وبا کو ’وبال‘ نہ بننے دیں۔۔۔!

رضوان طاہر مبین  منگل 7 جولائ 2020
اس مشکل وقت میں ہمیں مثبت رویوں اور بلند حوصلے کی ضرورت ہے ۔  فوٹو : فائل

اس مشکل وقت میں ہمیں مثبت رویوں اور بلند حوصلے کی ضرورت ہے ۔ فوٹو : فائل

ہم گذشتہ پانچ ماہ سے ’کورونا‘ کی وبائی صورت حال سے نبردآزما ہیں۔۔۔ ڈیڑھ دو ماہ کی مکمل بندش یا لاک ڈاؤن کے بعد متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باوجود ایک حد تک معمولات زندگی بحال کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

جسے ’اسمارٹ لاک ڈاؤن‘ قرار دیا گیا ہے، جس کے تحت ہفتے میں صرف پانچ دن شام سات بجے تک بازار کھولنے کی اجازت دی گئی ہے، بیش تر دفاتر بھی کھول دیے گئے ہیں، مجموعی طور پر دیکھا جائے، تو حفاظتی اقدام کو زیادہ خاطر میں نہیں لایا جا رہا۔۔۔ بہت سے بازار اور علاقوں پر ضرور پابندیاں لگائی گئی ہیں، لیکن باقی جگہوں پر بھی ’ایس اوپیز‘ پر عمل ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا۔۔۔ جس کے باعث کورونا میں جان سے گزرنے والوں کی یومیہ تعداد 100 سے بڑھ چکی ہے۔۔۔ اس کے علاوہ بھی ہمارے ہاں مجموعی طور پر شرح اموات پہلے سے بہت زیادہ ہوچکی ہیں۔۔۔

ایک اندازے کے مطابق یہ اضافہ دوگنا ہے۔۔۔ گذشتہ کچھ دنوں میں بہت تیزی سے مختلف شعبہ ہائے زندگی کی نمایاں شخصیات بھی ہمارے درمیان سے اٹھ گئیں، جس کے باعث ہر سو ایک عجیب وغریب اور خوف کا سا ماحول پیدا ہو چکا ہے۔۔۔ شہر کے مختلف اسپتالوں میں معمول کی طبی امداد معطل ہے، دیگر امراض میں مبتلا افراد ایک عجیب بے اعتمادی اور خوف کے سبب اسپتال نہیں لائے جا رہے کہ مبینہ طور پر مریضوں کو ’کورونا‘ کا شکار ’بنا دیا‘ جائے گا اور جو اسپتال جا رہے ہیں انہیں جگہ اور طبی سہولتوں کی دست یابی ایک بڑا مسئلہ بن رہی ہے۔۔۔ اور حیرت اور افسوس اس بات پر ہے کہ اس بدترین صورت حال کے باوجود کسی بھی قسم کی کوئی طبی ایمرجینسی اور کسی ہنگامی اقدام کی کوئی بازگشت تک نہیں ہے۔۔۔ ہمارے اہل اقتدار کو سیاسی بیان بازیوں اور جوڑ توڑ سے ہی فرصت نہیں ہے۔۔۔!

ایسے ماحول میں درس وتدریس سے وابستہ اساتذہ وطلبہ اور دیگر وہ لوگ جن کے معمولات بحال نہیں ہو سکے، یا وہ اپنا کام ’آن لائن‘کر رہے ہیں، وہ شدید اذیت اورڈپریشن کا شکار ہونے لگے ہیں۔۔۔ گذشتہ دنوں ایسے ہی ایک دوست سے گفتگو کا موقع ملا، جنہوں نے ایسے ماحول میں خود کو گھر میں اور زیادہ محدود کرلیا اور سارے رابطے تک منقطع کر لیے کہ نہ کسی سے بات ہوگی اور نہ ہی باہر کی بری خبریں اور برے حالات پتا چلیں گے۔۔۔ نتیجتاً وہ کوئی بھی مثبت سرگرمی انجام دینے میں مکمل طور پر ناکام ہیں۔

یعنی یہ علاحدگی اور دوری مزید ’ڈپریشن‘ کا باعث بن رہی ہے۔۔۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ ’وبا‘ کس طرح ہمارے سماج میں ایک ’وبال‘ کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔۔۔ بہتر طریقہ تو یہ ہے کہ اس مشکل وقت میں ہم ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھائیں اور زندگی میں اچھی اور سکون دینے والی چیزوں کو محسوس کرنے کی کوشش کریں، تاکہ اس ضرورت سے زیادہ پریشانی اور کوفت کو خود سے دور کر سکیں۔۔۔ ہمیں ایک طرف وبا سے بچنا ہے، تو دوسری طرف وبا سے محفوظ رہتے ہوئے ممکنہ طور پر پیدا ہونے والے ذہنی ’وبال‘ سے بھی اپنا تحفظ کرنا ہے کہ جو ہمیں نا امیدی کی گہرائیوں میں دھکیلنے کا باعث بن رہا ہے۔۔۔

یہ بات بالکل درست ہے کہ آج زندگی پہلے جیسی نہیں ہے، بلکہ اس کے پہلے جیسے ہونے کے امکانات اب بھی کافی دور دکھائی دیتے ہیں۔۔۔ ہمارے ایک اور شناسا ثمر بھائی جو اب اگرچہ دفتر جانے لگے ہیں، لیکن کہتے ہیں کہ سارے ماحول پر ایک عجیب سی ویرانی اور بے رونقی سی چھائی ہوئی ہے، کہیں آنے کے رہے اور نہ کہیں جانے کے۔۔۔ اور تو اور وہ مارچ میں لاک ڈاؤن کے بعد سے ایک بار بھی مسجد نہیں گئے۔۔۔ ہر چند کہ کچھ بندش کے بعد مساجد میں معمول کے مطابق باجماعت نمازیں شروع ہو چکی ہیں۔۔۔ لیکن چوں کہ مسجد میں ’حفاظتی اقدام‘ کے بغیر ہی صفیں بنائی جا رہی ہیں۔

اس لیے وہ خود پر جبر کر کے اب تک نماز گھر میں ہی ادا کر رہے ہیں۔۔۔ اس دوران رمضان المبارک جیسا عبادتوں کا مہینا بھی آیا اور عیدالفطر کا پرمسرت تہوار بھی گزر گیا۔۔۔ لیکن وہ عید تک کی نماز تک کے لیے مسجد نہیں جا سکے۔۔۔ اور اب نہ ہی بقرعید تک اس وبا کے ٹلنے کی کوئی امید دکھائی دیتی ہے، یہ تمام صورت حال ذہنی طور پر نہایت پریشان کر دینے والی ہے۔۔۔

ایک حساس طبیعت کے مالک ہونے کے ناتے کم وبیش ہم بھی ماحول کی اس کھٹنائیوں سے جوجھ رہے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں ہے ماحول یقیناً بے سکون سا ہی ہے۔۔۔ دنیا کی ایسی پریشان کُن صورت حال میں ذرا کبھی اپنے گھر کی کھڑکی کا پردہ سرکا کر باہر چلتی پھرتی زندگی کو بغور دیکھیے اور محسوس کرنے کی کوشش کیجیے۔۔۔ کبھی دن چڑھے گھر سے یوں ہی نکل کر  گلیوں اور بازاروں میں رواں زندگی کو ضرور دیکھیے۔۔۔ شاید ہمیں لوگوں کا احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنا فکر مند کرے، لیکن جو مثبت چیز ہمیں یہ محسوس ہوگی۔

وہ یہ کہ زندگی رواں ہے۔۔۔ بہت سے لوگ اپنے اپنے کاموں کو روانہ ہو رہے ہیں، ضروریات زندگی کی تمام دکانیں کھلی ہوئی ہیں اور خریدار بھی ہیں، کہیں لوگ حلوہ پوری لینے کے لیے کھڑے ہیں، تو کسی کے لیے دن کے دوسرے کھانے کا وقت ہو چکا ہے۔۔۔ کہیں کڑی دھوپ میں کوئی چھابڑی والا سستانے کو پڑ گیا ہے، تو کہیں اخبار فروش بیٹھا فرصت پاکر چائے کی چسکیاں لے رہا ہے۔۔۔ کہیں اور کوئی محنت کش ٹھنڈے مشروب سے گرم موسم میں خود کو آسودہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔۔۔ ابھی اسکول وغیرہ ضرور بند ہیں، لیکن ’آن لائن‘ کلاسوں کے ذریعے تعلیمی سلسلے کو بھی ممکن بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔۔۔

مشکلات بے شک موجود ہیں، لیکن زندگی میں مشکلات کس کے ساتھ نہیں رہیں۔۔۔ لیکن زندگی آگے بڑھتی ہے، سو وہ اب بھی بڑھ رہی ہے۔۔۔ نشیب وفراز بھی اسی زندگی کا حصہ ہیں۔۔۔ اس دنیا نے ہم سے پچھلے زمانوں میں بھی بہت کٹھن حالات جھیلے ہیں، کبھی طویل جنگیں اور کبھی وبائیں۔۔۔ سو اپنی دعاؤں کے راستے امید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیے۔۔۔ خود بھی خوش رہیے اور دوسروں میں بھی خوشیاں بانٹنے کی کوشش کیجیے۔۔۔

ان شا اللہ یہ مشکل وقت پھر پچھلے معمولات کی طرف ضرور پلٹے گا۔۔۔ یہ بھی یاد کیجیے کہ رواں برس فروری، مارچ میں اس ’وبا‘ کے  پھیلنے سے پہلے بھی ہم کسی نہ کسی فکرمندی یا پریشانی میں ضرور ہوں گے، ہو سکتا ہے ہم تب بھی بہت سے مسائل میں گھرے ہوئے ہوں اور زندگی تب بھی ہمیں آسان نہ لگتی ہو، لیکن آج کی صورت حال ایسی ہے کہ ہم چھے ماہ قبل کے وبا سے پہلے والے وقت کو یاد کر رہے ہیں۔۔۔ تو اپنے حوصلے پست نہ ہونے دیجیے، اللہ نے چاہا تو سب ٹھیک ہوجائے گا، شاید اسی کا نام زندگی ہے۔۔۔!

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔