کراچی لوڈ شیڈنگ؛ صنعتوں اور سی این جی اسٹیشنز کی گیس کے الیکٹرک کو دینے کا فیصلہ

بزنس رپورٹر  جمعرات 9 جولائ 2020
کراچی میں صنعتوں کے بجلی گھروں کو تین اور سی این جی اسٹیشنز کو دو روز کے لیے گیس کی فراہمی بند کرنے کا حکم جاری (فوٹو : فائل)

کراچی میں صنعتوں کے بجلی گھروں کو تین اور سی این جی اسٹیشنز کو دو روز کے لیے گیس کی فراہمی بند کرنے کا حکم جاری (فوٹو : فائل)

 کراچی: شہر قائد میں لوڈ شیڈںگ کم کرنے کے لیے کے الیکٹرک کو اضافی گیس فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے لیے صنعتوں کے بجلی گھروں کو تین اور سی این جی اسٹیشنز کو دو روز کے لیے گیس کی فراہمی بند کردی جائے گی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سوئی سدرن گیس کمپنی کے حکام کی جانب سے سائٹ ایسوسی ایشن اور شہر کی دیگر صنعتی ایسوسی ایشنز کو اس حوالے سے آگاہ کیا گیا ہے کہ کراچی میں لوڈ شیڈنگ کے دورانیے میں کمی کے لیے وفاقی حکومت کی ہدایت پر کے الیکٹرک کو اضافی گیس کی فراہمی کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے لیے صنعتی یونٹس میں قائم کیپٹو پاور پلانٹس کو جمعہ تا اتوار تین روز کے لیے گیس کی فراہمی معطل رہے گی۔

اس دوران صنعتی یونٹس کو گیس سیلز ایگریمنٹ کے مطابق کیپٹو پاور پلانٹس کے لیے متبادل انتظامات کرنے ہوں گے۔ سوئی سدرن کمپنی کی جانب سے سی این جی اسٹیشنز مالکان کو بھی اس ضمن میں ایک مراسلہ ارسال کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جمعہ اور ہفتہ کے روز سی این جی اسٹیشنز کو بھی گیس کی فراہمی 48 گھنٹے کے لیے معطل رہے گی۔

یہ پڑھیں : وزیراعظم نے کراچی میں بجلی کے بحران پرقابو پانے کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی 

ایس ایس جی سی کے مطابق تمام سی این جی اسٹیشنز کو جمعہ کی صبح 8 بجے سے اتوار کی صبح 8 بجے تک مکمل طور پر گیس کی فراہمی بند رہے گی۔

دوسری جانب آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے چیئرمین غیاث پراچہ، سی این جی ڈیلرز ایسوسی ایشن کے عبدالسمیع خان اور سی ای نجی اسٹیشن اوونرز ایسوسی ایشن کے ملک خدا بخش اس فیصلے کو ظلم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہایک نجی ادارے کو فائدہ پہنچانے کے لیے لاکھوں سی این جی صارفین کے مفاد کو داؤ پر لگایا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گیس کی دو روزہ بندش سے پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرنے والے غریب عوام پریشان ہوجائیں گے، کے الیکٹرک کو فرنس آئل سے بجلی کی پیداوار کے احکامات دینے کے بجائے صنعتوں اور سی این جی اسٹیشنز کا گلا گھونٹنا انصاف نہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔