار دہائیوں سے ملازمت کر کے اس مقام تک پہنچتے ہیں کہ اس عہدے پر تعیناتی کے لیے ان کا نام سنا جا رہا ہوتا ہے ۔

حکمرانوں کی مصلحتیں اپنی جگہ لیکن اس سے کتنے لوگوں میں مایوسی اور بد اعتمادی پیدا ہوتی ہے، اس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا ۔ اسی طرح جیسے ہمارے ہاں پارٹیوں کے سربراہوں نے اقتدار کو اپنے گھروں اور اپنے خاندانوں کی لونڈی سمجھ کر وراثتی سیاست کو رواج دیا ہے۔ ا ن کے خیال میں اگر اس ملک پر حکمرانی کا حق حاصل ہے تو وہ صرف انھیں اور اس کے بعد ان کے خاندانوں کو حاصل ہے ۔ اسی وجہ سے ہمارے ہاں اداروں کی بجائے، شخصیات زیادہ با اثر اور ان کا کہا زیادہ اہم ہوتا ہے، خواہ وہ ملکی اقتدار کی تکون کا کوئی بھی زاویہ ہو۔

سیاسی شخصیات سے محبت اس ملک سے وفاداری اور اس کی ترقی کے حوالے سے نہیں بلکہ کسی کی گھڑی تو کسی کا گھر، کسی کی چپل یا انگلیوں میں پتھروں کی انگوٹھیاں، کسی کی شرمیلی مسکراہٹ، کسی کا برانڈڈ جوتا، غرض ان چیزوں کی تعریف کی جاتی ہے جو کہ کسی بھی طرح سے ان کے کردار کی خصوصیات نہیں کہلائی جا سکتیں ۔ مجھے کسی سیاسی شخصیت سے ایسی محبت یا دشمنی نہیں کہ میں اس کی خاطر کسی سے لڑ پڑوں مگر جب بھی کوئی کسی کی ذاتیات پر بات کرتا ہے تو مجھے برا لگتا ہے۔

کسی کو کوئی زنانہ کہے یاگنجا ، کسی کا نام بگاڑے، کسی کے ہیٹ یا لانگ شوز کے بارے میں کوئی خواہ مخواہ تبصرہ کہے، کسی کے عورتوںسے تعلقات کے حوالے سے غیر مصدقہ ( حتی کہ مصدقہ ہوں ، تب بھی) بات کرے تو مجھے برا لگتا ہے۔ حکمران لائم لائٹ میں رہنے والے لوگ ہیں ان کی زندگیوں کا ہر پل ہمارے سامنے کسی نہ کسی طرح نمایاں ہوتا ہے، آج کل سوشل میڈیا کا زمانہ ہے تو ایسے میں کسی کی ذرا سی حرکت بھی فورا نظروں میں آ جاتی ہے۔ حکمران اہم نہیں ہوتے بلکہ ملک کی ترقی کے لیے کیے گئے ان کے کام اہم ہوتے ہیں۔

مجھے اگر اس بات پر اعتراض ہے کہ سابقہ دور حکومت میں راولپنڈی میں میٹرو کے منصوبے پر جو رقم خرچ کی گئی اور اتنا ہاتھی نما منصوبہ صرف بیس تیس بسوںکے چلانے کے لیے بنایا اور پایہء تکمیل تک پہنچایا گیا، اس میں بے بہا کمیشن بھی کھائے گئے، اس کا کوئی فائدہ نہیں، اس سے کہیں بہتر ہوتا کہ موجودہ سڑکوں کی حالت زار کو بہتر بنایا جاتا اور جہاں جہاں لوگوں کو ٹریفک جام میں گھنٹوں کا وقت لگ جاتا ہے، وہاں پر انڈر پاس یا اوور ہیڈ بنا کر آسانی پیدا کر دی جاتی۔

اس کے بر عکس جب لاہور جائیں اور رنگ روڈ سے باآسا نی اور منٹوں میں ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچا جا سکتا ہے تو میں انھی حکمرانوں کے اس منصوبے پر عش عش کر اٹھتی ہوں ۔ میری ان سے کوئی ذاتی دشمنی تو نہیں ہے، جو بھی اچھا کام کرے گا وہ اس طرح داد کا مستحق ہو گا ۔ آپ کو کسی سیاسی جماعت سے اختلاف ہے بھی تو ان کے دور حکومت میں جو بھی اچھا کام کیا گیا، اس کا اعتراف کریں، ان کی جو کمزوریاں، کجیاں اور کوتاہیاں ہیں، ان کو بھی نمایا ں کرنے کا ایک طریقہ ہوتا ہے۔ یہ مت بھولیںکہ ٹیلی وژن اسکرین پر مائیک پکڑ کر بیٹھے ہوئے کسی اینکرکو صرف ملک میں چند لاکھ لوگ نہیں دیکھ رہے ہوتے ہیں بلکہ آپ اپنے ملک کا تاثر دنیا بھر میں بھیج رہے ہیں۔ اگر کسی اینکر کی بد تہزیبانہ نوعیت کی گفتگو کو کوئی سراہ رہا ہے تو ہماری اخلاقیات کا اللہ ہی حافظ ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔