تبدیلی کے سہانے خواب

سلیم خالق  پير 6 جولائ 2020
میڈیا کے شور مچانے پر بار بار یوٹرن لیے جاتے ہیں، مگر باتیں اصول پسندی کی ہوتی ہیں۔ فوٹو: فائل

میڈیا کے شور مچانے پر بار بار یوٹرن لیے جاتے ہیں، مگر باتیں اصول پسندی کی ہوتی ہیں۔ فوٹو: فائل

’’ہم ڈومیسٹک کرکٹ کو تبدیل کر رہے ہیں، ڈپارٹمنٹل ٹیموں کو بند کر کے ریجنل نظام لائیں گے، اسپانسرز تلاش کیے جائیں گے‘‘

پی سی بی حکام نے گذشتہ برس بڑے فخر سے یہ باتیں کی تھیں،ان کا خیال تھا کہ نئے سسٹم سے پاکستان کرکٹ بہترین بن جائے گی،کمپنیز اپنے علاقوں کی ٹیموں کو اسپانسر کرنے کیلیے آگے پیچھے گھومیں گی مگر افسوس ایسا کچھ نہ ہوا، نئے پیکٹ میں پیش کردہ پرانے ڈومیسٹک ایونٹس میں کوئی بڑا فرق نظر نہیں آیا، رہی بات اسپانسرشپ کی تو وہ سہانا خواب ثابت ہوا،کسی ایک ٹیم کیلیے بھی معاہدہ نہ ہو سکا۔

پی سی بی کو اپنے خزانے سے ایک ارب روپے سے زائد رقم خرچ کرنا پڑی، خود سی ای او وسیم خان بھی اعتراف کر چکے کہ رواں برس بھی ایسا ہی ہوگا،اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو چند برسوں میں کرکٹ بورڈ دیوالیہ بھی ہو سکتا ہے، پھر اعلیٰ حکام کی بھاری تنخواہیں کیسے ادا ہوں گی؟ ڈومیسٹک ٹیموں کی حد تک تو چلیں مان لیتے ہیں کہ ان کیلیے اسپانسرز لانا آسان نہیں تھا لیکن جب قومی ٹیم کو انگلینڈ میں ٹریننگ کرتے دیکھا تو حیرت کا شدید جھٹکا لگا،کھلاڑیوں کی شرٹس پر کسی اسپانسر کا لوگو تک نہیں تھا۔

مصباح الحق نے جو سویٹر پہنا اس پر پرانی کمپنی کے نام کو اسٹیکر سے چھپایا ہوا تھا، کچھ عرصے قبل پی سی بی نے معاہدہ ختم ہونے پر ٹینڈر جاری کیا تھا، گذشتہ کئی برس سے یہ روایت رہی ہے کہ پاکستان کرکٹ کے حقوق ایک کمپنی خرید کر اسے آگے بیچ دیتی ہے، یوں بورڈ کے مارکیٹنگ ڈپارٹمنٹ کیلیے راوی چین ہی چین لکھتا تھا، احسان مانی نے آنے کے بعد یہ سلسلہ ختم کرنا چاہا مگر ایسا لگتا ہے کہ وہ بھی ناکام ہو گئے کیونکہ بڈنگ میں صرف وہی کمپنی شریک ہوئی، اس نے بھی بنیادی قیمت کی صرف 30 فیصد رقم آفر کی۔

پی سی بی جیسے بڑے ادارے کے پاس تو لوگ لائن میں کھڑے ہونے چاہیے تھے، کئی ماہ بعد ٹیم ایکشن میں دکھائی دے گی،کروڑوں لوگ ٹی وی پر میچز دیکھیں گے، ایسے میں تو کمپنیز کیلیے تشہیر کا اچھا موقع ہے مگر کیوں کوئی نہ آیا؟ اس نے بورڈ کے مارکیٹنگ ڈپارٹمنٹ کی اہلیت پر سوالیہ نشان لگا دیا، حیرت کی بات ہے کہ مارکیٹنگ ڈپارٹمنٹ پراحسان مانی اور وسیم خان کی نظر کیوں نہیں جاتی۔

ٹھیک ہے کہ عالمی وبا سے مارکیٹ متاثر ہوئی مگر اس سے قیمت پر فرق پڑ سکتا تھا، بڈنگ میں کسی کا شریک ہی نہ ہونا حیران کن ہے، آگے پی سی بی کو میڈیا رائٹس بھی فروخت کرنے ہیں تب کیا ہوگا، آسٹریلوی کمپنی اور آئی سی سی آفیشل کیا تیر ماریں گے، حقیقت تو یہ ہے کہ 5 کرکٹ بورڈز کے پاس کوئی میڈیا پارٹنر ہی موجود نہیں، یہاں بھی پاکستان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، آئی سی سی سے رقم تاخیر سے ملے گی، پی ایس ایل میں بھی بورڈ نے کئی محاذ کھول دیے ہیں، ایسے میں آئندہ کچھ عرصے میں مالی مشکلات کا شکار ہونا یقینی لگتا ہے۔

حیران کن طور پر حکام کا شاہانہ انداز پھر بھی جاری ہے، ہائی پرفارمنس سینٹر جیسے پروجیکٹس کی عالمی وبا کے دنوں میں کوئی ضرورت نہیں ہے مگر اسے لانچ کر کے بڑی تنخواہوں پر لوگ بھرتی کیے گئے، جہاں اتنے عرصے نیشنل کرکٹ اکیڈمی چلتی رہی ایک سال اور چلنے دیتے، کون سا اس نے پہلے ڈان بریڈ مین دیے جو اب ہائی پرفارمنس سینٹر سے سامنے آ جائیں گے، اس وقت بورڈ کی کوئی سمت نظر نہیں آتی بس ایک نمایاں چیز ایروگینس ہے، چونکہ وزیر اعظم پی سی بی کے سربراہ کو لاتے ہیں اس لیے وہ خود کو طاقت کا سرچشمہ سمجھ کر من مانیاں کرتا ہے، نجم سیٹھی ہوں یا احسان مانی ان کا قصور نہیں۔

دراصل یہ کرسی کی قوت ہوتی ہے جو انھیں ایسا بنا دیتی ہے، چیئرمین شپ سے ہٹنے کے بعد نجم سیٹھی کی اکڑ ختم ہو گئی جب احسان مانی جائیں گے تو ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا، البتہ تب تک کرکٹ کو بہت نقصان ہو چکا ہو گا، موجودہ بورڈ حکام اپنے اہم اسٹیک ہولڈرز کو کسی خاطر میں نہیں لا رہے،اگر آپ حقیقت کا جائزہ لیں تو علم ہوگا کہ موجودہ بورڈ کے جتنے تنازعات ہیں شاید پہلے نہیں تھے، کئی کیسز عدالت تک پہنچ چکے، سلمان نصیر خود وکیل ہیں سی او او بننے کے بعد کہیں انھیں تو ایسا نہیں لگتا کہ ہر مسئلہ نوٹس بھیج کر حل کرنا چاہیے، یہ پالیسی درست نہیں۔

افہام و تفہیم سے کام لیں،بڑے بڑے مسئلے بات چیت سے حل ہو جایا کرتے ہیں، اگر اصول پسندی کی بات ہوتی ہے تو پی سی بی میں ہمت ہے تو پی ایس ایل کی ان 2ٹیموں سے واجبات لڑ کر وصول کرے جو ہمیشہ تنگ کرتی ہیں، ان کے معاہدے ختم کر کے دکھائیں مگر یہاں سلمان خان بن کر اعلیٰ ترین شخصیات سے لڑنے کی ہمت کسی میں نہیں ہے، اگر آپ درباری ہیں تو اب بھی بورڈ میں دودھ کی نہریں بہتی دکھائی دے رہی ہوں گی لیکن اگر نیوٹرل شخص ہیں تو اندازہ ہو چکا ہوگا کہ کچھ نہیں بدلا۔

موجودہ حکام نے دعوے بڑے کیے،سوشل میڈیا پر بھی تعریفوں میں زمین آسمان کے قلابے ملائے جاتے ہیں مگر حقیقی طور پرکوئی بہتری نہیں لا سکے، آپ نے پوری ٹیم بدل دی اپنی مرضی کے لوگ لے آئے مگر پھر بھی مثبت نتائج سامنے نہ لا سکے، اس سے بڑا المیہ کیا ہو سکتا ہے، ڈومیسٹک کرکٹ ہوں یا پی ایس ایل سب کے معاملات ابتری کا شکار ہیں،کہیں کوئی تبدیلی نہیں آئی، قومی ٹیم کی کارکردگی بھی زوال کا شکار ہو چکی،فیصلوں میں تسلسل نہیں۔

میڈیا کے شور مچانے پر بار بار یوٹرن لیے جاتے ہیں، مگر باتیں اصول پسندی کی ہوتی ہیں،تقریباً تمام پرانے آفیشلز آپ نے نکال دیے مگر ذاکر خان اب بھی قذافی اسٹیڈیم کے ایوانوں میں مٹرگشت کرتے دکھائی دیتے ہیں، اس کی وجہ سب جانتے ہیں، اگر ہمت ہے تو انھیں گھر بھیج کر دکھائیں، میں یہ ماننے کو تیار نہیں کہ تمام سابقہ آفیشلز نکمے اور صرف ذاکر خان ہی کام کے تھے، اگر یہاں آپ کا زور نہیں چلتا تو تبدیلی کے سہانے خواب دکھانا بند کر دیں۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔