سائن لینگوئج ایکسپرٹ کا اُردو ترجمہ؟

سہیل احمد صدیقی  اتوار 12 جولائ 2020
ہمارے تمام چینلزانگریزی لفظ ریزرویشن کابھونڈا ترجمہ’’تحفظات‘‘ دہرادُہراکر ہمارے دل دماغ پرگویا ہتھوڑے برساتے رہتے ہیں۔ فوٹو : فائل

ہمارے تمام چینلزانگریزی لفظ ریزرویشن کابھونڈا ترجمہ’’تحفظات‘‘ دہرادُہراکر ہمارے دل دماغ پرگویا ہتھوڑے برساتے رہتے ہیں۔ فوٹو : فائل

 زباں فہمی نمبر 57

کوئی دو برس پرانی بات ہے کہ ہم اپنے معمولات کے ساتھ ساتھ، پاکستان اور ہندوستان کے مابین ہونے والے کرکٹ میچ سے، جُرعہ جُرعہ لطف اندوز ہونے کی کوشش کررہے تھے۔ کوشش کا لفظ یوں استعمال کیا کہ ہمارے عظیم ہیرو، تقریباً ہمیشہ کی طرح، اپنے ’ازلی دشمن‘ کے سامنے وہی کررہے تھے جو ماقبل بھی کرتے رہے ہیں، ماسوائے چند ایک مستثنیات کے۔ سوچ رہا تھا کہ، حسب ِ سابق، ماضی قریب کی طرح ، بہ زبان فرنگی ۔یا۔بہ زبان دیسی، کرکٹ پر جداگانہ کالم لکھوں، مگر بس مُوڈ نہیں ہوا (آسان اردومیں: جی نہیں چاہا)…..جیسے اُس موقع پر ہمارے کھلاڑیوں کا نہیں تھا۔

سو، ہوا یوں کہ جب میچ قریب قریب ختم ہونے کو تھا تو اِس خاکسار نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پرلکھا اور کپتان (ہائے بے چارہ، اب تو سابق) سرفراز احمد سمیت چُنیِدہ شخصیات کو ارسال کیا: ’’آج کے میچ میں سب سے اچھی کارکردگی، محترمہ حنا نور کی رہی، جو اشاروں کی زبان کی ماہر ہیں۔‘‘ کیا مہارت سے ایک نجی ٹی وی چینل پر اپنے فرائض انجام دے رہی تھیں۔

انھیں اس چینل نے Sign-language Expert لکھا، کیوںکہ بے چارے ’’فادری‘‘ زبان تو جانتے ہی ہیں، مگر اپنی ماں کی سیدھی سادی زبان میں اس کا ترجمہ نہیں کرسکے………..میرے خیال میں اِس کا سیدھا سا اردو ترجمہ ہے: ’’ماہرِاشارتی زبان‘‘…..کیا کہتے ہیں ماہرین لِسان؟ دنوں کی بات ہے کہ اُسی نجی ٹی وی چینل نے ایک سرکاری خبر میں لفظ استعمال کیا Summary۔ یوں تو دفتری زبان میں یہ اصطلاح عام مروَج ہے، مگر اس کا ترجمہ بھی کچھ ایسا مشکل یا متروک نہیں۔ اسی طرح دیگر اغلاط کی بات کی جائے تو تمام مقامی ٹی وی چینلز افریقہ میں واقع ایک مسلم ملک کا نام ہمیشہ غلط لیتے ہیں: تیونس، حالاںکہ درست ہے: تُو۔نِس۔ ویسے مثالیں اور بھی ہیں۔ لُبنان کو ہمیشہ لَبنان کہا جاتا ہے کیوںکہ اصل نام (عربی) کی بجائے اسے انگریزی نام Lebanan کا ترجمہ سمجھا جاتا ہے۔

ایک اور نجی چینل پر خبرخواں خاتون نے اردو کی لغات میں یوں اضافہ کیا کہ ہمارے مشہور دریا کا نام بدل کر ’’دریائے سُت۔لَج (یعنی سین پر پیش اور لام پر زبر)، جبکہ مرد نے درست پڑھا: سَت۔لَج۔ اسی پر بس نہیں، اگلے دن ایک دوسرے چینل پر ایک مرد خبرخواں نے وہی غلط تلفظ دُہرایا۔ اب تو راقم سوچ میں پڑگیا…..الٰہی یہ کیا ماجرا ہے۔

کیا زبان میں تبدیلی آگئی ہے (تبدیلی آئی رے…) یا اردو کے علاوہ کسی مقامی زبان میں یہ تلفظ رائج ہے………..خامہ فرسائی سے قبل، اپنے نجی کتب خانے میں موجود لغات کھنگالیں اور پھر وِکی پیڈیا، تو معلوم ہوا کہ اس لفظ کے چار تلفظ رائج ہیں: سنسکِرِت میں سَت درم، ہندی میں سَت لَج، پنجابی اور اردو میں سَت لَج، کسی نامعلوم زبان میں سَت دری (ویسے اردو میں سہواً سَت لُج بھی کہا جاتا ہے)، جبکہ انگریزی میں دو طرح سے ہجے کیے جاتے ہیں: Satlujاور Sutlej۔ مزید تحقیق کے لیے اپنے بزرگ دوست، پنجابی اور اردو کے صاحب ِدیوان شاعر محترم قاضی اعجاز محورؔ (مقیم گوجرانوالہ) سے رابطہ کیا تو انھوں نے بھی اِس ہیچ مَدآں کی معلومات کی تصدیق کی۔ اب سوال یہ ہے کہ ’’کیونکہ جی جانتا ہے‘‘ اور ’’خبر کی دنیا‘‘ کا نعرہ لگانے والے نجی ٹی وی چینلز کے خبرخواں یہ تلفظ کہاں سے لائے؟ سلسلہ دراز ہوا تو ’’جی جان‘‘ والے ٹی وی چینل نے یہ گُل بھی خبروں میں کھِلائے: غلط فہمی کو غلطی فہمی، لاحِق کو لاحَق (جو بہت عام ہے)………..اور پھر نامور فٹ بالر محمد صَلاح کا نام تبدیل کرکے صالح۔ اسی چینل کی ایک خاتون خبررَساں نے ’’سردمُہری‘‘ کو ’’سردمِہری‘‘ کردیا۔

اسی نیوز ٹی وی چینل پر ایک پروگرام کے اختتام سے قبل، میزبان خاتون نے Next ہفتے ملنے کا وعدہ کیا۔ اور تو اور ابھی ان کی تعریف میں یہ کالم تحریر ہو ہی رہا تھا کہ انھی کی ایک خاتون خبر خواں نے لفظ ’’مُرَوّجہ‘‘ کو ’’مُر۔وَج۔جہ‘‘ بناڈالا۔ اس چینل سمیت تقریباً تمام چینلز لفظ لائحہ عمل کو مسلسل ’’لا۔حے۔عمل‘‘ کہہ رہے ہیں۔ ایک نجی چینل کے خبر خواں نے مضحکہ خیز کو ’’مضحیکہ خیز‘‘ بنادیا۔ انھوں نے خبروں میں کہیں صدرمملکت کے بیان کا ترجمہ پڑھتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ …….لوگ رَدِعمل دیتے ہیں……حالانکہ ردعمل ظاہر کیا جاتا ہے۔

وزیراعظم کے بیان کے ترجمے میں کہا گیا :…….ممکن بنایا جائے گا۔ درست ہے: ممکن کیا جائے گا (خیر یہ تو بہت عام ہے )۔ ہمارے تمام چینلز انگریزی لفظ Reservations کا بھونڈا ترجمہ ’’تحفظات‘‘ دُہرادُہراکر ہمارے دل دماغ پر گویا ہتھوڑے برساتے رہتے ہیں اور ایک اُنھی پر کیا موقوف، ہمارے سیاست داں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے متعلق لوگ بھی یہی کہتے دکھائی اور سنائی دیتے ہیں۔

اب کوئی ان سے یہ پوچھے کہ بندہ خدا! اس لفظ یا اصطلاح کا واحد کیا ہے، تحفظہ ۔یا۔تحفظا؟ ایک بار پہلے بھی خاکسار نے اپنے کالم میں تحریر کیا تھا کہ استعمال کے فرق سے اس کا ترجمہ کبھی ’اعتراضات‘ درست ہوگا تو کبھی ’خدشات‘ (بہ اعتبار مفہوم)۔ ایک دن ہمارے وزیرخارجہ نے خلاف ِ عادت، واشنگٹن (امریکا) میں انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں کچھ اعتراضات ہیں……..مگر ’’جی جان ‘‘ والے چینل نے اپنی خبروں میں (اپنے تئیں درست کرتے ہوئے) ایک بار پھر تحفظات کردیا۔

یوں تو ہمارے وزیراعظم کا اردو سے لگاؤ یقیناً قابل ِتحسین اور لائق تقلید ہے، مگر اُن کے ٹوئٹر بیانات کے اردو ترجمے اکثر اغلاط سے پُر ہوتے ہیں، جیسے ایک مرتبہ ’بصیرت‘ کی جگہ ’’بصارت‘‘ کردیا گیا تھا۔ ایک بڑے نجی ٹی وی چینل نے ثالث کے لیے ایک نیا لفظ ایجاد کیا اور پھر سب اسی کی نقل (بِلا عقل) کرنے لگے…….لفظ تھا: مفاہمت کار…….ظاہر ہے کہ جدید انگریزی اصطلاح کا چالو ترجمہ کردیا گیا جو درست نہیں۔ اسی چینل کے ایک خبررَساں، تھَرجیسے دورافتادہ علاقے سے اکثر بہت اہم اور معلوماتی خبریں اور رُوداد پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

وہ مجھے اس لیے بھی اچھے لگتے ہیں کہ بہت سے اہل زبان کے برعکس، اچھی اردو بولتے ہیں، مگر ایک مرتبہ روانی میں اُن سے یہ سہو ہوا کہ ’’میلہ لُوٹنے ‘‘ کی بجائے ’’میلہ مارلیا‘‘ کہہ گئے (شاید میدان مارلیا کہنا چاہتے تھے)۔ لطف کی بات یہ ہے کہ یہ نجی چینل لفظ ’میلہ ‘ کو اپنے تئیں جدت طرازی میں ’میلا‘ لکھتا ہے۔ ایک اور بڑے چینل کی ایک خبر میں کہا گیا: ’’ملزم موجیں لُوٹ رہا ہے‘‘… ہاہاہا….شاید وہ کہنا چاہتے ہوں کہ موج مستی کررہا ہے ۔یا۔موج کررہا ہے۔

اسی چینل پر ایک خاتون نے پس پردہ خبر کی تفصیل بتاتے ہوئے امریکی ریاست IOWAکو ’’لو۔وا‘‘ کہہ دیا۔ ویسے یاد آیا کہ ثالث کے لیے ایک اصطلاح ’مصالحت کار‘ بھی ایجاد کی گئی ہے۔ اب اتنا وقت کس کے پاس ہے کہ انگریزی اردو لغت دیکھ لے کہ بھائی Mediatorکو کیا کہا جاتا ہے۔ ایک چینل کے ٹائپسٹ نے جلدی میں خبر ٹائپ کرتے ہوئے ’’سات اکتوبر‘‘ کو 7۔ اکبوتر کردیا……شاید بے چارے کے ذہن میں کبوتر ہوگا۔ ایک نسبتاً نئے ٹی وی چینل نے معذور افراد کے متعلق ایک خبر میں حسب ِروایت ’’خصوصی افراد‘‘ تو کہا ہی (جو مُہمِل اور ناموزوں ہے)، ساتھ ہی ایک محترمہ سے تأثرات معلوم کیے تو انھوں نے فرمایا کہ ’’ایسے افراد کو Communication میں مشکل ہوتی ہے۔

سیدھے سبھاؤ یہ کیوں نہیں کہہ سکتیں کہ انھیں گفتگو میں دِقّت ہوتی ہے یا مشکل ہوتی ہے؟؟ ایک زمانے سے ہمارے تمام ٹی وی چینلز موسمی تبدیلیوں کو ’’موسمیاتی تبدیلیاں‘‘ کہہ رہے ہیں جیسے محکمہ موسمیات میں کوئی تبدیلی ہوگئی ہو۔ بالکل اسی طرح جیسے پہلے ایک کالم میں نشان دہی کی تھی کہ ’’ماحولیاتی‘‘ تبدیلی نہیں ’ماحولی تبدیلی‘ ہوتی ہے کیوںکہ اول الذکر کا مطلب ہوا: ماحولیات کے شعبے یا مضمون میں تبدیلی۔ ایک چینل کے خبرخواں نے لفظ ’’مُبَیّنہ‘‘ کو ’’مُبی۔نا‘‘ بنادیا …..اس سے قبل ہمارے ایک کالم میں ذکر ہوا تھا کہ ہمارے ایک خوردمعاصر، شاعر نے ایک بڑے نجی چینل پر خبریں پڑھتے ہوئے ’’مُبینہ ٹاؤن‘‘ تھانے کو ’’مُبَیّنہ‘‘ ٹاؤن تھانہ (ایک سے زائد بار) کہا جو اگلے دن تک مکرر چلتا رہا اور لطف دیتا رہا، کیونکہ یہ خاکسار بھی اسی تھانے کا نام بطور استہزاء ’’مُبَیّنہ ٹاؤن‘‘ ہی پکارا کرتا ہے۔

ویسے خاکسار نے زبان میں جو ’’بِدعات‘‘ کی ہیں اُن میں شامل دو مثالیں پیش خدمت ہیں: ماضی کی مختلف اقسام میں ایک نئی قسم ’ماضی پُلسیا‘ کا اضافہ ہوگیا ہے جیسے پولیس نے فُلاں مقام پر چھاپہ مارا تو وہاں چند افراد، شہر میں تباہ کاری کی نیت سے اسلحہ تیار کررہے تھے…..گئے وقتوں کی بات ہے جب بزرگ بتاتے تھے ، نیتوں کا حال تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ اب (معاذاللہ)، یہ کام پولیس نے سنبھال لیا ہے۔ ضمنی بات ہے کہ ابھی چند دن ہوئے، ہمارے علاقے کی پولیس موبائل، (وارداتوں سے بے نیاز)،’’کسی بڑی واردات کی نیت سے‘‘ مٹرگشت کررہی تھی اور انھوں نے دو آم فروش ٹھیلے والوں کو، اپنی مرضی کے مطابق، جواب نہ ملنے پر، بری طرح تشدد کا نشانہ بنا کر زبردستی موبائل میں ڈالا اور لے گئے۔

(ظاہر ہے کہ اس جرم کی پاداش میں کچھ مناسب نذرانہ لے کر ہی چھوڑا ہوگا)۔ کچھ عرصہ قبل چینی وزیرخارجہ ہمارے مشہور پہاڑی مقامات ڈونگا گلی اور ایوبیہ کی سیر کو تشریف لے گئے تو ہمارے ٹی وی چینلز نے خبر دی کہ انھوں نے اِن مقامات پر Walkکی …..بھائیو اور بہنو! مجھے یہ بتاؤ By the wayکہ اس کے لیے سیدھے سیدھے یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ چہل قدمی کی۔یا۔سیر کی؟؟ ایک اور چونکا دینے والی خبر: لاہور کے فیشن وِیک(Fashion week) میں کئی مشہور Brands نے اپنے Collection، انٹروڈیوس (Introduce)کیے……..کہیے کیسی رہیMinglish بلکہ خاکسار کے الفاظ میں Burgerish؟…… ابھی پرسوں کی بات ہے کہ ایک سی این جی اسٹیشن پر یہ عبارت لکھی دیکھی: ’’نیٹ ورک[Network] نہ ہونے پر پے منٹ [Payment] کیش [Cash] کی جائے۔‘‘ آسان اردو میں یہ لکھا جاسکتا تھا:’’اگر مشین کام نہ کرے/نیٹ ورک کام نہ کرے تو ادائی (چلیں ادائیگی کہہ لیں) نقد کریں۔‘‘ اس سے بھی بڑھ کر مزے دار عبارت قریب واقع ایک بھٹی (تنور کی جگہ روٹی پکانے والی) کے مالک نے لکھی، وہ بھی رومن رسم الخط میں:Bhatti kee Timing, Subah 9 bajay se Raat 10 tak hoga۔ جب خاکسار نے اس سے پشتو گنتی میں ’درے‘ یعنی تین کہا (اسکول کے زمانے سے پشتو میں تیس تک گنتی یاد ہے) تو اُس نے کہا،’’اَم (ہم) سے اردو میں بات کرو، یہاں اردو چلتا ہے۔‘‘ ایک ڈراما چینل پر کسی بقراط نے ایک پرانے ہندوستانی ڈرامے کی تشہیر کرتے ہوئے لکھا:’’دل چاہے نہ مَن‘‘….ہا ہاہا…یہ کونسا مَن ہے؟ ایک دوسرے ڈراما چینل پر ایک ترکی ڈراما اردو ترجمے کے ساتھ چل رہا ہے۔

مجموعی طور پر ترجمہ اچھا ہے، مگر بعض جگہ (ٹیلی وژن کی زبان میں) ایسا ’’بھَنڈ‘‘ مارتے ہیں کہ بس ، بندہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ ہنسے یا روئے۔ سابق شوہر یا پہلے شوہر کی بجائے پرانا شوہر۔ تم میری شادی کو لے کر اتنے پریشان کیوں ہو….وغیرہ ۔ ایک چینل پر چلنے والے ڈرامے کا عنوان تھا:’’میں ہار نہیں مانوں گی۔‘‘ عنوان تو یہ بھی ہوسکتے ہیں: ’’میں خودکُشی کرلوں گی‘‘، ’’میں گھر سے بھاگ جاؤں گی‘‘، ’’جانو! مجھے بھگالے‘‘، ’’منا، اب منا نہیں رہا‘‘……مگر لطف کی بات یہ نہیں، بلکہ یہ تھی کہ تین مختلف کردار، تین مختلف مناظر میں، ایک ہی تکیہ کلام استعمال کررہے تھے، ’’آپ ایک کام کیجیے‘‘۔

ایک چینل پر طویل عرصے تک چلنے والے ایک ڈرامے کا نام تھا، ’’میرے خدایا۔‘‘ خدایا کا مطلب ہے: میرے خدا، تو اِس عنوان کا مطلب ہوا: ’’میرے، میرے خدا۔‘‘ جب ہندوستان کے ہر طرح کے ڈراموں کی زبان ، کہانی اور منظر کشی کی اندھی تقلید ہوگی تو یہ کھِلواڑ تو ہوگا، زبان کے ساتھ۔ ایک ٹی وی چینل کی خبروں کی پیشکش بہت سے دیگر چینلز سے بہتر ہوتی ہے (شاید یہی وجہ ہے کہ وہ گذشتہ ایک سال سے زیرِعتاب ہے اور سرکار کے حکم پر، اسے اور ایک دوسرے چینل کر Cable سے ہٹاکر DTH Boxکی طرف موڑدیا گیا ہے۔ دروغ برگردن راوی یعنی ہمارے کیبل آپریٹر کا نمایندہ)………..مگر اُنھوں نے حیرت انگیز طور پر بہت سے دیگر چینلز اور افراد کی طرح ، لفظ ’لالچ‘ کو مؤنث کہہ دیا جو اردو میں غلط ہے، مگر پنجابی میں درست ہے………..تو پھر باقی خبر بھی………..پنجابی اِچ ہونی چاہیدی اے……کیہہ خیال ہے تہاڈا؟؟

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔