خزاں رسیدہ ’’بہارِ عرب‘‘ کی پسِ پردہ کہانی (دوسرا اور آخری حصہ)

حسیب اصغر  منگل 14 جولائ 2020
کردوں کو لڑا کر پورے مشرق وسطیٰ میں جو تباہی پھیلائی جارہی ہے وہ کسی ایٹم بم سے بھی نہیں کی جاسکتی تھی۔ (فوٹو: فائل)

کردوں کو لڑا کر پورے مشرق وسطیٰ میں جو تباہی پھیلائی جارہی ہے وہ کسی ایٹم بم سے بھی نہیں کی جاسکتی تھی۔ (فوٹو: فائل)

مشرق وسطیٰ کے حالات سے دلچسپی رکھنے والا تقریباً ہر شخص ہی ’’ڈیل آف دی سینچری‘‘ سے بخوبی واقف ہوگا۔ یہ ایک نام نہاد امن منصوبہ ہے جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ، خاص کر ان کے داماد جیئرڈ کشنر نے مسئلہ فلسطین کے حل اور مشرق وسطیٰ کے امن کےلیے تیار کیا ہے۔ اس میں درحقیقت اسرائیل کو مقبوضہ فلسطین پر مکمل دسترس دینے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے جبکہ فلسطینیوں کو ان ہی کے ملک کے ایک مضافاتی علاقے میں ایک چھوٹے سے ٹکڑے کی، جسے وہ اپنا وطن بنا سکتے ہیں، پیشکش کی گئی ہے۔

امریکی صدر نے ایک سال قبل اس منصوبے کا اعلان کیا تھا جس کی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین سمیت بعض خلیجی عرب ریاستوں نے بھرپور حمایت کی تھی اور تاحال یہ حمایت جاری ہے۔

بلاگ کا پہلا حصہ یہاں پڑھیے: خزاں رسیدہ ’’بہارِ عرب‘‘ کی پسِ پردہ کہانی

ڈیل آف دی سنچری ایک ایسا منصوبہ ہے جسے دنیا بھر میں یک طرفہ اور اسرائیل نواز منصوبے کا نام دیا جارہا ہے لیکن ٹرمپ اسے اس صدی کا سب سے بڑا منصوبہ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کر رہے ہیں کہ فلسطینیوں کو علیحدہ ریاست حاصل کرنے کا اس سے بہتر موقع نہیں ملے گا۔

نیتن یاہو نے اپنے رویّے اور پالیسیوں سے یہ واضح کیا ہے کہ فلسطینی کبھی اسرائیل پر اعتماد نہیں کرسکتے۔ انہوں نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران تسلسل سے فلسطینیوں کو حاصل ہونے والی ہر سہولت کو محدود کیا ہے اور قیام امن اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کے ہر امکان کو ختم کیا ہے۔ اب امریکا میں ایک شدت پسند ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں اسرائیل نے ان کے یہودی داماد کشنر کے ساتھ مل کر جو معاہدہ تیار کیا ہے، اسی کو صدر ٹرمپ اپنا تاریخ ساز کارنامہ قرار دے رہے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت نیتن یاہو کے سارے مطالبات مان لیے گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور اوسلو معاہدے کے برعکس، مقبوضہ علاقوں پر یہودی آبادیوں کو تسلیم کرلیا جائے گا بلکہ مزید فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کو دسترس حاصل ہوجائے گی۔ مشرقی بیت المقدس پر اسرائیل کا قبضہ رہے گا جسے وہ دنیا سے اپنا ’جائز‘ دارالحکومت تسلیم کروانے میں کامیاب ہوجائے گا جبکہ فلسطینیوں کو مغربی بیت المقدس کے ایک چھوٹے سے علاقے ابو دیس میں اپنا صدر مقام بنانے کی پیشکش کی گئی ہے؛ ابو دیس نام کا یہ چھوٹا سا علاقہ چاروں طرف سے اسرائیلی حصار میں ہے۔

اس منصوبے میں صرف اسرائیلی عوام کی سیکیورٹی ہی کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ اس میں فلسطینیوں کی نمائندگی شامل نہیں جو اس بات کی غماز ہے کہ فلسطینیوں کو اس منصوبے سے باہر رکھا گیا کیونکہ اس کا مقصد صرف اسرائیل کو فائدہ دینا تھا۔

موجودہ وقت میں اس منصوبے کے سامنے آنے اور خطے کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے یہی محسوس ہوتا ہے کہ امریکا نے خلیجی ممالک کو ایران کا خطرہ دکھا کر اس منصوبے کی حمایت پر مجبور کر دیا ہے۔ تاہم اگر خلیجی ممالک اس منصوبے کے نافذالعمل ہونے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں تو یہ بات طے ہے کہ اس کے بعد اسرائیل نامی یہ کینسر مشرق وسطیٰ کے کسی بھی ملک کو چین اور سکون سے رہنے نہیں دے گا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں سکون ہوتا ہے تو سب کی توجہ اسرائیلی مظالم پر ہوگی اور اس طرح اس کی سلامتی کےلیے خطرات پیدا ہوں گے۔

میرے اس خیال کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ جب مقبوضہ فلسطین کے شہر رام اللہ سے فلسطینی تنظیم الفتح کی مرکزی کمیٹی کے سیکریٹری جنرل جبریل رجوب اور لبنانی دارالحکومت بیروت سے حماس کے سیاسی امور کے دفتر کے سربرہ صلاح العاروری نے غرب اردن پر صہیونی عملداری کے خلاف ایک ویڈیو کانفرنس میں شرکت کی تھی اور غرب اردن پر صہیونی عملداری اور امریکی صدر کی جانب سے مشرقی وسطیٰ کےلیے تیار کردہ نام نہاد امن منصوبے ’’صدی کی ڈیل‘‘ کے خلاف اتحاد پر اتفاق کیا تھا تو اسرائیلی وزیرخارجہ گابی اشکنازی نے اسرائیلی نشریاتی ادارے کو اپنے انٹرویو میں کہا کہ اگر حماس اور الفتح کے درمیان اتفاق ہوجاتا ہے تو یہ اسرائیلی سلامتی کےلیے تشویشناک صورتحال ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اگر مزاحمتی تنظیموں میں اتحاد کو اسرائیل اپنی سلامتی کےلیے خطرہ قرار دے رہا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ جب مشرق وسطیٰ کے ممالک اسرائیلی مظالم کے خلاف متحد ہوں تو وہ اسے نظر انداز کرے گا؟

یعنی اسرائیل کبھی مشرق وسطیٰ میں امن نہیں ہونے دے گا جس کےلیے اس نے گولان ہائٹس کا تنازع تیار کیا ہوا ہے۔ گولان کی پہاڑیاں شام کا وہ علاقہ ہے جس پر اسرائیل نے 1967 سے قبضہ کر رکھا ہے۔

گولان کی پہاڑیاں 1200 مربع کلومیٹر پر پھیلی ہیں۔ یہ شامی دارالحکومت دمشق سے تقریباً 60 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہیں۔ اس علاقے پر تقریباً 30 یہودی بستیاں قائم ہیں اور ایک اندازے کے مطابق 20000 لوگ یہاں منتقل ہوچکے ہیں۔ اس علاقے میں تقریباً 20000 شامی لوگ بھی رہتے ہیں۔ شام اور اسرائیل کے درمیان سرحدی اہمیت کے ساتھ ساتھ اس کے ایک جانب لبنان اور دوسری جانب اردن کی سرحد بھی لگتی ہے۔

گولان کی پہاڑیوں کو شام اور اسرائیل، دونوں ممالک ہی خاص اہمیت دیتے ہیں۔ اس کی اہم وجہ اس کی جغرافیائی اور عسکری اہمیت ہے۔ شام کے جنوب مغرب میں واقع اس پہاڑی سلسلے سے شامی دارالحکومت دمشق واضح طور پر نظر آتا ہے۔

اس علاقے پر اسرائیل کے قبضے کے بعد سے اسرائیلی فوج یہاں سے شامی فوج اور جنگجوؤں پر نظر رکھے ہوئے ہے، جبکہ یہاں سے شمالی اسرائیل کا علاقہ بھی دسترس میں ہے اور 1948 سے 1967 تک، جب یہ پہاڑی سلسلہ شام کے زیر انتظام تھا، شامی فوج یہاں سے شمالی اسرائیل پر گولہ باری کرتی رہی ہے۔ لہذا اس علاقے کا جغرافیائی محل وقوع اسرائیل کو شام کی جانب سے کسی بھی عسکری حملے کے خلاف تحفظ فراہم کرتا ہے۔ عسکری اہمیت کے علاوہ اس بنجر علاقے کےلیے پانی بھی ان پہاڑیوں سے بارش کے پانی سے بننے والے ذخیرے سے حاصل ہوتا ہے جو اسرائیل کےلیے پانی کا تیسرا بڑا ذریعہ ہے۔

گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کرکے اسرائیل نے مشرق وسطیٰ میں ایک نہ ختم ہونے والے تنازع کو جنم دیا ہے اور اس کے اس غیر قانونی اقدام میں امریکا نے اس کی بھرپور حمایت کی ہے۔

اسرائیل شام میں خانہ جنگی کو ہوا دیتا رہے گا۔ دوسری جانب کردستان کی تحریک کو اسرائیل کی براہ راست حمایت حاصل ہے۔ 2017 میں شمالی عراق میں ’’آزاد کُردستان‘‘ کےلیے ریفرنڈم کامیاب ہوا اور 75 فیصد سے زائد کُردوں نے اپنے علیحدہ وطن کے حق میں ووٹ ڈالا۔ اس ریفرنڈم کے نتائج آتے ہی اسرائیلی وزیراعظم نے فوری طور پر ’’آزاد کرستان‘‘ کےلیے اپنا سفارتخانہ کھولنے کی پیش کش کی تھی۔

اسرائیل کی جانب سے آزاد کردستان کی حمایت اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ مشرقی سطیٰ میں آگ کو مسلسل جلائے رکھنا چاہتا ہے کیونکہ اگر کرد باشندوں کو ان کی جدجہد میں حمایت ملتی رہے تو پورا مشرق وسطیٰ اس آگ میں جلتا رہے گا۔

کردستان کے ذریعے لگائی جانے والی آگ کو سمجھنے کےلیے کردستان کی جغرافیائی سرحدوں کا جائزہ لینا بہت ضروری ہے۔

کردستان مشرق وسطی کے ایک جغرافیائی و ثقافتی خطے کا نام ہے جس کی سرحدیں مشرق وسطیٰ کے چار اہم ترین ممالک سے ملی ہوئی ہیں۔ اس کی سرحدیں ترکی میں 190000، ایران میں 125000، عراق میں 65000 اور شام میں 12000 مربع کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہیں۔ اس طرح کردستان کا کل رقبہ 392000 مربع کلومیٹر بنتا ہے۔

کرد مشرق وسطیٰ اور ایشیائے کوچک میں عربوں اور ترکوں کے بعد تیسری بڑی قوم ہیں۔ مختلف ملکوں میں بٹے تین کروڑ 75 لاکھ کردوں کی اکثریت ترکی، عراق، شام اور ایران کے علاقوں میں آباد ہے جبکہ ایشیا، امریکا اور یورپ سمیت پوری دنیا میں پھیلے ہوئے کردوں کی آبادی ایک کروڑ ہے۔ اتنی بڑی آبادی کےلیے اسرائیل جیسے قابض ملک کی ہمددری قابل غور ہے۔

یہاں کردوں کے حوالے سے تفصیل بتانے کا مقصد یہ ہے کہ کرد مشرق وسطیٰ کے اہم ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں اور انہیں لڑا کر پورے مشرق وسطیٰ میں جو تباہی پھیلائی جارہی ہے وہ کسی ایٹم بم سے بھی نہیں کی جاسکتی۔

یعنی ثابت ہوا کہ اسرائیل عالم اسلام میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں ایک کینسر کی مانند ہے جس نے پورے مشرق وسطیٰ کو تباہ کردیا ہے اور اس میں تاحال مصروف ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

حسیب اصغر

حسیب اصغر

بلاگر میڈیا ریسرچر، رائٹر اور ڈاکیومنٹری میکر ہیں جبکہ عالمی تعلقات اور سیاست میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔