عجائب خانوں کی عجیب دنیا

ڈاکٹر سید محمد عظیم شاہ بخاری  اتوار 12 جولائ 2020
ملک کے لوک فنون اور دست کاریوںکے نمونے اپنے دامن میں سمیٹے لوک ورثہ میوزیم ۔  فوٹو : فائل

ملک کے لوک فنون اور دست کاریوںکے نمونے اپنے دامن میں سمیٹے لوک ورثہ میوزیم ۔ فوٹو : فائل

(قسط نمبر5 )

41۔ التت قلعہ میوزیم؛

ہنزہ کی شاہانہ وجاہت کا عکاس ”التِت فورٹ”، دریائے ہُنزہ کے کنارے بالائی کریم آباد میں واقع ہے۔ التِت قلعے کو ”میر آف ہنزہ” نے ہمسایہ ریاست نگر کے ”میر” پر اپنی طاقت اور عظمت کی دھاک بٹھانے کے لیے تعمیر کروایا تھا۔ اور تقریباً 11 ویں صدی سے یہ اسی طرح ”قراقرم” کے پہاڑوں پہ شان و شوکت سے براجمان ہے۔

اس قلعے کی ایک اہم بات یہ ہے کہ اس نے نہ صرف کئی بیرونی حملوں کا مقابلہ کیا بلکہ یہ زلزلوں میں بھی اپنی جگہ سے ایک انچ نہ سرکا۔ التت قلعہ اور خاص طور پر قلعے کا ”شکاری ٹاور” تقریبا 900 سال پرانی جگہیں ہیں، یوں یہ گلگت بلتستان میں سب سے قدیم یادگار ہے۔ پاکستان کے دوسرے قلعوں کی طرح التِت فورٹ بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا لیکن حال ہی میں ”آغا خان ٹرسٹ برائے تاریخ و ثقافت” نے اسے حکومت ناروے کی مدد سے بحال کیا ہے۔

500 کی ٹکٹ لے کر اندر جائیں تو سرسبز ”شاہی باغ” آپ کا استقبال کرتا ہے جس میں نارنجی پکی ہوئی خوبانی سے جُھکے درخت اپنی بہار دکھا رہے ہیں۔ اس باغ کے ساتھ ایک خوب صورت پگڈنڈی آپ کو التت فورٹ تک لے جائے گی جس کا شکاری ٹاور دور سے ہی نظر آجاتا ہے۔ یہ دریائے ہُنزہ سے 1000 فٹ کی بلندی پر ہے جو جنگی حالات میں تمام علاقے پر نظر رکھنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ اس زمانے میں وادی ہُنزہ روس اور چین کی طرف سے حملوں کے خطرے میں گھری رہتی تھی۔ اس کے ساتھ ہی بنی ایک جگہ سے قیدیوں اور باغیوں کو نیچے دریائے ہُنزہ میں سزا کے طور پر پھینکا جاتا تھا جہاں سے ان کی لاش بھی نہ ملتی تھی۔

التت قلعے کی تعمیر کے تقریباً 400 سال بعد ہُنزہ کے شاہی خاندان میں پھوٹ پڑ گئی اور پرنس شاہ عباس اور پرنس علی خان نے ایک دوسرے پر حملے کیے اور ہمارے گائیڈ کے مطابق پرنس عباس نے علی خان کو ایک ستون کے اندر زندہ چُنوا دیا جو آج بھی ٹاور کے اندر ہے۔ اس کے علاوہ یہاں مختلف کمروں میں شاہی خاندان کے قدیم برتن اور بکس رکھے گئے ہیں۔ لکڑی کے چھوٹے دروازوں، سیڑھیوں اور کھڑکیوں پر خوب صورت کشیدہ کاری کی گئی ہے جس کے ڈیزائن دیکھ کر میں مبہوت رہ گیا۔ پرانے زمانے کے نقش و نگار تو نئے زمانے کو بھی پیچھے چھوڑ گئے۔

قلعے کا مرکزی ہال بیک وقت عبادت، کھانا پکانے اور مختلف مجالس کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ یہاں ایک صدیوں پرانا کھانا پکانے کا برتن اور لکڑی کا پرانا بکس رکھا ہے جس پر ”سوااستیکا” کے کئی نشان بنے ہیں۔ گائیڈ کے مطابق سوااستیکا کا نشان آریائی زمانے میں چار بنیادی عناصر ہوا، آگ، پانی اور مٹی کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ اسی سوااستیکا کو ہٹلر نے اپنا نشان بنایا اور جرمنی کی فوج کو بھی بازوبند بنا کر پہنا دیا۔ یہ بکس آٹا رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

اس کے بعد کچھ شاہی کمرے دکھائے گئے جہاں پرنس اور شاہی خاندان کے دیگر افراد رہتے تھے۔ انہی کمروں کی کھڑکیوں سے نیلے رنگ کے دریائے ہُنزہ کا شان دار نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک ناگن سی بل کھاتی کالی لکیر بھی ہے جو شاہراہِ قراقرم ہے۔ اس سے آگے شاہی مہمان خانوں کے سامنے ایک خوب صورت گیلری سے ہُنزہ گاؤں کا خوب صورت نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ ساتھ ساتھ بنے چھوٹے چھوٹے گھر، ان میں سے اُٹھتا دھواں اور پسِ منظر میں برف پوش پہاڑ، التت قلعے کو ایسے ہی نہیں ہُنزہ کی شان کہتے۔ اب قلعے کے اندر شاہی مہمان خانوں کو ایک چھوٹے سے میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا ہے جس میں شاہی خاندان اور ہُنزہ سے متعلق نادر تصاویر رکھی گئی ہیں۔

اوپر چھت پر شکاری ٹاور، لکڑی کی ایک کھڑکی اور ایک چھوٹا کمرہ بنا ہوا ہے جس کے چھوٹے سے دروازے پر لکڑی کا خوب صورت کام کیا گیا ہے۔ قلعے کے باہر سبز پانی کا خوب صورت تالاب، ہینڈی کرافٹ شاپس، کیفے اور خوب صورت گھر بنے ہیں جن کے سامنے بیٹھے ہُنزہ کے آرٹسٹ رباب پر قسم قسم کی دھنیں بجا کر سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔

جاپان نے یہاں پرانے گاؤں اور اردگرد کی ترقی اور تزئین و آرائش میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ التت قلعہ 2007 سے عوام کے لیے کھلا ہے۔

42۔ بلتت قلعہ میوزیم؛

اب رُخ کرتے ہیں بلتِت فورٹ کا۔ یونیسکو کی عارضی ثقافتی ورثہ کی لسٹ میں شامل بلتِت کا قلعہ، پریوں کی کہانیوں میں موجود کسی خوب صورت پری کا گھر لگتا ہے۔ پہاڑ کے اوپر واقع یہ قلعہ کوئی 650 سال پہلے تب بنایا گیا جب ہُنزہ کے شاہی خاندان میں پھوٹ پڑی اور پھر پایہ تخت التِت سے بلتِت قلعے میں منتقل ہو گیا جسے وقت کے ساتھ ساتھ مرمت کیا گیا۔ 16 ویں صدی میں جب یہاں کے شہزادے نے بلتستان کی شہزادی سے شادی کی تو وہ بلتی ہنرمندوں اور کاری گروں کو اپنے ہمراہ لائی تاکہ وہ اس قلعے کی تزئین و آرائش کر سکیں اور اس قلعے کی موجودہ شکل تب کے بلتی کاری گروں کی ہی عنایت شدہ ہے۔

1945 میں میرِہنزہ نے اس قلعے کو چھوڑ کر پہاڑ سے نیچے ایک اور قلعہ نما گھر بنایا اور وہاں منتقل ہو گئے جس کے بعد یہ قلعہ ایک ویران اور دہشت زدہ جگہ کا روپ دھار گیا۔ لوگوں نے یہاں کا رُخ کرنا چھوڑ دیا اور قلعے سے قیمتی سامان چوری ہونا شروع ہو گیا جو آج تک نہیں مل سکا۔ رفتہ رفتہ اِس قلعے کی حالت خراب ہونا شروع ہو گئی اور اس کے منہدم ہونے کے خدشات بڑھ گئے۔ ہماری بے پرواہی نے اسے یونیسکو کی ”خطرے میں موجود عمارتوں” کی فہرست میں لا کھڑا کیا۔ پھر اس علاقے کی ثقافت کے لیے شہہ رگ کی سی حیثیت رکھنے والا آغا خان ٹرسٹ اور لندن کی ”رائل جیوگرافیکل سوسائٹی” کے اشتراک سے اس کی مرمت کا کام شروع کیا گیا جو 1996 میں ختم ہوا اور اس قلعے کو ایک عجائب گھر کی شکل دے دی گئی جسے بلتت ٹرسٹ چلا رہا ہے۔

بلتت کا قلعہ بھی کچھ کچھ التت قلعہ سے مماثلت رکھتا ہے۔ اس کے دروازے کھڑکیاں اچھوتے اور خوب صورت ڈیزائنوں سے مزین ہیں۔ سیڑھیوں سے اوپر جائیں تو ایک ہال ہے جس میں سیڑھیوں سمیت تین کمروں کے دروازے کھلتے ہیں۔ ایک کمرے میں برتن اور خوب صورت لال قالین رکھا گیا ہے، جب کہ دوسرا کچن ہے جہاں ہر قسم کے برتن اور ایک انوکھی چیز رکھی ہے جو سمجھ نہیں آتی، غور کرنے پر پتا چلا کہ یہ ”چوہے دانی” ہے۔ پہاڑی بکروں کی کھال اور پرندوں کے پر بھی رکھے گئے ہیں۔ غرض یہ وادی ہُنزہ کی ثقافت کا بھر پور عکاس ہے۔

43۔ آرمی میوزیم ، لاہور

لاہور کینٹ میں واقع یہ میوزیم پاک فوج کا دوسرا اور جدید میوزیم ہے ( پہلا راولپنڈی میں واقع ہے) جسے اگر افواجِ پاکستان کی آن، بان اور شان کہا جائے تو یہ بے جا نہ ہو گا۔ کیونکہ اس میوزیم میں پاک فوج سے متعلق ہر اس چیز اور واقعے کو محفوظ کیا گیا ہے جو آپ کے لیے جاننا ضروری ہے۔ اس عجائب گھر کا سنگِ بنیاد اگست 2017 میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے رکھا تھا۔ یہ میوزیم اندرونی اور بیرونی حصے میں منقسم ہے۔ اندرونی حصے میں مختلف گیلریاں جب کہ بیرونی حصے میں ہیلی کاپٹر، اور ٹینک وغیرہ نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں۔

داخلی دروازے سے اندر جائیں تو چار بھارتی ٹینک سب سے پہلے آپ کی توجہ کھینچتے ہیں۔ ان میں سے تین خطے میں لڑی گئی ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ ”چونڈہ” کے دوران قبضے میں لیے گئے تھے جب کہ بقیہ ایک اکہتر کی جنگ میں دشمن سے چھینا گیا تھا۔ ان کے سامنے ان کی تاریخ بھی درج کی گئی ہے۔

اندرونی حصے میں سب سے پہلے پتھر کے وہ کتبے لگے ہیں جن پر 1947 سے لے کر اب تک پاک فوج کے شہداء کے نام لکھے گئے ہیں جنہوں نے مختلف جنگوں اور دہشت گردی کے خلاف افواج پاکستان کی کارروائیوں میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ اس کے بعد ایک بڑے نقشے کی مدد سے پاکستان آرمی کے بنیادی ڈھانچے کی معلومات دی گئی ہیں جس کے سامنے 1947 سے لے کر اب تک کے تمام آرمی چیفس کے مجسمے اور ان کی تفصیل ترتیب سے رکھی گئی ہیں۔

اس سے آگے آپ ایک بڑے ہال میں داخل ہوں گے جس سے مختلف گیلریاں نکل رہی ہیں۔ اس ہال میں قدآور جنگی ہاتھیوں اور گھوڑوں کے مجسمے ان کے سواروں سمیت لڑتے ہوئے دکھائے گئے ہیں جس کے ساتھ ان پرانی جنگی تکنیکوں کی تفصیل بھی موجود ہے۔ اس سے آگے 1947 میں بابائے قوم کو پاکستان کی پہلی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور ساتھ ہی تحریکِ پاکستان کے دیگر راہ نماؤں کی تصاویر ان کے نام اور اہم کارناموں سمیت دیکھی جا سکتی ہیں۔ آگے کی گیلری بھارتی چالبازیوں، اکہتر کی جنگ اور بنگلادیش کے قیام کا احاطہ کرتی ہے جس میں اس زمانے کے اخباری تراشوں، نقشوں، مکتی باہنی کے کیمپوں کی تفصیل اور جنگی جہازوں کے پرزے نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہجرت کی وہ دل دوز تصویر ہے جسے دیکھ کر کوئی بھی حساس دل تڑپ اٹھے۔ یہ بھارت سے ہجرت کرنے والے مسافروں کی جلتی ہوئی ٹرین ہے جس پر لوگ اپنا بچا کھچا اسباب لادے سوار ہیں۔

سائیڈ کی گیلریوں میں پرانے اور روایتی ہتھیار اور پاک فوج کے غیرمسلم فوجیوں کی تصاویر آویزاں ہیں۔

اس میوزیم کی سب سے منفرد اور نئی چیز وہ آڑھی ترچھی گیلری ہے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں اور کاوشوں کی ایمان افروز اور خونچکاں داستان سناتی ہے۔ یہاں پاکستان میں کیے گئے تمام آپریشنز کی تصاویر، علاقوں کے تفصیلی نقشوں کی مدد سے آویزاں کی گئی ہے۔ سانحہ آرمی پبلک اسکول کو بھی ایک درد ناک منظر کے ذریعے پیش کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک خوب صورت گیلری نشان حیدر پانے والے تمام فوجیوں، ایک 1965 کی پاک بھارت جنگ اور عوام کے جذبے جب کہ ایک دنیا کے سب سے اونچے محاذ، سیاچن کے لیے مختص کی گئی ہے۔ ایک گیلری میں بڑے خوب صورت طریقے سے اقوامِ متحدہ کے تحت دنیا بھر میں موجود پاک فوج کے دستوں کے بارے میں ضروری معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

میوزیم کے کیفے ٹیریا سے باہر نکلیں تو ایک وسیع میدان میں مختلف ہوائی جہاز اور ٹینک ڈسپلے پر رکھے گئے ہیں۔اسلامی جمہوریہ پاکستان اور افواجِ پاکستان سے محبت رکھنے والے ہر پاکستانی کو یہ میوزیم لازمی دیکھنا چاہیے۔

 44۔ آرمی میوزیم راولپنڈی؛

1961 میں قائم شدہ یہ عجائب گھر افواجِ پاکستان کے درخشاں ماضی کو محفوظ رکھنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ راولپنڈی کینٹ میں واقع یہ عجائب گھر پاک فوج سے متعلق تمام اہم نوادرات اور اسلحہ محفوظ کیے ہوئے ہے۔

یہاں قدیم زمانے کے اسلحے اور وردیوں سے لے کر جنگوں میں بچ جانے والے ٹینک تک نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں۔ پاکستان آرمی کے ارتقاء کی تفصیلی تاریخ میوزیم کی نئی عمارت میں نمائش کے لیے موجود ہے۔

دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ اور اس میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے کردار اور قبائلی علاقوں میں پاک فوج کے آپریشنز پر ایک تفصیلی گیلری کا اضافہ بھی کیا گیا ہے۔

45۔ لوک ورثہ میوزیم

اس میوزیم کے بارے میں یہ کہہ دینا کافی ہو گا کہ یہ ایک بین الاقوامی سطح کا میوزیم ہے جہاں پاکستان کے علاوہ ایران، ترکی، وسط ایشیائی ریاستوں اور سعودی عرب جیسے ممالک کی ثقافت اور تاریخ کو بھی نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔

اسلام آباد کے قلب میں واقع یہ عجائب گھر پاکستان اور پاکستانی عوام کی قدیم اور زندہ روایات کا امین ہے۔ براعظم ایشیا کے اہم راستوں کے سنگم پر واقع یہ میوزیم ثقافتی روابط، رہن سہن، فنون لطیفہ اور علم الانسان کے حوالے سے پاکستان کی وسیع و عریض اجتماعی ثقافت کا آئینہ دار ہے۔

یہ میوزیم پاکستان کی تاریخی روایات کی ازسرنو دریافت اور جدید دور میں آثار اور تاریخ کے تسلسل کا عکاس ہے۔ اس میوزیم کے لیے نوادرات جمع کرنے کا سلسلہ 1974ء میں شروع کیا گیا تھا۔ تاہم پاکستانی عوام کی صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے اس کا باقاعدہ افتتاح 2004ء میں کیا گیا۔ یہ میوزیم معروف عوامی روایات، علم الانسان کے حوالے سے لوک فنون اور دست کاریوں کے نادر نمونوں کا مجموعہ ہے۔ ان نوادرات کو ہوبہو اسی اس طرح پیش کیا گیا ہے جس صورت میں وہ ہمیں ورثے میں ملے تھے۔

اس میوزیم کو لوک قومی ادارہ کے روایتی ورثے کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ یہ عجائب گھر جو تاریخی، آرٹ اور ثقافت سے تعلق رکھتا ہے۔ شکر پڑیاں کی پہاڑیوں اسلام آباد میں واقع ہے۔ عجائب گھر 1974 میں کھولا گیااور 2002 میں قانونی آرڈیننس کے تحت لوک ورثہ ایک خودمختار ادارہ بن گیا۔ یہ میوزیم ایک پارک کے اندر واقع ہے۔ کھلے علاقے میں ایک تھیٹر اور لوک ورثے سے متعلق چیزیں رکھی ہوئی ہیں۔ ثقافتی اشیا سے متعلق کچھ دکانیں ہیں لیکن اصل میوزیم ایک بہت بڑی عمارت کے اندر واقع ہے۔ جس کے اندر مختلف کمروں میں پاکستان کے مختلف علاقوں کے بارے میں چیزیں رکھی ہوئی ہیں۔

ِ پاکستان کے مختلف علاقوں کا طرززندگی یہاں مجسموں، تصاویر، شاعری، موسیقی اور ٹیکسٹائل کے کام کے ذریعے پیش کی گئی ہے۔ یہاں کڑھائی شدہ کپڑے، زیورات، لکڑی کا کام، دھات کا کام، بلاک پرنٹنگ، ہاتھی دانت اور ہڈی کے کام کی ایک وسیع ورائٹی موجود ہے۔ روایتی فن تعمیر، شیشے کا کام، سنگ مرمر، ٹائل، پچی کاری اور فریسکو آرٹ کے نادر نمونے بھی میوزیم میں رکھے گئے ہیں۔

یہاں کے صوفی ہال میں صوفیاء کرام جیسے لعل شہباز قلندرؒ، شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ، سچل سرمستؒ کا کلام پیش کرتے گلوکاروں کی تصاویر موجود ہیں۔ اس کے علاوہ داتا گنج بخشؒؒ، شاہ رکن عالمؒ اور بہاؤ الدین زکریا ملتانیؒ کے مزارات کی تصاویر بھی ہیں۔

اس میوزیم کی سب سے منفرد بات یہ ہے کہ یہاں ایران، ترکی، سعودیہ اور وسط ایشیائی ریاستوں ( ازبکستان، قازقستان، تاجکستان، آزربائیجان، کرغیزستان) کے الگ ہال بنائے گئے ہیں جہاں ان ممالک کی ثقافت کو نمائش کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

لوک ورثے میں میوزیم کی دیواروں کو پلستر اس انداز میں کیا گیا ہے کہ جیسے دیہاتی گھروں میں مٹی میں توڑی ملا کر کمروں اور دیواروں کی لپائی کی جاتی ہے۔ لوک ورثے میں سمعی اور بصری لائبریری بھی ہے، جس میں پاکستان کے مختلف علاقوں کی آوازوں کو محفوظ کر لیا گیا ہے۔ ثقافت پر کتابیں اور موسیقی خریدی بھی جا سکتی ہے۔

 46۔ فلیگ اسٹاف ہاؤس میوزیم کراچی؛

قائداعظم ہاؤس جو فلیگ سٹاف ہاؤس بھی کہلاتا ہے، پاکستان کے بانی، قائد اعظم محمد علی جناح کی شخصیت کے جدید پاکستان پر مرتب ہونے والے مثبت اثرات کی یادگار کے طور پر تعمیر کیا جانے والا میوزیم ہے۔ کراچی میں فاطمہ جناح روڈ پہ واقع اس عمارت کو برطانوی ماہر تعمیرات، موسیس سوماک نے تعمیر کیا تھا۔

یہ عمارت محمد علی جناح کی سابقہ رہائش گاہ ہے، جو یہاں 1944ء سے اپنی وفات یعنی 1948ء تک رہائش پذیر رہے۔ ان کی ہمشیرہ فاطمہ جناح یہاں 1964ء تک رہائش پذیر رہیں۔ یہ عمارت حکومت پاکستان نے 1985ء میں اپنی تحویل میں لے لی اور اس عمارت کو بطور میوزیم محفوظ کریا گیا۔

سبز و سرمئی رنگ کے حسین امتزاج والی اس عمارت کے اندر بابائے قوم کے زیراستعمال اشیاء، کاروں، ملبوسات اور فرنیچر کی نمائش کی گئی ہے۔

 47۔ شاکر علی میوزیم لاہور؛

لاہور شہر میں واقع یہ چھوٹا سا نجی عجائب گھر آرٹسٹ شاکرعلی صاحب کے گھر میں واقع ہے۔ شاکر علی نہ صرف ایک پینٹر بلکہ آرٹ کے استاد اور نیشنل کالج آف آرٹس کے پرنسپل بھی تھے۔ بنیادی طور پر تو اس میوزیم کا افتتاح ان کی وفات کے بعد 1975 میں کیا گیا لیکن اس کی عمارت خود ان کی اپنی بنائی گئی تھی۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ اس عمارت میں استعمال کی گئی اینٹیں جلی ہوئی تھیں، وہ جو بھٹے کے بالکل بیچ میں پکائی جاتی ہیں۔ ہر ایک اینٹ اور دروازہ انہوں نے خود پسند کرکے لگوایا تھا تبھی اس عمارت کو بنانے میں دس سال لگ گئے۔

جیسے ہی آپ اس گھر میں داخل ہوتے ہیں آپ کی نظر سب سے پہلے ہال میں لگی بلیک اینڈ وائٹ تصاویر پر پڑتی ہے جو شاکر علی صاحب اور دیگر اہم ہستیوں کی ہیں۔ یہیں ایک طرف ان کی ڈگریاں اور سندیں بھی لگائی گئی ہیں۔ دوسری سمت گھر کے مختلف کمروں (جنہیں میوزیم کی شکل دی گئی ہے) میں شاکر علی صاحب اور ان کے شاگردوں کی تصاویر، ان کے اکٹھے کیے گئے نوادرات اور خریدی گئی نایاب اشیاء نمائش کے لیے رکھی گئی ہیں۔ ایک گیلری میں شاکر علی کے علاوہ پاکستان کے دیگر مشہور آرٹسٹ حضرات کا کام رکھا گیا ہے۔

تہہ خانے مین ایک ریسرچ لائبریری بھی بنائی گئی ہے جہاں آرٹ کی کتابوں کا ذخیرہ موجود ہے۔ ان میں 3737 کتابیں، جرائد اور پورٹ فولیوز شامل ہیں۔ یہ گھر نہ صرف ایک میوزیم بلکہ آرٹ سینٹر بھی ہے جہاں نمائشیں، موسیقی کے پروگرام، مختلف سیمینار اور اداکاری کی کلاسیں بھی لگائی جاتی ہیں۔ لاہور کے گارڈن ٹاؤن میں موجود یہ شان دار میوزیم پاکستان بھر سے فنونِ لطیفہ سے محبت رکھنے والوں کو اپنی جانب کھینچتا ہے۔

 48۔ کے – ٹو میوزیم ؛

1954 میں جب پہلی بار ایک اطالوی ٹیم نے کام یابی سے کے ٹو سر کیا تو اس کی پچاسویں سال گرہ کی یاد میں پاکستان ٹورزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن موٹیل اسکردو کے لان میں اپنی طرز کا ایک منفرد میوزیم قائم کیا گیا۔ یہ میوزیم ایک خیمے میں بنایا گیا ہے۔ اطالوی کوہ پیما ٹیم (جس کے سربراہ آگسٹو پولینزا تھے) نے یہ بڑا خیمہ کے ٹو بیس کیمپ پر لگایا تھا جو مہم کی کام یابی کے بعد یہاں لا کر گاڑ دیا گیا اور اسے ایک میوزیم کی شکل دے دی گئی۔

اس میوزیم میں ڈاکیومینٹریز، نقشہ جات، تاریخی و جغرافیائی معلومات، کے-ٹو ریجن سے متعلق ثقافتی اشیاء اور مہم جوئی سے متعلق تصاویر رکھی گئی ہیں۔ اب یہاں ہر سال اطالوی کوہ پیماؤں کی تصویری نمائش منعقد کی جاتی ہے۔

(جاری ہے)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔