ٹیم کیسی ہے

عبد الحمید  جمعـء 10 جولائ 2020
gfhlb169@gmail.com

[email protected]

حکمرانی انسانی جبلت کا خاصہ ہے۔ہر ایک جو اس دنیا میں آیا ہے اس کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی پذیرائی ہو،اس کی تعریف کی جائے، اس کو سنا جائے، اس کو مانا جائے،اسی کی بن آئے اور ہر طرف اس کی چہہ چہہ کار ہو۔ ہر ایک اپنے تئیں اپنے اس مقصد کو پانے کی تگ و دو کرتا ہے۔

زندگی کی دوڑ میں چند ایک ایسے خوش نصیب ہوتے ہیں جن کو مقام و مرتبہ حاصل ہو جاتا ہے۔وہ دوسروں پر حکمرانی کی نعمت سے سرفراز ہوتے ہیں۔آپ کو چاہے چند افراد کے امور کا نگران ہونا نصیب ہو جائے چاہے آپ پورے ملک کے حکمران بن جائیں آپ اتھارٹی حاصل ہوتے ہی امتحانوں اور آزمائشوں کے نرغے میں آ جاتے ہیں۔ سب سے پہلی اور سب سے اہم آزمائش جس پر آنے والے وقتوں میں آپ کی کامیابی اور ناکامی کا دارو مدار ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ آپ اپنی ٹیم کیسی چنتے ہیں۔

کوئی بھی فرد چاہے کتنا ہی لائق فائق ہو،کتنا ہی محنتی ہو، کتنا ہی مخلص ہو،کتنا ہی ایمان دار ہو،کتنا ہی ہوشیار ہو اور کتنا ہی دور اندیش ہو اکیلا کچھ نہیں کر سکتا۔ ہر انسان کیLimitationsہوتی ہیں۔وہ ہر کام نہ تو خود کر سکتا ہے،نہ دیکھ سکتا ہے اور نہ ہی سارے کاموں کی نگرانی کر سکتا ہے۔

چیف ایگزیکٹو کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنے وژن کو سامنے رکھ کر ترجیحات مرتب کرے، شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم مقاصد کا تعین کرے،پیش آنے والے چیلنجز سے آگاہ ہو اور پھر دیکھے کہ وہ کون سے افراد ہیں جو یہ صلاحیت رکھتے ہیں کہ اس کے وژن کو عملی جامہ پہنا سکیں۔ چیف ایگزیکٹو کو ایک ایسی ٹیم تشکیل دینی ہوتی ہے جو اس کے وژن کو سمجھتی بھی ہو اور اس کو عملی جامہ پہنانے کا بھر پور عزم بھی رکھتی ہو۔ جس نے جتنی عمدہ اور با صلاحیت ٹیم منتخب کر لی اتنی ہی کامیابی سمیٹی۔

ہمارے ہاں حکومتی امور کی انجام دہی کے لیے ایک ایسی سرکاری مشینری اور ایک ایسا سرکاری کلچر تشکیل پا چکا ہے جو کوئی اچھا نیا قدم اُٹھانے کی ہمت ہی نہیں کرتا۔ مشکلات میں راستہ بنانا اور آگے ہی بڑھتے رہنا ایک اچھے رہنما اور اچھے افسر کی نشانی ہوتی ہے۔بدقسمتی سے ہماری سرکاری مشینری میں آگے بڑھتے رہنے کا حوصلہ بوجوہ نہیں ہے۔

آپ سرکاری مشینری کا حصہ تو بن سکتے ہیں لیکن ترقی کے زینے طے کرنے کے لیے آپ کو قدم قدم پر کمپرومائزز کرنے پڑتے ہیں اور یوں چند ایک کو چھوڑ کر اکثرکے اندر سے اپنا بہترین دینے اور initiative لینے کی تڑپ ختم ہو جاتی ہے پھر جب آپ سب سے بڑے منصب پر پہنچ جاتے ہیں تو آپ کی ٹیم کا انتخاب آپ کے بس میں نہیں ہوتا۔ اکثر لوگ وہی ہوتے ہیں جو برسوں سے وہاں قدم جمائے بیٹھے ہوتے ہیں اور آپ کو ان کے ساتھ ہی کام کرنا ہوتا ہے۔ اگر آپ چند تبدیلیاں کر بھی لیں تو جن کو آپ لے کر آتے ہیں وہ بھی تو اسی کلچر کا حصہ ہوتے ہوئے کچھ کرنے کی صلاحیت کھو چکے ہوتے ہیں۔

ہماری سرکاری مشینری میں آپ زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتے ہیں کہ اپنے آپ کو مالیاتی بدعنوانی سے بچا کر رکھیں لیکن ایسے دیانت دار افراد ایک اور قیامت ڈھانا شروع کر دیتے ہیں۔اکثر ایمان دار افسران اﷲ سے نہیں بلکہ معاشرے سے ڈر کر یا ایمان داری کی شہرت کے لیے مالیاتی بدعنوانی سے بچتے ہیں ، ان کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ لوگ ان کی ایمان داری کی شہرت کے آگے سرنگوں رہیں،نہ خود کام کرتے ہیں اور نہ کسی دوسرے کو کام کرنے دیتے ہیں۔ اب ایمان دار نے تو کوئی Initiative لینا نہیں تو میدان بظاہر دوسری طرز کے افراد کے ہاتھ لگ جاتا ہے ۔

اگر آپ تاریخ پر نگاہ دوڑائیں تو وہ حکمران بہت کامیاب دکھائی دیں گے جنھوں نے اپنی اچھی ٹیم منتخب کی اور پھر اس ٹیم پر اعتماد کرتے ہوئے اختیار دیا،وسائل مہیا کیے تاکہ وہ اپنے لیڈر کی نگرانی میں اپنے اپنے کام کو بخوبی کر ے۔جو رہنما ساراکچھ خود کرنے کی کوشش کرتا ہے تھک ہار کر ناکام و نامراد ٹھہرتا ہے۔میںایک ٹریننگ پروگرام کے تحت سویڈن میں مقیم تھا۔ہمیں کئی بڑی بڑی سویڈش کمپنیوں میں لے جایا گیا۔چند ایک کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو سے بھی ملوایا گیا۔

دنیا کی مشہور ملٹی نیشنل کمپنی Ericson اور کار مینو فیکچرنگ کمپنی Valvo کے چیف ایگزیکٹو کے دفاتر میں ،دونوں جگہ دریافت کیا گیا کہ وہ اپنی کمپنی کو کس طرح دیکھتے ہیں اور ان کا رہنمائی کا کیا اسٹائل ہے تو دونوں نے تقریباً ایک ہی بات بتائی کہ ان کی executive ٹیم بہت اعلیٰ ہے۔وہ اپنی ٹیم کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہیں اور رپورٹوں کی روشنی میں مشورہ کر کے مستقبل کے فیصلے کر لیے جاتے ہیں۔دونوں نے اپنی ٹیم کی قابلیت اور صلاحیت کو سراہا اور کہا کہ کمپنی کی روز افزوں ترقی ان کی ٹیم کی بہترین کارکردگی کی مرہونِ منت ہے۔

تاریخ میں دور جانے کی ضرورت نہیں۔آپ مغل بادشاہ جلال الدین اکبر کو لے لیں۔آپ اس بات سے آگاہ ہوں گے کہ وہ سندھ کے ایک دور افتادہ مقام پر اس حالت میں پیدا ہوا کہ اس کا خاندان شکست کھا کر در بدر کی ٹھوکریں کھا رہا تھا۔ان حالات میں اکبر کی تعلیم و تربیت کا مناسب امتحان نہ ہو سکتا تھا اس لیے اکبر بالکل ان پڑھ رہا۔

ہمایوں نے ایران کی مدد سے جب دوبارہ سلطنت حاصل کی تو تھوڑے ہی عرصے بعد اس کی موت واقع ہو گئی اور ان پڑھ اکبر کو زمامِ سلطنت مل گئی۔اکبر نے حکمرانی ملتے ہی سمجھداری کی جو بات کی وہ اپنے درباریوں کا اچھا چنائو تھا۔ اس کو اپنی Limitationکا احساس تھا۔وہ جانتا تھا کہ وہ تعلیم و تربیت سے بہرہ ور نہیں ہو سکا ہے اس پر مستزاد یہ کہ وہ ابتدائی عمر میں ہی حکمران بن گیا ہے اس لیے مناسب تجربے کا بھی موقع نہیں مل سکا۔ان حالات میں اس نے بہترین درباری چنے جن کو تاریخ میں اکبر کے نو رتن کہا جاتا ہے۔

اور آج بھی دنیا اکبر کے نو رتنوں کی سوجھ بوجھ اور ان کے اکبر کے وژن کے ساتھ اخلاص کی معترف ہے۔اگر اکبر کے پاس قابل ترین نو رتنوں کی ٹیم نہ ہوتی تو وہ بھی عام سا حکمران گردانا جاتا اور مغلِ اعظم کا لقب نہ پاتا۔ رنجیت سنگھ کو دیکھ لیں۔وہ گوجرانوالہ کے ایک چھوٹے سے قبیلے کا سردار تھا۔کیا وہ کوئی بہت پڑھا لکھا تھا۔کیا وہ کوئی بہترین دماغ رکھنے والا فرد تھا نہیں ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔

رنجیت سنگھ کی کامیابی بھی بنیادی طور پر ایک بہترین ٹیم منتخب کرنے میں پوشیدہ ہے۔اس نے گروہی مفادات سے اوپر اُٹھ کر اپنے ارد گرد تمام مذاہب سے ایسے افراد جمع کیے جو اپنی اپنی فیلڈ میں ماہرتھے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے رنجیت سنگھ کا اقتدار کابل سے لے کر کشمیر تک پھیل گیا اور رنجیت نے وہ کامیابی سمیٹی جو کسی دوسرے سکھ حکمران کے حصے میں نہیں آئی۔ ماضی قریب میں امریکی صدور کو دیکھیں تو صدر ریگن کا دور امریکی تاریخ میں ایک شاندار دور کہلا سکتا ہے۔صدر ریگن پیشے کے لحاظ سے ایک فلمی اداکار تھے۔سیاست میں آنے کے بعد وہ کچھ عرصے کے لیے کیلی فورنیا کے گورنر رہے۔

صدارتی انتخاب جیتنے کے بعد صدر ریگن نے بھی اسی سمجھداری کا ثبوت دیا جس کا مظاہرہ جلال الدین اکبر نے کیا تھا۔صدر ریگن نے اپنی ٹیم کے چنائو میںبہت احتیاط برتی اور ان میں سے نیشنل سیکیورٹی کے سربراہ،وزیرِ خارجہ اور وزیرِ دفاع کو یہ ذمے داری سونپی کہ تمام اہم امور میں اکٹھے بیٹھ کر ہر زاویے سے جائزہ لے کر دیکھیں اور تینوں جس نتیجے پر پہنچیں اس سے صدر کو آگاہ کر دیں۔آخری فیصلہ صدر ریگن کا ہی ہوتا تھا لیکن اس فیصلے کے پیچھے بہترین دماغ ،بڑی محنت اور عرق ریزی ہوتی تھی۔

اگر آپ نے یہ دیکھنا ہو کہ کوئی حکمران کیا کر سکے گا تو اس کی ٹیم پر نگاہ دوڑا لیں مستقبل کی تصویر واضح نظر آ جائے گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔