کمبوڈیا میں کتے کا گوشت کھانے اور فروخت کرنے پر پابندی اور جرمانہ

ویب ڈیسک  جمعرات 9 جولائ 2020
کمبوڈیا کا صوبہ سیم ریپ کتے کی گوشت کی تجارت کا سب سے بڑا مرکز ہے، فوٹو : فائل

کمبوڈیا کا صوبہ سیم ریپ کتے کی گوشت کی تجارت کا سب سے بڑا مرکز ہے، فوٹو : فائل

پنوم پن: ایشیائی ملک کمبوڈیا میں کتے کا گوشت کھانے، فروخت کرنے اور رکھنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے اور خلاف ورزی پر سخت سزائیں اور جرمانے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ 

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق کمبوڈیا کے سیاحتی علاقے سیم ریپ میں بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کتے کے گوشت کے کھانے، فروخت کرنے اور رکھنے پر پابندی اور جرمانے کا اعلان کیا گیا ہے جس کے تحت کتے کے گوشت کی خرید و فروخت پر 5 سال قید اور 12 ہزار ڈالر تک جرمانہ ہوسکتا ہے۔

کمبوڈیا اور اس کے ہمسائیہ ملک ویتنام میں کتے کے گوشت کھانے کا عام رواج ہے۔ کمبوڈیا کے صوبہ سیم ریپ کو کتے کے گوشت کی تجارت کا مرکز سمجھا جاتا ہے اور سالانہ 30 لاکھ کتوں کو کھانے کی نیت سے زبح کیا جاتا ہے جس کے باعث یہ صوبہ ریبیز سمیت کئی بیماریوں کی آماج گاہ بن گیا تھا۔

جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے کمبوڈیا کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ کتوں کے گوشت کی خرید و فروخت پر پابندی سے نہ صرف کتوں کی نسل محفوظ رہے گی بلکہ انسانوں میں بھی بیماریوں کا پھیلاؤ رک جائے گا۔

واضح رہے کہ کورونا وبا کے پھیلاؤ کے بعد جنگلی جانوروں کو بطور خوراک استعمال کرنے کیخلاف آوازیں بلند ہونا شروع ہوئی تھیں اور اب کئی مالک اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔