پیٹرول بحران کی تحقیقات کے لیے اعلی سطح کمیشن بنانے کا فیصلہ

ویب ڈیسک  جمعرات 9 جولائ 2020
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا کر مافیا کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچایا گیا، جسٹس قاسم خان فوٹو: فائل

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا کر مافیا کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچایا گیا، جسٹس قاسم خان فوٹو: فائل

 لاہور: چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس قاسم خان نے پیٹرول بحران کی تحقیقات کے لیے اعلی سطح کے کمیشن کے لیے اٹارنی جنرل سے نام طلب کرلیے۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس قاسم خان نے پیٹرولیم بحران سے متعلق درخواست پر سماعت کی، اس موقع سیکرٹری ٹو وزیراعظم، اٹارنی جنرل پاکستان اور چیئرپرسن اوگرا پیش ہوئے۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آپ کو کہا گیا تھا کہ اسپیکر سے پوچھ کے بتائیں کہ وہ کمیٹی بنا رہے ہیں یا نہیں، آپ کو کہا گیا تھا کہ اس حوالے سے واضح پالیسی لے کر آئیں، آپ نے بتایا نہیں کہ بحران پیدا کرنے والوں کے خلاف آپ نے کیا کارروائی کی، جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو کہا کہ آپ کے حکم پر میں نے اسپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات کی، اسپیکر قومی اسمبلی نے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے سامنے معاملہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پیٹرولیم بحران کے معاملے پر ایسا لگتا ہے کچھ بڑے شامل ہیں، بظاہر لگتا ہے آئل مافیا نے فائدہ اٹھانے کے لیے پیٹرول کی قلت پیدا کی گئی، حکومت ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھاتی ہے لیکن گزشتہ ماہ 26 جون کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا کر مافیا کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچایا گیا، جب تک بحران کے ذمہ دار پکڑے نہیں جائیں گے تب تک بحران پر قابو نہیں پایا جا سکتا ، پرنسپل سیکریٹری کے تحریری جواب میں الفاظ کا گورکھ دھندا نظر آتا ہے، پرنسپل سیکریٹری بتائیں کہ پیٹرولیم بحران پر کب کارروائی شروع ہوئی ؟ بحران کا معاملہ وزیر اعظم کے علم میں کب لایا گیا ؟

اٹارنی جنرل نے تجاویز پر مبنی رپورٹ چیف جسٹس کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ میری ذاتی تجاویز عدالت کے سامنے ہیں اگر عدالت اس میں ردو بدل کرنا چاہے تو کر سکتی ہے۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے پیٹرول بحران کی تحقیقات کے لیے اعلی سطحی کمیشن بنانے کے لیے اٹارنی جنرل پاکستان سے نام طلب کرلئے، انہوں نے ریمارکس دیئے کہ مجھے کمیشن میں مضبوط لوگ چاہییں، اٹارنی جنرل کی جانب سے کمیشن کے لئے تجویز کردہ نام بہتر نہ ہوئے تو عدالت نام تجویز کرے گی، بادی النظر میں اس حمام میں سب کپڑے اتریں گے، اگر کسی سرکاری ریکارڈ کو چھپانے کوشش کی تو سخت کارروائی ہوگی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔