غریب بچوں کی کفالت، صدقہ جاریہ

ضیا الرحمٰن ضیا  ہفتہ 11 جولائ 2020
ہر صاحب استطاعت اپنے اردگرد معاشرے پر نظر دوڑائے اور ایسے غریب و لاوارث بچوں کی کفالت کی ذمے داری اٹھائے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

ہر صاحب استطاعت اپنے اردگرد معاشرے پر نظر دوڑائے اور ایسے غریب و لاوارث بچوں کی کفالت کی ذمے داری اٹھائے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

چند روز قبل اسلام آباد کے علاقے غوری ٹاؤن سے گزر رہا تھا تو سوسائٹی کے داخلی گیٹ کے پاس گندگی کے ڈھیر پر میں نے چند بچوں کو دیکھا جو وہاں بیٹھے کچھ کھا رہے تھے۔ انہیں اردگرد کی کوئی خبر نہ تھی کہ انہیں کوئی دیکھ رہا ہے، وہ کسی گندی جگہ بیٹھے ہیں اور ساتھ کھا بھی رہے ہیں، لوگ کیا کہیں گے وغیرہ۔ ان بچوں کو اس حالت میں دیکھ کر میں لرز گیا کہ آخر یہ بھی تو کسی کے بچے ہیں۔ یہ بھی ہمارے معاشرے سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔ ہماری طرح ہی انسان ہیں۔ اسی سوسائٹی کے باسی ہیں۔ لیکن غربت اور جہالت نے انہیں اس حال تک پہنچا رکھا ہے کہ انہیں گندگی کے ڈھیر پر بیٹھ کر کھانے میں شرم محسوس نہیں ہوتی بلکہ انہیں کوڑے کے ڈھیر سے نفرت بھی نہیں ہے۔

اگر کبھی ہمیں اس کوڑے کے ڈھیر کے پاس جانے کی ضرورت پڑتی تو ہم کیا کرتے؟ کیا اسی طرح بے فکر ہو کر اس ڈھیر کے قریب چلے جاتے؟ نہیں۔ ہم ان کی جگہ ہوتے تو اول تو ہم اس ڈھیر کے قریب پہنچتے ہی ناک سکیڑ لیتے اور ناک منہ کو ڈھانکنے کی کوشش کرتے، ہاتھ سے مکھیوں کو دور کرتے۔ پھر دوسرا خیال ہمیں اپنے کپڑوں وغیرہ کے خراب ہونے کا آتا کہ کہیں یہاں کپڑے نہ خراب ہوجائیں۔ پھر ہمیں اردگرد کا بھی خیال آتا کہ کوئی ہمیں دیکھ تو نہیں رہا۔ اردگرد دیکھتے اور کوئی ایسا شخص دکھائی دے دے جو ایک نظر ہم پر ڈال کر آگے چلا گیا تو ہم شرم سے پانی پانی ہوجائیں کہ اس نے ہمیں کوڑے کے ڈھیر پر یا اس کے قریب دیکھ لیا ہے، وہ ہمارے بارے میں کیا سوچے گا؟ چاہے ہم اس شخص کو جانتے ہوں یا نہیں اور اس سے دوبارہ کبھی ملاقات کی امید بھی نہ ہو تب بھی ہم دل ہی دل میں شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ ہمیں تھوڑی سی دیر کےلیے اگر اسی کوڑے کے ڈھیر کے قریب جانا پڑ جائے تو ہزاروں خیالات اور شرمندگی کا احساس ہمیں گھیر لیتا ہے اور ایک یہ بچے ہیں کہ انہیں کسی قسم کا کوئی خیال یا احساس نہیں۔ وہ اپنے اردگرد سے بے فکر ہوکر کھانے پینے میں مشغول ہیں۔ جبکہ وہ بالکل ہماری طرح ہی انسان ہیں، صرف غربت کی وجہ سے ان کی تربیت ایسی نہیں ہوسکی کہ انہیں معاشرے میں رہنے سہنے کا سلیقہ آجاتا اور وہ بھی معاشرے میں اپنا وجود منوا سکتے۔

ہم روزانہ آتے جاتے راستوں میں، فٹ پاتھوں اور سگنلز پر، گلیوں اور بازاروں میں بہت سے معصوم بچوں کو دیکھتے ہیں جو بھیک مانگتے پھرتے ہیں۔ ان کی عمریں ہی کیا ہوتی ہیں؟ یہ بچے زیادہ تر چھ سے چودہ سال کی عمر کے ہوتے ہیں۔ اس عمر میں امرا کے بچے والدین کی گود سے ہی نہیں اترتے۔ صبح کے وقت والدین پیار سے بچوں کو جگاتے ہیں، اپنے ہاتھ سے ناشتہ کرا کے دو گھنٹے بعد ہونے والی اسکول بریک کےلیے لنچ بکس بھر کر ساتھ رکھ دیتے ہیں۔ آرام دہ گاڑیوں میں اسکول پہنچتے ہیں اور بہترین کلاس رومز میں بیٹھ کر پڑھتے ہیں۔ اسکولوں کا بھی یہ حال ہوتا ہے کہ اساتذہ بچوں کو نہایت پیار بلکہ ادب سے پڑھاتے ہیں، کیونکہ اب ’’ مار نہیں پیار‘‘ کا زمانہ ہے تو اساتذہ شریر بچوں کو بھی ہاتھ لگاتے ہوئے ڈرتے ہیں کہ ایک تھپڑ بھی لگا دیا تو ملازمت خطرے میں پڑجائے گی۔ پھر چھٹی کے بعد گھر پہنچتے ہیں تو والدہ پیار سے کپڑے تبدیل کرکے سلا دیتی ہیں۔ شام کو ٹیوشن سینٹر و اکیڈمیوں میں چلے جاتے ہیں یا پارکوں میں سیر و تفریح کےلیے چلے جاتے ہیں۔ آئسکریم اور جوس خرید کر محظوظ ہوتے ہیں۔

لیکن غریبوں کے یہ معصوم بچے ان تمام نعمتوں سے محروم ہوتے ہیں۔ یہ اسکول، ٹیوشن و اکیڈمی، پارک، سیرو تفریح، جوس و آئسکریم وغیرہ کے ناموں سے ناآشنا ہوتے ہیں۔ چھوٹی سی عمر میں ہی زمانے کی ٹھوکریں ان کا مقدر بن جاتی ہیں۔ دن بھر لوگوں کی ڈانٹ ڈپٹ سنتے رہتے ہیں، بلکہ کچھ لوگ تو ان کی منت سماجت سے تنگ آکر تھپڑ بھی رسید کر دیتے ہیں اور کوئی انہیں سینے کے ساتھ لگا کر دلاسہ دینے یا پیار کرنے والا نہیں ہوتا۔ انہوں نے بس یہی سیکھا ہوتا ہے کہ ایک شخص دھتکار دے تو دوسرے کے پاس چلے جاؤ اور وہاں سے تیسرے کے پاس۔ تپتی دھوپ میں یہ لوگوں کی باتیں سنتے، گاڑیوں کے شیشے کھٹکھٹاتے بے رنگ زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔

عمر بھر یہ بچے ایسے ہی لوگوں کی باتیں سنتے جہالت میں ڈوبی زندگی گزارتے رہتے ہیں۔ جب خود کچھ حاصل نہیں کرسکتے تو اپنے بچوں کو بھی کچھ نہیں سکھا سکتے اور وہ بھی اسی طرح کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یوں ان کی نسلیں تباہ ہوجاتی ہیں۔ نہ ہی تو انہیں دنیا میں رہنے سہنے کا کوئی سلیقہ آتا ہے اور نہ دین کے بارے میں کچھ جان سکتے ہیں کہ دنیا نہ بنی تو کم از کم آخرت ہی سنوار لیں۔ یہ بیچارے نہ دنیا کے رہتے ہیں اور نہ آخرت کے۔

اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان بچوں کے مستقبل کی فکر کس کو کرنی ہے؟ اپنی حکومتوں سے تو اس کی امید لگانا بالکل فضول ہے۔ اگر حکومتیں اتنا کرسکتیں تو آج یہ نوبت ہی نہ آتی۔ لہٰذا ہر صاحب استطاعت شخص کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے اردگرد معاشرے پر نظر دوڑائے اور ایسے بچے جو غریب خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں ان کی کفالت کی ذمے داری اٹھائے۔ ان کے کھانے پینے اور اسکول وغیرہ کے اخراجات برداشت کرے۔ یہ کام انفرادی طور پر بھی ہوسکتا ہے اور اجتماعی بھی۔ انفرادی تو یہی طریقہ ہے کہ ایک شخص اپنی مالی حیثیت کے مطابق ایک یا دو بچوں کی کفالت کی ذمے داری لے لے اور اجتماعی طور پر اس طرح کہ ہر علاقے میں ایک تنظیم بنائی جائے جو علاقے میں رہائش پذیر غریب خاندانوں کے بچوں کا شمار کرے اور پھر تمام صاحب استطاعت افراد سے رابطہ کرکے ان سے فنڈ اکٹھا کرے اور ان بچوں کے اخراجات پورے کریں۔

یقین جانیے یہ کام بہت زیادہ اجر و ثواب کا باعث بنے گا۔ ان بچوں کی کفالت سے ان کی نسلیں سنور جائیں گی اور ان کی دین و دنیا بن جائے گی، جو آپ کےلیے صدقہ جاریہ بن جائے گا۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔