بینائی

سعد اللہ جان برق  جمعـء 10 جولائ 2020
barq@email.com

[email protected]

آج کل ہمیں ایک نئے لفظ’’وژن‘‘نے ویسا ہی پریشان کیا ہوا ہے جیسا کہ اگلے وقتوں میں ’’تحفظات‘‘ اور ’’بیانیہ‘‘ جیسے الفاظ نے پریشان کیاہوا تھا۔ لفظ نیا نہیں ہے ٹیلی وژن سے بھی زیادہ پرانا ہے لیکن اس کی نئی ترقی دادہ قسم ’’موجودہ حکومت کا وژن‘‘ سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔

اتنا تو ہمیں پتہ ہے کہ یہ بنی گالا کے قریب ایک کیاری میں اگایا گیا تھا اور پھر ہر انصاف دار کو ’’حصہ بقدرجثہ‘‘تقسیم کیاگیاتھا جواب اسے اپنے کھیتوں میں کاشت کررہے ہیں اور اچھی خاصی پیداوار حاصل کر رہے ہیں لیکن ہمارے لیے مشکل یہ ہے کہ نہ تو اس کیاری تک ہمیں رسائی حاصل ہے اور نہ کھیتوں تک۔ اس لیے سمجھ نہیں آرہاہے کہ یہ وژن از قسم اناج ہے یا ازقسم سبزی یا پھل یا ازقسم چقندر یعنی جس سے ’’چینی‘‘ حاصل کی جاتی ہے۔ بہت سوچا یہاں وہاں دانا، دانشوروں اور شناساؤں سے بھی پوچھا کہ یہ ’’وژن‘‘ کیاہے، کہاں ہے، کیسا ہے اور کیوں ہے کیونکہ

اکہنوں کرا دماغ کہ پرسد زباغباں

بلبل چہ گفت،گل چہ شنید و صبا چہ کرد

یعنی اب کون باغبان سے پوچھے کہ بلبل نے کیاکہا، گل نے کیا سنا؟اور صبا نے کیا کیا؟۔وژن کا سیدھا مطلب تو آنکھوں سے دیکھنے کا ہے لیکن آنکھوں کی بھی توبہت ساری قسمیں ہوتی ہیں۔ شاعری میں جن آنکھوں کا ذکرہوتاہے وہ تو الگ ایک باب ہے لیکن عام آنکھوں میں بھی کچھ سیدھی ہوتی ہیں کچھ’ظے ظ‘‘یعنی ترچھی بھی ہوتی ہیں بلکہ اکثر آنکھیں کہیں پہ نگاہیں کہیں پہ نشانہ ہوتی ہیں۔ان کو بھی ایک طرف کردیجیے۔اور صرف بینائی کی بنیاد پر دیکھیے تو کسی کی دور کی بینائی کم یا زیادہ ہوتی ہے اور کسی کی قریب کی۔اس بنیاد پر بھی سوچا جائے توہم کیسے پتہ لگائیں کہ وژن یا عمران خان کا’’وژن‘‘کونسے والا وژن ہے۔اور درشن یا قریب درشن والا بلکہ بعض اوقات بینائی یعنی وژن میں ایک اور نقص بھی پیداہوجاتاہے۔

اسے سمجھنے کے لیے اردو ادبیات سے ایک لطیفہ لیتے ہیں۔کہتے ہیں حیدرآباد کے معروف شاعر شاذ تمکنت کے ایک مداح آنکھوں کے ڈاکٹر تھے، مجتبیٰ حسین نے ایک روز اس ماہرچشم سے شکایت کی کہ آپ شاذتمکنت کے اتنے بڑے اچھے دوست ہیں اور آپ کو ان کی بینائی کی کوئی فکر ہی نہیں ہے کہ اس میں کتنی بڑی خرابی واقع ہوچکی ہے۔ ڈاکٹر نے پوچھا کیسی خرابی؟مجتبیٰ حسین نے کہا۔آج کل حیدرآباد میں ان کو اپنے سوا کوئی اور’’دکھائی‘‘ہی نہیں دیتا۔اور یہ واقعی بینائی عرف وژن کی بہت بڑی خرابی ہے کہ کسی کو اپنے سوا کوئی اور دکھائی ہی نہ دے۔کسی شاعر کی دعا بھی یہی ہے کہ

خدا ہم کو ایسی’’بینائی‘‘نہ دے

کہ اپنے سوا کچھ دکھائی نہ دے

یہ بھی سننے میں آیاہے کہ بہت سارے ماہرین چشم وچشمہ یہاں تک کہ چشم گل عرف قہرخداوندی کابھی یہی کہنا ہے کہ’’وژن‘‘ کی اس خرابی کا کوئی’’علاج‘‘بھی نہیں ہے، جس کسی کو یہ بیماری لاحق ہوتی ہے یعنی اپنے سوا اور کوئی یاکچھ بھی دکھائی نہ دے تو پھر اس کا علاج ممکن نہیں رہتا۔

الٹے ہوگئے سارے’’چشمے‘‘کچھ نہ دوا نے کام کیا

دیکھا اس بیماری’’چشم‘‘ نے آخر کام تمام کیا

کہتے ہیں ایک انگریز افسر نیا نیا ہندوستان آیا تو اس نے دیکھا کہ یہاں ایک محکمے میں یا سروس میں کچھ ایسے نئے ’’عہدے‘‘بھی مروج ہوگئے جو اصل انگریزی سروس میں نئے تھے، یہ افسروں اور جوانوں کے درمیان کچھ ایسے عہدے تھے جو نہ افسر تھے نہ ماتحت۔ نئے افسر نے پرانے افسر سے پوچھا یہ نئے عہدے یا عہدے دار آخرکس لیے؟

پرانے افسر نے نئے افسر کو عملی طور پر سمجھانے کے لیے کہا سر آپ ذرا میرے ساتھ باہر چلیے۔دونوں باہرنکلے تو پرانے افسر نے ایک جونیئر افسر کو بلاکرآسمان کی طرف انگلی اٹھائی اور پوچھا تمہیں وہ’’ستارہ‘‘نظر آرہاہے۔ بھری دوپہر میں آسمان پر ستارہ کہاں دکھائی دیتا اس لیے جونئیر افسر نے کہا نہیں سر دن کے وقت ستارہ کہاں؟پھر اس نے ایک عام کارکن کو بلاکر یہی سوال پوچھا تو اس نے بھی کہا نہیں سر مجھے تو کوئی ستارہ نہیں نظر آرہاہے۔

اب اس نے خاص قسم کے عہدہ دار کو بلایا جو افسروں اور ماتحتوں کی درمیانی کڑی تھا اور وہی سوال دہرایادیکھو میری انگلی کی سیدھ میں۔وہ ستارہ تمہیں دکھائی دے رہاہے ؟ درمیانی افسر نے کہا۔جی ہاں سر بالکل صاف نظر آرہاہے آپکی انگلی کی سیدھ میں ایک ستارہ ہے۔اسے رخصت کرنے کے بعد پرانے افسر نے نئے افسر سے کہا دیکھا آپ نے۔ ستارہ کوئی نہیں تھالیکن اسے نظر آگیا کیونکہ میں نے اس سے کہاتھا۔یہی ان درمیانی عہدوں کی اہمیت ہے اور اسے کہتے ہیں’’وژن‘‘جو میرا وژن وہ اس کا وژن۔امید ہے آپ کی سمجھ اور وژن دونوں میں آگیا ہوگا کہ وژن کیا ہوتا ہے۔

خدا ایسے احساس کا نام ہے

رہے سامنے اور دکھائی نہ دے

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔