تاریخی عمارت آیا صوفیہ میں 86 سال بعد نماز 24 جولائی کو ادا کی جائے گی، ترک صدر

ویب ڈیسک  ہفتہ 11 جولائ 2020
آیا صوفیہ میں آخری بار 1934 میں نماز ادا کی گئی تھی، فوٹو : فائل

آیا صوفیہ میں آخری بار 1934 میں نماز ادا کی گئی تھی، فوٹو : فائل

 انقرہ: ترک صدر رجب طیب اردوان نے تاریخی اہمیت کی حامل اور یونیسکو کے عالمی ورثے کی فہرست میں شامل میوزیم آیا صوفیا کو مسجد میں تبدیل کرنے کے صدارتی حکم نامے پر دستخط کر دیئے اور 24 جولائی سے نماز کی ادائیگی کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے  کے مطابق ترکی کی اعلیٰ عدالت کونسل آف اسٹیٹ کی جانب سے آیا صوفیا کو میوزیم سے مسجد میں تبدیل کرنے کے حق میں فیصلہ آتے ہی ترک صدر نے میوزیم کو مسجد میں تبدیل کرنے کے لیے صدارتی فرمان پر دستخط کردیئے۔

صدارتی حکم پر دستخط کے بعد صدر طیب اردگان نے اعلان کیا ہے کہ 24 جولائی کو میوزیم میں نماز کی ادائیگی شروع ہو جائے گی، میوزیم کا کنٹرول محکمہ مذہبی امور نے سنبھال لیا ہے۔ 1934 کے بعد اب دوبارہ میوزیم میں اذان کی صدائیں گونجیں گی اور نماز ادا کی جائے گی۔

قبل ازیں ترکی کی اعلیٰ عدلیہ نے مسجد کی بحالی کے فیصلے میں آیا صوفیہ کو سلطان فاتح محمد ٹرسٹ کی ملکیت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ 24 نومبر 1934 کا حکومتی فیصلہ ملکی قانون سے میل نہیں کھاتا۔ اس فیصلے سے عمارت کی مسجد کی حیثیت ختم کرکے اسے میوزیم بنا دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ یہ عمارت چھٹی صدی میں بازنطینی بادشاہ جسٹنیئن اول کے دور میں بنائی گئی تھی اور ایک ہزار سال تک یہ عمارت دنیا کے سب سے بڑے گرجا گھر کے طور پر استعمال ہوتی رہی تھی تاہم 1453 میں قسطنطنیہ کی فتح کے بعد سلطنتِ عثمانیہ نے اسے مسجد میں تبدیل کردیا تھا اور لگ بھگ 500 سال تک مسجد کے طور پر استعمال ہوتی رہی تاہم 1934 میں مصطفٰی کمال اتاترک کے دور حکومت میں اسے میوزیم میں تبدیل کردیا گیا تھا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔