گندم، شکر اور ادویات

ڈاکٹر یونس حسنی  جمعرات 9 جولائ 2020

ہمارے سیاست دان انتخابات کے زمانے میں خصوصاً اور دیگر مواقع پر عموماً اپنی قوم کی خصوصیت کی بڑی مدح سرائی کرتے ہیں۔ اس مدح سرائی کے بظاہر کچھ فوائد انھیں حاصل ہوتے ہیں مگر اس مدح سرائی سے قومی خوبیوں میں، اگر وہ کوئی ہیں تو کوئی اضافہ نہیں ہوتا، قوم جیسی ہے ویسی ہی رہتی ہے، اس کا مظاہرہ بھی کرتی ہے۔

مثلاً ہمارا ہر سیاستدان حسب توفیق یہ کہتا رہتا ہے کہ ہماری قوم بڑی خوبیوں کی مالک ہے اور خصوصاً ہنگامی صورت حال میں وہ جس ردعمل کا اظہار کرتی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔65 کی جنگ میں اس قوم نے جس قومی اور ملی جذبے، ہمت، حوصلے اور یکجہتی اور اتحاد کا مظاہرہ کیا وہ یقینا قابل تعریف ہی نہیں بلکہ مثالی بھی تھا اور وہ موقع بھی ایسا تھا کہ ملک کی سلامتی داؤ پر لگی ہوئی تھی۔ حملہ اچانک تھا اور اس کا مقابلہ ہماری افواج کی بہت قلیل تعداد نے اپنی جانوں پر کھیل کر روایتی اور ہمیشہ دشمنی کا مظاہرہ کرنے والے دشمن سے تھا۔

اس لیے اس وقت محض ہماری بہادر فوج نے ہی نہیں بلکہ شاعروں، ادیبوں، گلوکاروں، گلوکاراؤں، عام عوامل سبھی نے اپنی حیثیت اور صلاحیت کے مطابق مقابلہ کیا تھا۔ اور یہ بھی اللہ کا انعام ہے کہ جس نے جو کارنامہ انجام دیا قدرت نے اسے محفوظ رکھا اور ہر فرد کو اس کے حصے کا انعام بھی قدرت نے اسے داد و تحسین یا دنیوی پسندیدگی کی شکل میں ملتا رہا ہے اور ملتا رہے گا۔

مگر سچی بات یہ ہے کہ ہر موقع پر 65 جیسی صورت حال کا پیدا ہونا ضروری نہیں اگر بالکل بری صورتحال پیدا ہو تو اضطراری طور پر یہ قوم اسی طرح کے ردعمل کا اظہار کرے گی۔ اس سے کم پر جو ردعمل یہ قوم ظاہر کرتی ہے وہ اضطراری نہیں بلکہ ہمارے مستقل قومی کردار کی نشاندہی کرتا ہے اور وہ ایک کڑوی بات ہے جسے ہمیں سننے کی سکت بھی ہونا چاہیے۔

مثال کے طور پر ہمارے یہاں بحمدہٖ غلے کی پیداوار فراواں ہوئی۔ اچھی پیداوار ہوتے ہی ہمارے تاجروں کی حرص عود کر آئی، منافع خوروں نے حیلے بہانوں سے گندم کی برآمد شروع کردی، اجازت کے بغیر برآمد ہو نہیں سکتی تھی، پھر اجازت بھی جائز یا ناجائز طور پر حاصل کرلی گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ملک میں گندم کی کمی ہوگئی اور آٹا مہنگا ہونا شروع ہوا۔ آٹا غریب سے غریب آدمی یعنی غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والا بھی استعمال کرتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ آٹا عوام کی رسائی سے دور ہو گیا اور بھوک کا عفریت منہ کھول کر کھڑا ہو گیا مگر ہمارے چھوٹے سے لے کر بڑے تاجر تک آٹے کی قیمت کی بڑھتی ہوئی صورتحال سے ذرا پریشان نہ ہوئے انھیں غریبوں پر ترس نہ آیا اور نازک صورتحال میں وہ گراں فروشی سے باز نہ آئے۔

پھر ابھی حال میں گنے کی پیداوار بھی خوب ہوئی چینی کی پیداوار بھی ملکی ضروریات کے مطابق تھی مگر چینی کے بھرے گوداموں کا نتیجہ یہ ہوا کہ چینی کی برآمد کی بھی اجازت دے دی گئی اور اب صورتحال یہ ہے کہ چینی پچپن روپے سے بڑھ کر 85 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے اور بڑھتی ہوئی قیمت پر تحقیقی رپورٹ آجانے کے باوجود چینی کے نرخ کم ہونے کا نام نہیں لیتے۔ مخصوص حالات میں یہ منافع خوری ہماری حب الوطنی کو منہ چڑاتی ہے اور وہ جو قوم کے اجتماعی مزاج کی تعریف کرتے نہ تھکتے تھے اب اپنے پروں میں اپنی چونچ چھپائے بیٹھے ہیں۔

یہ دونوں مثالیں تو خیر منافع خوروں کی سوچی سمجھی اور عادت کے مطابق تھیں کہ ناجائز منافع خوری ہماری قومی خصوصیت ہے۔ یہ دونوں چیزیں کسی قلت کے سبب مہنگی نہیں ہوئی تھیں بلکہ منافع خوری کی وجہ سے ارادتاً مہنگی کی گئی تھیں اور ان کو مہنگا کرتے وقت قوم کسی غیر معمولی صورتحال سے دوچار نہیں تھی۔

ابھی چند ماہ پہلے کی بات ہے کہ ملک کو کورونا وائرس نے آ لیا، ہر نئے دن اس کی ہیبت ناکی بڑھتی گئی اور اس سے تحفظ کے طریقے بھی بتائے جانے لگے چنانچہ طبی حلقوں کی طرف سے کہا گیا کہ اس مرض سے جو اب وبا کی صورت اختیار کرچکا ہے، محفوظ رہنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ لوگ ماسک لگائیں۔

یہ ہنگامی صورتحال تھی اور موت و زندگی، صحت و بیماری کا کھیل تھا، صبح یہ اعلان ہوا اور شام کو شہر کے کسی میڈیکل اسٹور پر ماسک موجود نہیں تھے اور اگر تھے تو چار گنا زیادہ قیمت میں فروخت ہو رہے تھے جس عجلت میں ہمارے تاجروں نے اپنا ردعمل دکھایا اس سے ہمارے قومی کردار کی بخوبی وضاحت ہو جاتی ہے۔پھر یوں ہوا کہ غیر معیاری کپڑے کے بنے ہوئے ماسک اور دوسرے ملکوں سے آنیوالے ماسک انتہائی زیادہ قیمت پر فروخت ہونے لگے۔

خدا بھلا کرے چین کا کہ اس نے طبی سامان جو ہمارے ڈاکٹروں کے کام کے بھی تھے اور جس میں ماسکز کی بھی بڑی تعداد تھی ہمیں بھیجے گئے مگر یہ سارے ماسک شاید ’’بڑوں‘‘ کے کام آگئے۔ ہو سکتا ہے وہ چند روز میں زینت بازار بنیں۔اب امریکا سے خبر آئی ہے کہ ایک دوا ڈیکسا میتھوزون اس مرض کے علاج میں وہاں بڑی مفید ثابت ہو رہی ہے، خبر آتے ہی شام کو ہمارے مرکزی مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے اپنی طبی بریفنگ میں بتایا کہ یہ ایک پرانی دوا ہے، بہت سستی ہے۔ پاکستان کی متعدد دوائی کمپنیاں اس کو بنانے کا لائسنس رکھتی ہیں مگر فی الوقت یہ بازار میں مہیا نہیں ہے۔ شاید دوا ساز اداروں نے اس کو اسٹور کرلیا ہے یا چھوٹے تاجروں نے خرید کر جمع کرلیا ہے کہ مہیا نہ ہونے کی صورت میں مہنگے داموں فروخت کریں۔

ڈاکٹر صاحب نے ساتھ ہی خبردار کیا کہ یہ دوا کورونا کے انتہا درجے کے مریضوں کے لیے مفید ہوسکتی ہے یعنی جو آئی سی یو میں ہوں یا جن کو وینٹی لیٹر پر منتقل کردیا گیا ہو۔ معمولی مریضوں کے لیے اس کا استعمال خطرناک ہے کیونکہ اس دوا کا طبی ردعمل انتہائی شدید اور بعض صورتوں میں مہلک ہے۔ مگر جس عجلت سے خبر آتے ہی دوا کا قحط واقع ہوا وہی ہمارا قومی کردار ہے ہم اپنے ہم وطنوں کی زندگی کی بنیاد پر اپنی ’’تجارت‘‘ کو فروغ دینے میں کوئی دیر نہیں لگاتے۔

اللہ ڈاکٹروں کو خوش رکھے انھوں نے کہا کہ جو لوگ اس مرض میں مبتلا ہوکر صحت یاب ہوگئے ہیں اگر وہ اپنا پلازمہ عطیہ کردیں تو وہ پلازمہ لگانے سے مریض بہت جلد اچھا ہو جاتا ہے۔ انھوں نے چند مریضوں پر اسے آزمایا اور نتائج حوصلہ افزا نکلے۔مگر ہوا یہ کہ کچھ لوگ ’’پیدا‘‘ ہوگئے جو صحت پانے والے حضرات کا پلازمہ ہزاروں میں خرید کر مریض کے متعلقین کو لاکھوں میں بیچنے لگے۔نہ موت کا ڈر ہے، نہ خوف خدا ہے، منافع خوری ہے اور لوگوں کی زندگی کی قیمت پر تجارت ہے ،یہی ہمارا قومی کردار ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔