’’وژن‘‘اور کارخانو مارکیٹ

سعد اللہ جان برق  ہفتہ 11 جولائ 2020
barq@email.com

[email protected]

جناب عمران خان کے بارے میں اب تو سارے لوگ جان چکے ہیں مان چکے ہیں اور پہچان چکے ہیں کہ یہ پہلے وزیراعظم ہیں جس کا ’’وژن‘‘بھی ہے اس سے پہلے جو بھی وزرائے اعظم گزرے ہیں ان سب کے پاس سب کچھ ہوتاتھا لیکن ’’وژن‘‘ نہیں ہوتاتھا۔کسی کے پاس’’قرض سنوارو ملک اتارو‘‘ تھا توکسی کے پاس روٹی کپڑا مکان چھینو تھا، اسلام تھا، جمہوریت تھی، مساوات تھی، سوشل ازم تھا، اعتدال پسندی تھی،لیکن نہیں تھا تو ’’وژن‘‘نہیں اور جب ’’وژن‘‘ہی نہ ہو توسب کچھ بیکار، بے سود اور لاحاصل۔نشانہ مارنے کے لیے تیر کمان تیرانداز وغیرہ سے بھی سب سے پہلے’’وژن‘‘ ہونا چاہیے

’’وژن‘‘ایسی کہ ہرکون ومکان کے پار ہوجائے

مگر اس چہرے پرآجائے تو بیکار ہوجائے

ہندی اساطیر میں’’ورون اچاریہ‘‘ پانڈوؤں کو تیز اندازی سکھانے والا استاد ہے، ایک دن وہ اپنے شاگردوں کا امتحان لیتاہے مکان کی چھت پرایک مصنوعی پرندہ رکھ کر وہ اپنے شاگردوں سے پرندے کی آنکھ میں تیرمارنے کو کہتاہے۔ ایک کا تیر مکان کی چھت پر پڑتاہے دوسرے کا پرندے کو تیسرے کا پرندے کے سرمیں لیکن ارجن  سیدھا پرندے کی آنکھ میں مارتا ہے۔ استاد ان سے پوچھتا ہے کہ تیر مارتے ہوئے تمہیں کیا نظرآرہاتھا۔ ایک کہتا مکان کی چھت، دوسرا پرندہ اور تیسرا پرندے کا سربتاتا ہے۔

ارجن کہتاہے کہ مجھے صرف پرندے کی آنکھ دکھائی دیتی تھی اور کچھ نہیں۔اسے کہتے ہیں وژن۔وژن بڑی اچھی چیز ہے اگر کسی کا وژن نہ ہو تو پھر اس کا کچھ بھی نہیں ہوتا۔مثلاً ہم کالم لکھ رہے ہیں تو ہمارا ’’وژن‘‘کالم پر ہونا چاہیے، نہ کہ ادھر ادھر کی فضولیات پر۔آپ بازار سبزی لینے جارہے ہیں تو آپ کا وژن سبزی پر ہوناچاہیے کہ نہ کہ ادھر ادھر سیرسپاٹے یالوگوں کے ساتھ گپیں لڑانے پر۔اس لیے ہرکسی کا وزیراعظم کی طرح وژن ہونا چاہیے اور ہمیں لگ رہاہے کہ ایسا ہوبھی رہاہے۔

آہستہ آہستہ سارے لوگ صاحبان وژن ہوتے جارہے ہیں، فی الحال تو یہ تھوڑا مہنگا ہے اس لیے خاص خاص لوگ،وزیر مشیر اورمنتخب نمائندے ہی اسے ’’افورڈ‘‘اور یوز کررہے ہیں لیکن ایک دن آپ دیکھ لیں گے کہ ہرکسی کا اپنا اپنا وژن ہوگا۔خیرہمیں خوشی ہے کہ ملک میں ’’وژن‘‘دن دونی رات چوگنی ترقی کررہاہے۔لیکن ہم اس دکاندار کے وژن کا تذکرہ کرنا چاہتے ہیں جو ہم نے پہلے کہیں کیا تھا۔یعنی ’’کارخانومارکیٹ‘‘کے ایک دکاندار کا وژن۔ کارخانومارکیٹ پشاور شہر سے چند کلومیٹر دور اور جمرود کے مقام پر واقع ہے جہاں سے خریداری صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں جن کا ’’وژن‘‘ہوتاہے پھر ان وژن والوں کی بیگمات ہوتی ہیں اور ان بیگمات کا وژن شاپنگ ہوتا ہے چنانچہ وہ اپنے ساتھ اپنا وژن اور شوہر کا پھولا ہوا بٹوہ لے کر یہاں آتی ہیں اور شوہر کا ’’بوجھ‘‘کم کرتی رہتی ہیں، ہر وہ چیز خریدتی ہیں جس کی اسے ضرورت نہیں ہوتی جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ تو نوکر یا شوہر یا شوہر کے پرستار یا سرکار پہلے ہی مہیا کرچکی ہوتی ہیں۔

یہاں پر خریداری کرنے والے پاکستان بھر کے حضرات اور ان کی خواتین یا خواتین اور ان کے حضرات چونکہ ’’رہتے‘‘  پاکستان میں ہیں اور’’بسے ہوئے‘‘ فارن میں ہوتے ہیں، اس لیے فارن کا وژن رکھتے ہیں اور فارن کا فضلہ بھی سرآنکھوں سے لگاتے ہیں اس لیے یہاں ہر چیز ’’فارن‘‘کی ہوتی ہے جو سب کچھ ہوتی ہیں لیکن ’’فارن‘‘کی نہیں ہوتیں البتہ لیبل فارن کا رکھتی ہیں باقی سب کچھ منڈی بہاؤ الدین، لاہور اور فیصل آباد، اسلام آباد،گوجرانوالہ اور کراچی کا ہوتاہے۔

اس مال کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ اکثر دو دفعہ اسمگل کی گئی ہوتی ہیں، ایک مرتبہ پاکستانی شہروں سے کارخانومارکیٹ اور دوسری بار یہاں سے الٹے بانس بریلی کو۔اس بیل کا قصہ تو آپ نے سنا ہی ہوگا جسے ایک کسان نے بیچا تھا اور نیا بیل خرید لایا تھا،چند دن بعد اسے پتہ چلا کہ وہ تو اپنا ہی بیل دگنی قیمت پر لے کر آیاتھا کیونکہ سوداگروں نے اس کی سنگیں وغیرہ تراش کر رنگ لگا کر اور گھنگرو جرس ڈال کر ’’دوسرا‘‘ بنا دیا تھا۔داستان کی یہ دُم ذرا لمبی ہوگئی ہم بتانا یہ چاہتے ہیں کہ اسی’’ذہین ترین‘‘ میں ایک ذہین ترین دکاندار کا ’’وژن‘‘دیکھ کر ہم پھڑک گئے اور ابھی تک کھڑک رہے ہیں کیونکہ وزیراعظم آف وژن کے ایک ’’وژن‘‘نے مزید پھڑکا دیاہے۔وزیراعظم نے کہاہے کہ ترقیاتی فنڈ کورونا کے ختم ہونے پر جاری کیے جائیں گے تب تک انتظار بلکہ ’’وژن‘‘فرمایے۔ایک پشتو ٹپہ یاد آرہاہے کہ

جاناں میری آنکھوں کے ڈیلے دکھنے لگے ہیں لیکن تمہارے منحوس گاؤں کے منحوس راستے پر کوئی بھی آتا دکھائی نہیں دیتا۔جس دکاندار اوراس کے وژن کا ہم ذکر کررہے ہیں اس نے جلی حروف میں دکان پر اپنا یہ وژن لگایاتھا کہ ’’مسئلہ کشمیر حل ہونے تک ادھاربند‘‘ اور اب کورونا ختم ہونے تک ترقیاتی فنڈ بند۔کمال اس وژن میں یہ ہے کہ دونوں میں جو شرط ہے وہ ہی مسئلے کا حل ہے۔اب مسئلہ کشمیر کے حل ہونے تک کشمیری اور خریدار دونوں ہی’’حل‘‘ہوچکے ہوں گے پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھی۔اور کورونا ختم ہونے پر ترقیاتی فنڈ؟کس لیے؟۔ایک مرتبہ پھر وہی کہانی یاد آرہی ہے کہ ایک ہیرو نے بدمعاشوں کے ایک پورے گینگ کو ختم کر دیا۔ صرف ایک آدمی بچا تھا جو اس فائرنگ میں ایک کرسی کے پیچھے دبکا کانپ رہا تھا۔

گینگ کو ختم کرنے والے ہیرو نے اس سے کہا ڈرو مت میں تجھے نہیں ماروں گا اس کرسی پر بیٹھ۔اور راج کر۔کانپتے ہوئے آخری غنڈے نے کہا راج کروں؟مگرکس پر؟ کارخانومارکیٹ کے اس دکاندار کوبھی اچھی طرح معلوم تھا کہ سترسال تو خیریت سے گزرگئے باقی سات پیڑیاں بھی گزر جائیں گی لیکن قرض لینے کوئی نہیں آئے گا۔اور ’’وژن‘‘کوبھی پتہ ہے کہ کوروناسے کوئی بچے گا تو ترقیاتی فنڈز مانگے گا۔اس سے پہلے

اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا۔اس لیے سارے فنڈ ’’وژن‘‘ کے قربان۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔