روسی ریفرنڈم کے مقاصد

اشتیاق ہمدانی  اتوار 12 جولائ 2020
یورپی میڈیا کی معاندانہ رپورٹنگ کے برعکس حقائق کیا ہیں؟ ۔  فوٹو : فائل

یورپی میڈیا کی معاندانہ رپورٹنگ کے برعکس حقائق کیا ہیں؟ ۔ فوٹو : فائل

 ماسکو: (مضمون نگار روس کے دارالحکومت ماسکو میں برسوں سے مقیم ہیں۔ وہ روس کی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں اور اپنی ویب سائٹ کے ذریعے روس کے داخلی معاملات اور معاشرت وثقافت کے مختلف پہلوؤں سے اردو کے قارئین کو روشناس کرتے رہتے ہیں۔ چناں چہ روس میں ہونے والے حالیہ ریفرنڈم کے بارے میں ان کا زیرنظر مضمون بہت اہمیت کا حامل ہے)

آج صبح کراچی سے میرے ایک صحافی دوست ناصر ذوالفقار صاحب نے میسج میں سوال کیا کہ’’روس میں صدارتی انتخاب کے لیے ووٹننگ ہورہی ہے؟

اگر روس کے صدر یہ ووٹنگ جیت جاتے ہیں تو وہ 2036 تک روس کے صدر رہن سکتے ہیں / کیا یہ درست ہے؟؟ میرے انکار پر انھوں نے ایک اخبار میں شائع ہونے والی تصویر بھجوا دی۔

تصویر کے کیپشن میں واضح طور پر لکھا ہے کہ ماسکو پوتن کے 2036 تک صدر رہنے کے لیے خاتون ووٹ ڈال رہی ہے۔ اس سال جنوری میں پارلیمنٹ کے ایوان بالا اور ایوان زیریں سے مشترکہ اجلاس سے اپنے سالانہ خطاب میں صدر پوتن نے آئین میں ترمیم اور پارلیمنٹ کو بااختیار بنانے کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت تو صدارتی مدت کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی لیکن بعد میں جب کہ آئینی کمیٹی نے 206 ترامیم لانے کا فیصلہ ہوا اور یہ بھی فیصلہ کیا کہ آئین میں 2 بار صدر بننے کے بعد تیسری مدت کے لیے لگائی گئی پابندی کو ختم کردیا جائے۔ اور ایک ریفرنڈم ہوگا جس میں لوگوں کی اکثریت اس بات کا فیصلہ کرے کہ وہ ان آئینی ترمیم کے حق میں ہیں یا مخالف۔

یاد رہے 22 اپریل کو ہونے والے ریفرنڈم کو کورونا وائرس کی وجہ سے ملتوی کر دیا گیا۔

25 جون سے یکم جولائی تک ریفرنڈم کی نئی تاریخ کا اعلان ہوا۔ اور اس طرح 25 جون سے پولنگ کا عمل جاری رہا۔

25 جون سے جاری اس ریفرنڈم میں 3 آپشن تھے جن کے ذریعے ووٹ کاسٹ کیا جاسکتا ہے۔

  1. آن لائن ووٹنگ۔
  2. الیکشن کمیشن کے نمائندے گھر آکر ووٹر کا ووٹ کاسٹ کرواسکتے ہیں۔
  3. ووٹر پولنگ سٹیشن پر جاکر ووٹ کاسٹ کرسکتا ہے۔

روسی فیڈریشن کے آئین کے ابواب 3-8 میں 206 ترامیم کے لیے ریفرنڈم ہوا۔ اور 72 فی صد سے زیادہ روسی شہریوں نے رائے شماری میں ترامیم کے حق دیا، روس میں آئینی ترامیم پر ٹرن آؤٹ 65 فی صد رہا، 77،9 فی صد ووٹروں نے ترامیم کی حمایت کی اور 21،3 فی صد نے ان کے خلاف ووٹ دیا۔ اب ترامیم کو منظورشدہ تسلیم کیا جائے گا۔ ٹرن آؤٹ کی حد مقرر نہیں کی گئی تھی، جب کہ پورے ملک میں ووٹنگ میں 96 ہزار 500 پولنگ اسٹیشن بنائے گئے تھے۔ روس کے تمام خطوں میں 108.5 ملین سے زیادہ بیلٹ پیپرز چھاپے اور پولنگ اسٹیشنوں پر پہنچائے گئے تھے۔

آن لائن ووٹنگ کے لیے 1 215 926 درخواستیں جمع کروائی گئیں ، جن میں ماسکو میں 1،075،488 اور نزنی نوگوروڈ شہر میں 140،438 جمع کروائی گئیں۔ الیکشن کمیشن کو موبائل ووٹنگ کے ذریعہ مقام پر رائے دہی کے لیے 3.7 ملین سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئیں۔ 144 ممالک میں 254 پولنگ اسٹیشن بھی بنائے گئے ہیں، جہاں اوورسیز روسیوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

البتہ روسی عوام نے پارلیمنٹ کی منظور کردہ آئینی اصلاحات پر اپنی توثیق کی مہر ثبت کردی جس کے بعد ولادیمیر پوتن کے 2036 تک روس کا صدر رہنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ خیال رہے کہ روسی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے عہدۂ صدارت پر رہنے کی مدت کو ختم کرنے، ہم جنس پرستوں کی شادی پر پابندی اور دیگر اصلاحات پر مشتمل آئینی ترامیم کی منظوری دے دی ہے، تاہم صدر پوتن کی خواہش تھی کہ ان معاملات پر عوامی رائے بھی جانی جائے۔

اس مقصد کے لیے پوتن نے آئینی اصلاحات پر عوامی ریفرنڈم کا اعلان کیا تھا جو 22 اپریل کو ہونا تھا، تاہم کورونا کی وجہ سے اسے مؤخر کردیا گیا تھا اور اس پر ووٹنگ گذشتہ ہفتے شروع ہوئی۔

روسی الیکٹورل کمیشن کے مطابق 10 فی صد پولنگ اسٹیشنوں میں ووٹوں کی گنتی کے بعد یہ نتائج سامنے آئے کہ 72 فی صد سے زائد ووٹرز نے آئینی ترامیم کے حق میں رائے دی ہے۔ ان آئینی ترامیم کے بعد روسی صدر ولادیمیر پوتن کے 2036 تک صدر بننے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

روسی آئین کے مطابق کوئی بھی شخص صرف دو بار ہی 6،6 سال کی مدت کے لیے صدارت کے عہدے پر رہ سکتا ہے تاہم چوںکہ مذکورہ آئینی اصلاحات میں پیوٹن کے عہدہ صدارت پر رہنے کی مدت کو صفر کردیا گیا ہے، لہٰذا وہ مزید 2 بار عہدہ صدارت پر براجمان ہونے کے اہل ہوگئے ہیں۔

ولادیمیر پوتن کی دوسری صدارت کی مدت 2024 تک ہے اور فی الحال انہوں نے آئندہ الیکشن میں حصہ لینے کے حوالے سے باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے۔ خیال رہے کہ روس میں صدارتی نظام رائج ہے جس میں صدر کو خاصے اختیارات حاصل ہیں لیکن نئی آئینی ترامیم کے بعد صدر کو مزید وسیع اختیارات حاصل ہوجائیں گے اور ان ترامیم میں صدر کا حکومت کو احکامات دینا اور وزیراعظم کو تعینات کرنے کے اختیارات بھی شامل ہیں۔

اس سے قبل روسی وزیراعظم کے لیے پارلیمنٹ کی منظوری ضروری ہوتی تھی۔ دوسری جانب اپوزیشن نے آئینی ترامیم پر ووٹنگ کو روسی صدر کی جانب سے تاحیات صدر رہنے کی کوشش قرار دیا تاہم ولادیمیر پوتن نے اس کی تردید کی ہے۔

رواں برس جنوری میں روسی صدر نے ملک کے آئین میں عوامی حمایت کے ساتھ ترمیم کی ایک تجویز دی تھی۔ اس ترمیم کا مقصد ریفرنڈم میں ایک اہم نکتہ ہے جو کہ روسی صدر پوتن کو آئندہ دو مرتبہ چھ چھ برس کی دو مدتوں کے لیے صدارتی انتخاب لڑنے کی اجازت دیتا ہے۔

سماجی فاصلوں کی شرط کو متعارف کرانے کی وجہ سے روس بھر میں ریفرنڈم 25 جون سے شروع ہو کر پہلے جولائی کو کُل 7 دنوں میں مکمل ہوا اور ان میں وہ خطے بھی شامل ہیں جو کورونا وائرس سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

واضح رہے روسی صدر کو آئینی ترمیم کے حوالے سے پارلیمان اور قانونی عدالت کی پہلے ہی حمایت حاصل ہے لیکن اس ریفرنڈم کا انعقاد روسی صدر پوتن کی خصوصی کاوش پر کیا جا رہا ہے جس کا مقصد اس فیصلے یعنی آئینی ترمیم میں روسی عوام کی بھی براہ راست رائے لی جاسکے۔ اس ریفرنڈم کے انعقاد کے بعد اگر روسی عوام روسی صدر پوتن کے حق میں اپنی رائے دیتی ہے تو اس طرح صدر پوتن پہلے سے مزید طاقت ور صدر کے طور پر سامنے آئیں گے، جس سے ان کے ناقدین سمیت مغربی دنیا کے ممالک بھی روسی صدر کے خلاف کسی پروپیگنڈا کرنے سے باز رہیں گے۔

آئین میں ترامیم:

شہریوں کو خود فیصلہ کرنا تھا کہ وہ کس طرح اور کس کے حق میں ووٹ ڈالیں گے۔

ماسکو میں 25 جون سے یکم جولائی تک 3.6 ہزار سے زیادہ پولنگ اسٹیشن نے کام کیا۔ ہر وہ شخص جس کی عمر 18 سال ہے اور جس کی دارالحکومت میں مستقل اندراج ہے وہ وہاں ووٹ دینے کے لیے اہل تھا۔

پولنگ اسٹیشنز نے صبح 08:00 سے رات 08.00 بجے تک کام جاری رکھا۔ ووٹ ڈالنے کے لیے اپنا پاسپورٹ دکھانا لازمی شرط تھی۔

روسی فیڈریشن کے آئین میں کن ترامیم کو پیش کرنے کی تجویز ہے ، ان تمام ترمیم کا احاطہ کرنا مشکل ہے کیوںکہ ان کی تعداد 206 ہے۔ لیکن ان میں 15 اہم ترمیم کا ہم یہاں ذکر کرتے ہیں جس پر آئینی کمیٹی نے کام کیا ہے۔

1۔ تازہ ترین آئین میں بچوں کے تحفظ اور ان کی پرورش میں ریاست کے کردار کو مزید اختیارات دینا ہے۔ ریاست ایسے بچوں کے والدین کی ذمہ داریاں سنبھالے گی جو کنبے کے بغیر رہ گئے ہیں۔

2۔ ان ترامیم میں کم سے کم تنخواہیں لینے والوں کے حق میں ہے جو معاش کی اجرت سے کم نہ ہو۔ ریاست کاروباری کاروبار میں مدد کے لیے پرعزم ہے۔

3۔ تازہ ترین آئین “معاشرتی ریاست” کے تصور کو ظاہر کرتا ہے اور بوڑھے لوگوں کی دیکھ بھال کرنے کی ذمہ داری کو قائم کرتا ہے۔ ان ترامیم میں ہر سال پنشن کی ترتیب کی تجویز پیش کی جاتی ہے اور لازمی سماجی انشورنس ، ہدف کی حمایت اور سماجی فوائد کی اشاریہ کی ضمانت دی گئی ہے۔

4۔ معذور شہریوں کے معاشرتی تحفظ سے متعلق ایک شق کے ذریعہ آئین کی تکمیل ہوگی۔ ان کے لئے قابل رسائی ماحول کی تشکیل اور ان کے معیار زندگی کو بہتر بنانا ریاست کی ترجیح ہوگی۔

  1. ان ترامیم سے قطع نظر، تمام شہریوں کے لئے معیاری طبی نگہداشت کے حق کی ضمانت ہے۔ حکام اس نتیجے پر کام کریں گے۔ ریاست صحت مند طرززندگی اور ان کی صحت کے لیے ذمہ دارانہ رویہ کی ثقافت کے قیام کے لیے بھی حالات پیدا کرے گی۔

6۔ جدید ترین آئین ماحولیات پر بہت زیادہ توجہ دیتا ہے۔ ان ترامیم سے ریاست کو روس کے قدرتی تنوع کے تحفظ اور جانوروں کے ساتھ ایک ذمہ دار رویہ رکھنے والے معاشرے میں تشکیل کے حالات پیدا کرنے کی پابند ہے۔

7۔ ان ترامیم میں روایتی خاندانی اقدار کی حمایت کی تجویز کی گئی ہے: یہ کنبہ ، زچگی اور بچپن کے ساتھ ساتھ مرد اور عورت کے اتحاد کی حیثیت سے شادی کا حامی ہے۔

یعنی موجودہ آئین کی طرح نئے آئین میں بھی ہم جنس پرستی کی اجازت نہیں ہوگی۔ یورپ کے ہیومن رائٹس پروپیگنڈے کے دباؤ کے باوجود روسی صدر ولادیمیر ولادیمیر پوتن نے ہمیشہ کھل کر کئی فورم پر کہا ہے کہ مرد اور عورت میں شادی کا قانون خدا نے بنایا ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔

8۔ آئین میں ہونے والی ترامیم کے تحت صدر، وزیر اعظم، وفاقی وزرا، سینیٹرز، مشیر اور روس کے دیگر اعلٰی عہدے داروں کو غیرملکی ریاست کی شہریت یا رہائشی اجازت نامہ، اکاؤنٹ کھولنے اور غیرملکی بینکوں میں نقد اور قیمتی سامان رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔ روسی فیڈریشن کے صدر کے عہدے پر شرائط کی تعداد پر بھی پابندی کی وضاحت کی جارہی ہے – اس کا اطلاق موجودہ صدر پر یہ ہوتا ہے۔

9۔ تازہ ترین آئین نے روس کی خودمختاری اور سالمیت کے تحفظ کا اعلان کیا ہے۔ روسی فیڈریشن کے علاقے کو خودمختاری کا اعلان کرنا کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی بین الاقوامی عدالتوں میں ان فیصلوں پر اپیل کی اجازت ہے۔ روسی فیڈریشن کے آئین پر ہی ترجیح دی جائے گی۔

10۔ فیڈریشن کونسل سے مشاورت کے بعد وفاقی عہدے داروں کی تقرری کی تجویز ہے، اور ریاستی ڈوما روسی حکومت کی قیادت اور تشکیل کو منظور کرے گا۔ ریاستی کونسل حکام کے مابین مربوط بات چیت کو یقینی بناتی ہے، ملک کی داخلی اور خارجہ پالیسی کی اہم سمتوں کا تعین کرے گی، اور ریاستی فیصلے کرنے میں خطوں کے کردار کو مستحکم کرے گی۔

11 ۔ان ترامیم سے روسی زبان کو بطور قوی زبان کی حیثیت قائم ہوگی۔ مزید یہ کہ روس کے تمام عوام کو اپنی مادری زبان کے تحفظ، مطالعہ اور ترقی کے حق کی ضمانت ہے۔

12۔ جدید ترین آئین نے روس کی ثقافت کو اپنے کثیرالقومی معاشرے کا ورثہ قرار دیا ہے۔ ریاست ملک کے تمام لوگوں اور نسلی برادریوں کی ثقافتی شناخت کی حفاظت کرے گی۔

13۔ ان ترامیم سے روس کی سائنسی پیشرفت کی خواہش کی عکاسی ہوتی ہے۔ آئین انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ذاتی ڈیجیٹل ڈیٹاز کی حفاظت جیسے تصورات کو مستحکم کرے گا۔

14 ۔ آئین میں روسی فیڈریشن کے تاریخی تسلسل پر ایک مضمون شامل کرنے کی تجویز ہے۔ اس طرح، روس اپنی سرزمین پر باضابطہ طور پر سوویت یونین کا جانشین ہونے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تنظیموں اور معاہدوں میں سوویت یونین کی نمائندگی کا متبادل ہوگا۔

15 آرٹیکل 81 کو تبدیل کیا جارہا ہے جس سے موجودہ صدر مملکت کو دوبارہ2 بار انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی ہے۔

اس سے قبل کوئی بھی شخص مسلسل 2 مرتبہ 6/6 سال کے لیے صدر بن سکتا تھا۔ لیکن اس شرط کے خاتمے کے بعد خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ یورپ اور امریکا میں صدر پوتن کے سبکدوش ہونے کا جو بے چینی سے انتظار کیا جارہا تھا وہ انتظار اب کچھ زیادہ لمبا ہو جائے گا ایک یہی نیٹو ممالک کی اہم دکھتی رگ ہے۔ یورپ اور امریکا کے زخموں پر ریفرنڈم جیتنے کی صورت میں صدر پوتن مزید نمک پاشی کریں گے۔

یورپین اور امریکن میڈیا کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوتن کی جانب سے اس ریفرنڈم کا اعلان ان کے عہدصدارت کو طول دینے کی کوشش ہے۔ اس پروپیگنڈے کو ہمارے میڈیا نے بھی فالو کیا ہے۔

ہمارے میڈیا کو چاہیے کہ وہ روس کی خبریں روسی خبر رساں اداروں سے ہی لیں تاکہ وہ نیٹو ممالک اور روس کی میڈیا جنگ میں لاعلمی میں استعمال نہ ہوسکیں۔ کریملن کے ترجمان پیسکوف نے یورپین میڈیا میں آنے والی خبروں کی تردید کی ہے۔ آٹھویں پیراگراف میں کہا گیا تھا کہ سنیئر عہدے داروں کو غیرملکی شہریت رکھنے کے ساتھ ساتھ غیرملکی بینکوں میں اکاؤنٹ اور قیمتی سامان رکھنے سے بھی منع کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ روس کی قومی خودمختاری میں ایک سنگ میل کی حیثیت اختیار کرے گا۔

ووٹ ڈالنے والے روسیوں سے ایک سوال کے جواب کے لیے کہا گیا ہے کہ “کیا آپ روسی فیڈریشن کے آئین میں ہونے والی تبدیلیوں کو منظور کرتے ہیں؟”

بیلٹ پیپر دو جوابات فراہم کیے گئے تھے، ہاں / نہیں۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ روسی آئین خودمختاری کو مستحکم کرنے اور ریاست کے معاشرتی کردار کو مستحکم کرنے کے لیے تبدیل کیا جا رہا ہے، دمتری پیسکوف نے کے مطابق ’’ان ترامیم پر زور دیا جارہا ہے جو ہماری ریاست کے معاشرتی کردار، ملک کی خودمختاری کو مستحکم کرتی ہیں۔‘‘

“یلسن” کی بجائے پیوٹن کا آئین:

اب آئین میں 41 مضامین کو فوری طور پر درست کیا گیا اور پانچ مزید نئے مضمون شامل کردیے گئے۔ یعنی ، منفی پہلا ، دوسرا اور نوواں ابواب ، جو صرف آئینی اسمبلی کو بلانے اور ایک نئے بنیادی قانون کے مسودے کے ذریعہ ہی تبدیل کیا جاسکتا ہے، 2020 کی ترامیم نے مضامین کا تقریباً60 فی صد حصے کو متاثر کیا۔

در حقیقت، یکم جولائی کے بعد، “یلسن” آئین کے بجائے، “پوتن” کا آئین روس میں نمودار ہوچکا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس سیاسی نظام میں ایک اہم تبدیلی واقع ہوگی جو ایک چوتھائی صدی سے زیادہ عرصے سے موجود ہے، یہ ریفرنڈم کا ایک طرح کا ایک ایسے نظام کو جنم دے گا جس پر روس اپنی داخلی اور خارجہ پالیسیاں بنائے گا اس سے قبل صدر یلسن کے دور میں 1993 میں آئین کی منظوری دی گئی تھی۔

روس کا موجودہ دستور 2024 کے بعد پوتن کو سربراہ مملکت کے عہدے پر رہنے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ تاہم، 10 مارچ کو، ریاست ڈوما کی نائب ویلنٹینا تیریشکووا نے صدارتی مدت کو کالعدم قرار دینے کے لیے بنیادی قانون میں ترمیم کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے ملک میں استحکام برقرار رکھنے کی ضرورت سے اپنے اس اقدام کی وضاحت کی۔ روسی فیڈریشن کی آئینی عدالت نے اس ترمیم کو قانونی تسلیم کیا۔ اب فیصلہ روسی عوام نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ ان کا فیصلے سے 2 جولائی کا سورج روس میں ایک خاموش انقلاب برپا کر چکا ہے۔ واشنگٹن اور یورپ میں صف ماتم بچھ چکی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔