افغانستان

ظہیر اختر بیدری  پير 6 جولائ 2020
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

[email protected]

افغانستان دنیا کا ایک بدنصیب ملک جو تین نسلوں سے جنگ کے شعلوں میں لپٹا ہوا ہے کوئی دن ایسا نہیں جاتا جو لاشوں اور زخمیوں سے بھرا ہوا نہ ہو۔

یہ آج کی کوئی نئی بات نہیں بلکہ دہائیوں پر مشتمل پرانی کہانی ہے شخصی حکمرانیوں اور بادشاہتوں کے زمانے میں جنگوں کے لیے کسی بہانے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی تھی جب ظل الٰہی کا موڈ ہوا جنگ کی بگل بجا دی اور فوج بھوکے بھیڑیوں کی طرح ایک دوسرے پر چڑھ دوڑی اور قتل و غارت کا ایسا طوفان اٹھتا کہ میدان زخمیوں اور لاشوں سے اٹ جاتے۔ عزت مآب بادشاہ سلامت میدان جنگ سے ذرا دور گھوڑوں پر سوار یہ خونی تماشا دیکھتے رہتے۔

جب ہاری ہوئی فوج میدان چھوڑ کر بھاگ نکلتی تو ظل الٰہی وزیروں کے جھرمٹ میں میدان جنگ میں کامیابی کا پرچم لہراتے ہوئے تشریف لاتے اور جیت کی خوشی میں شادیانے بجاتے۔ اب جنگوں میں گھوڑے، گدھے، خچر استعمال نہیں ہوتے بلکہ ہوائی جہاز، راکٹ اور ٹینک استعمال ہوتے ہیں اور لاشوں کا کوئی حساب نہیں ہوتا۔ ماضی کے جاہل شاہوں اور مہاراجوں کے مقابلے میں آج کے بادشاہ عوام کے منتخب ہوتے ہیں اور عوام کے منتخب حکمرانوں کے پاس مینڈیٹ ہوتا ہے لہٰذا وہ پورے اختیارات کے ساتھ جنگیں لڑتے ہیں۔

افغانستان تازہ لاشوں کے انبار نوجوان افغانی جو ایک دوسرے کو کاٹ رہے ہیں لیکن وہ نہیں جانتے کہ انسانوں کی یہ کاٹ پیٹ کیوں ہو رہی ہے، دنیا کے جھگڑے ختم کرانے کے لیے ایک بین الاقوامی ادارہ ہے جس کا نام نامی اسم گرامی اقوام متحدہ ہے، اس ادارے کا اصل کام میدان جنگ میں لاشیں گننا ہونا چاہیے اس کے بعد تدفین کا انتظام کرنا ہو نہ جانے اس کے منشور میں قوموں کے درمیان محبت امن اور یکجہتی کیوں رکھ دیا گیا ہے۔ بلاشبہ انسانوں کے درمیان محبت امن اور یکجہتی ہونی چاہیے لیکن انسان ہیں کہاں۔

حیوان کو برا کہا جاتا ہے اور درندوں کے تو نام سے وحشت ہوتی ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پیشانی پر اشرف المخلوقات کا نام سجائے جو حیوان نما انسان آج دنیا کے مختلف حصوں میں حیوان سے بلکہ درندوں سے بدتر زندگی گزار رہا ہے ،کیا وہ انسان کہنے کے قابل ہے ماضی میں جنگوں کے دوران باجے تاشے ہوا کرتے تھے۔ کیا ہی اچھا ہوکہ آج کی جنگوں کے دوران بھی باجے تاشے موجود ہوں بموں، راکٹوں، میزائلوں کے درمیان باجوں تاشوں کی آواز سوائے صدائے بازگشت کے کچھ نہیں لیکن یہ علامتیں ماضی کے جنگجو انسان کی یاد تو دلاتی رہیں گے کہ یاد ماضی کے حوالے ہی سے آج کا انسان دکھ سے کہتا ہے:

چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

افغانستان غالباً دنیا کا واحد ملک ہے جہاں کے بدنصیب عوام مستقل جنگوں کی زد میں ہیں۔ ہزاروں افغانی موت کا شکار ہوچکے ہیں اور ہزاروں ہو رہے ہیں۔ اگرچہ افغان جنگ کی کئی وجوہات، کئی پہلو ہیں لیکن سب سے بڑی وجہ سب سے بڑا پہلو امریکا ہے۔ امریکا نے خطے میں ایسی آگ لگا دی ہے جو جلتی بجھتی رہتی ہے۔ افغانستان میں جنگوں خون خرابوں کی اصل وجہ افغان کا قبائلی معاشرہ ہے جہاں کسی نہ کسی حوالے کسی نہ کسی بہانے قتل و غارت کا بازار گرم رہتا ہے، ان اندھی جنگوں میں آنکھ والی بات یہ ہے کہ مغربی ملکوں خاص طور پر اس ملک سے کئی پڑوسی ملکوں کے مفادات وابستہ ہیں۔

پاکستان اس کا پہلا پڑوسی ملک ہے لیکن یہ عجیب بدقسمتی ہے فرسٹ نیبر کے ساتھ افغانستان کے تعلقات ہمیشہ کشیدہ رہے اور اس حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت کے ساتھ اس کے تعلقات ہمیشہ خوشگوار رہے حالانکہ افغانستان اور پاکستان پڑوسی ہونے کے ساتھ ہم مذہب بھی ہیں۔ اس حوالے سے پہلی غورکرنے کی بات یہ ہے کہ افغانستان کے ساتھ بھارت کے تعلقات بھائیوں جیسے بلکہ بھائیوں سے بڑھ کر ہیں، وجہ اس کی معاشی اور تجارتی تعلقات ہیں۔ پاکستان چاہے تو تجارت کے شعبے میں دونوں ملکوں کے لیے مشکلات پیدا کرسکتا ہے لیکن پاکستان نے ایسا نہیں کیا۔ دونوں ملکوں کے درمیان ممکنہ تجارتی سہولتیں مہیا کیں۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ بھارت کے افغانستان سے مضبوط سیاسی اور اقتصادی تعلقات ہیں دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات بھی ہیں یہ وہ وجوہات ہیں جو مذہبی رشتوں کو پھلانگ جاتے ہیں۔ یہ مسئلہ نیا نہیں بلکہ تقسیم ہند کے ساتھ ہی افغانستان پاکستان کو نظراندازکرکے بھارت کے ساتھ برادرانہ تعلقات قائم کرنے میں کامیاب رہا افغانستان ایک قبائلی ملک ہے اور ایک قبائلی ملک کی ’’ساری خوبیاں‘‘افغانستان میں موجود ہیں، افغانستان کی قبائلی خوبیوں میں ایک خوبی یہ ہے کہ صدرمملکت بھی جوڑی جوڑی میں رہتے ہیں۔

دنیا میں او آئی سی نامی ایک تنظیم ہے جو اسلامی ملکوں کے درمیان بھائی چارہ پیدا کرتی سنی گئی ہے لیکن دیکھی نہیں گئی۔ اس حوالے سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ مسلمان ملکوں کے درمیان تعلقات کی بہتری کی بات تو کی جاتی ہے لیکن اس حوالے سے حقائق بڑے مایوس کن ہیں۔ بھارت کے افغانستان سے تعلقات کی نوعیت اور قربت دیکھ کر بلاجھجک یہ کہا جاسکتا ہے کہ دو ملکوں کے درمیان مذہب کا رشتہ اس قدر مضبوط نہیں جتنا اقتصادی مفادات کا ہے پھر ہم اپنے ملک کے ساتھ مسلم لگا کرکیوں خوش ہوتے ہیں؟

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔