نویں، دسویں میں نئی اسکیم آف اسٹڈیزکا اطلاق معمہ بن گیا

صفدر رضوی  اتوار 5 جولائ 2020
 سیکریٹری ٹیکسٹ بورڈ کے ڈائریکٹرز اسکولز کو خط نے معاملہ مزید الجھا دیا  ۔  فوٹو : فائل

سیکریٹری ٹیکسٹ بورڈ کے ڈائریکٹرز اسکولز کو خط نے معاملہ مزید الجھا دیا ۔ فوٹو : فائل

کراچی: سندھ میں نویں اور دسویں جماعت کی سطح پر نئی اسکیم آف اسٹڈیز کا اطلاق معمہ بن گیا۔ اس اسکیم کے تحت سندھ بھر کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں میں ایک عدالتی حکم پر نویں اور دسویں دونوں ہی جماعتوں میں سائنس کے منقسم مضامین کی تدریس کی جگہ ہر مضمون کو دونوں کلاسوں میں پڑھایا جانا ہے جبکہ میٹرک (نویں اور دسویں) کے کل مارکس 850 سے بڑھا کر 1100 کیے جانے ہیں تاہم اس فیصلے پر عملدرآمد کے واضح نوٹیفکیشن کے باوجود محکمہ اسکول ایجوکیشن کا متعلقہ شعبہ سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ نئی اسکیم آف اسٹڈیز کے تحت نویں جماعت کی درسی کتب چھاپ کر بازار میں فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہوگیا ہے جبکہ سرکاری اسکولوں کو مفت فراہم کی جانے والی درسی کتب کی ڈسٹریبیوشن کا عمل بھی شروع نہیں ہوسکا۔

اطلاع ہے کہ چھاپی جانے والی ان درسی کتب میں بھی نئی اسکیم آف اسٹڈیز کے تحت درسی کتب شامل نہیں ہیں جبکہ خود سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے سیکریٹری حفیظ اﷲ کی جانب سے صوبے بھر کے ڈائریکٹرز اسکولز کو حال ہی میں لکھا گیا ایک خط بھی سامنے آیا ہے جس نے معاملے  کومزید الجھا دیا ہے ، اس خط میں ڈائریکٹر اسکولز سے ان کے اضلاع کے ویئر ہاؤسز میں نویں اور دسویں کی درسی کتب کے پہلے سے موجود ذخیرے کی تفصیلات مانگتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ یہی ٹیکسٹ بک اس اکیڈمک سیشن میں استعمال ہوسکتی ہیں جبکہ دوسری جانب اسی خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ کے احکامات پر نویں اور دسویں کی درسی کتب آئندہ تعلیمی سال سے تبدیل کردی جائیں گی۔

اسکیم آف اسٹڈیز کی صورتحال واضح نہ ہونے کے سبب بعض نجی اسکول میٹرک کی سطح پر نئی اسکیم کے تحت جبکہ بعض پرانی اسکیم کے تحت آن لائن کلاسز کرارہے ہیں۔  ’’ایکسپریس‘‘نے اس حوالے سے سیکریٹری سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ حفیظ اﷲ سے کئی بار رابطے کی کوشش کی اور معاملے پر ان کا موقف جاننے کے لیے ایس ایم ایس بھی کیا تاہم وہ مسلسل رابطے سے گریز کرتے رہے  دوسری جانب سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے ڈائریکٹر ٹیکنیکل یوسف شیخ سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے دعوی کیا کہ نویں جماعت کی سطح پر نئی اسکیم آف اسٹڈیز اسی سال سے نافذ ہوجائے گی اور ہم کتابیں فراہم کردیں گے تاہم جب ان سے مذکورہ خط کے بارے دریافت کیا تو وہ خود اس سے آگاہ نہیں تھے،یاد رہے کہ اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے دسمبر 2019 میں اسکیم آف اسٹڈیز کی تبدیلی کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا تھا۔  اس نوٹیفیکیشن میں باقاعدہ طور پر یہ بتایا گیا تھا کہ اب نویں جماعت میں ریاضی اور طبعیات اور دسویں میں کیمیا اور حیاتیات کے مضامین کی تدریس بھی ہوگی۔

اسی طرح کمپیوٹر سائنس کی تدریس بھی دونوں جماعتوں میں ہوگی۔  اسکیم پر عملدرآمد مرحلہ وار نویں جماعت سے کیا جانا تھا۔  اس سلسلے میں اسکول ایجوکیشن کے کریکولم ونگ نے ان مضامین کے اسباق کو دونوں نویں اور دسویں میں تقسیم کرتے ہوئے اس کی تدریس کا شیڈول بھی دے دیا تھا تاہم پہلے تو سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ تقسیم شدہ اسباق پر مشتمل کتاب بروقت چھاپ کر مارکیٹ اور سرکاری اسکولوں کے لیے متعلقہ ڈسٹرکٹ کو فراہم نہیں کرسکا ہے جبکہ دوسری جانب مذکورہ خط نے اس حوالے سے مزید ابہام پیدا کردیا ہے ۔ یہ خط حال ہی میں 29 جون کو جاری کیا گیا ہے جس کے متن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسکیم آف اسٹڈیز کا اطلاق اس سیشن سے نہیں ہوگا۔  اہم بات یہ ہے کہ کراچی سمیت سندھ کے بیشتر نجی اسکول محکمہ اسکول ایجوکیشن کی زبانی اجازت پر نا صرف آن لائن کلاسز شروع کرچکے ہیں بلکہ یہ اسکول نویں اور دسویں کی سطح پر نئے سیشن 2020/21 کی آن لائن کلاسز بھی شروع کرچکے ہیں۔ ’’ ایکسپریس‘‘ نے  اس سلسلے میں نجی اسکولوں کی دو مختلف ایسوسی ایشنز سے رابطہ کیا۔

آل سندھ پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے سربراہ حیدر علی کا اس سلسلے میں کہنا تھا کہ مارکیٹ میں نئی اسکیم کی کتابیں تو موجود نہیں ہیں لہٰذا وہ خود اور ان کی ایسوسی ایشن کے رکن اسکول پرانی اسکیم کے تحت نویں جماعت میں صرف بیالوجی اور کیمسٹری کی تدیس کررہے ہیں اور فزکس اور ریاضی نہیں پڑھا رہے اس لیے کہ صورتحال واضح نہیں ہے۔ دوسری جانب جب آل پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے رہنما طارق شاہ سے ’’ایکسپریس‘‘ نے دریافت کیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے اسکولوں میں نویں جماعت کی تدریس نئی اسکیم سے کرارہے ہیں۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ اس سارے معاملے سے محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ لاتعلق ہے۔

سیکریٹری اسکول ایجوکیشن خالد حیدر شاہ رخصت پر ہیں اور سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے چیئرمین احمد بخش ناریجو کے پاس سیکریٹری اسکول ایجوکیشن کا بھی چارج ہے۔ ادھر ’’ایکسپریس‘‘ نے کریکولم ونگ کی سربراہ ڈاکٹر فوزیہ سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم پر ہم نئی اسکیم کے مطابق نصاب مرتب کرکے سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کو دے چکے ہیں مزید صورتحال بورڈ واضح کرے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔