لاکھوں روپے میں تیار ہونے والے عروسی ملبوسات کلو کے بھاؤ بکنے لگے

آصف محمود  ہفتہ 11 جولائ 2020
شاہ عالم مارکیٹ کے سوہا بازار میں استعمال شدہ لہنگے اور کپڑے خریدنے والے جگہ جگہ نظر آتے ہیں فوٹو: فائل

شاہ عالم مارکیٹ کے سوہا بازار میں استعمال شدہ لہنگے اور کپڑے خریدنے والے جگہ جگہ نظر آتے ہیں فوٹو: فائل

 لاہور: ہزاروں، لاکھوں روپے خرچ کرکے تیار ہونے والے گوٹہ کناری والے لہنگے اور ساڑھیاں استعمال کے بعد کلو کے بھاؤ بیچ دی جاتی ہیں جبکہ لاہور میں یہ استعمال شدہ لہنگے اور ساڑھیاں کرائے پر بھی مل جاتی ہیں، ایک دن کا کرایہ محض چند ہزار روپے ہوتا ہے۔

شادی بیاہ کا موقع ہویا کوئی اورخاص تقریب ،خواتین جاذب نظرآنے کے لئے خاص پہناوے کا استعمال کرتی ہیں، کچھ خواتین لہنگا پہنتی ہیں کوئی ساڑھی۔ جن پر سونے ،چاندی پیتل اور تانبے کی تاروں سے کی گئی کشیدہ کاری دل موہ لے لیتی ہے ۔ لاکھوں ہزاروں روپے سے تیار ہونے والے یہ ملبوسات دو، چار بار استعمال کے بعد بیکار ہوجاتے ہیں، کچھ لوگ توانہیں ایسے ہی پھینک دیتے ہیں مگر بعض سمجھدار انہیں بیچنے بازار لے آتے ہیں۔

لاہور کی شاہ عالم مارکیٹ میں لہنگا بیچنے آٗئی ایک خاتون نازیہ نے بتایا کہ ان کے لہنگے پر جو گوٹہ کناری کا کام ہوا تھا اورجو موتی لگے تھے ان کی چمک دمک ماند پڑگئی ہے، کئی جگہوں پر پیوند لگ گئے اب یہ استعمال کے قابل نہیں رہا ہے اس لئے اسے بیچنے آئی ہوں۔

شاہ عالم مارکیٹ کے سوہا بازار میں استعمال شدہ لہنگے اور کپڑے خریدنے والے جگہ جگہ نظر آتے ہیں ،جن لہنگوں اور کپڑوں پرتانبے کی تاروں سے کشیدہ کاری گئی ہو انہیں 200سے 250 روپے کلو جب کہ چاندی کی کشیدہ کاری والے کپڑے 600 سے 700 روپے تولہ کے حساب سے خریدے جاتے ہیں۔

ایک دکاندارمحمد اسلم نے بتایا کہ وہ ان کپڑوں کا وزن کرکے اسی حساب سے پیسے دیتے ہیں، ہمارے لئے کپڑابیکارہوتا ہے ،ہم صرف کپڑے کے اوپر جو چاندی ، پیتل یا کسی دھات کا کام ہوا ہوتا ہے اسی کے وزن کے مطابق خریدتے ہیں۔ کوئی سوٹ پچاس اورسو روپے کا بکتا ہے توکسی کی قیمت 50 ہزار بھی ہوسکتی ہے

سوہا بازار میں تاجروں کی یونین کے رہنمامہتاب خاں اس حوالے سے کہتے ہیں لہنگا، اور ساڑھی خریدتے ہوئے دیکھنا پڑتا ہے کہ اس میں چاندی کتنی اور اس میں دھاگا کتنا ہے، اس حساب سے قیمت بتاتے ہیں۔

پرانے وقتوں میں امرا اپنے لباس پرسونے چاندی کی تاروں سے کشیدہ کاری کرواتے تھے جبکہ آج پیتل اور پلاسٹک کااستعمال زیادہ کیاجاتاہے ،دکاندارمخصوص طریقے سے چاندی ،پیتل اورتانبا الگ کرتے ہیں، ان پرانے کپڑوں اور گوٹے کو جلا کر دکاندار ان سے چاندی اور تانبا حاصل کرتے ہیں جنہیں بعد میں زیوارت کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔

دوسری طرف ان بیش قیمت لہنگوں ،شیروانیوں اورساڑھیوں کو کرایہ پرخریدنے کا رحجان بھی بڑھنے لگا ہے ، لاہور کی تمام بڑی مارکیٹیوں میں ایسی دکانیں ہیں جہاں سے آپ کو اپنی پسند کا لہنگا، ساڑھی ایک ہفتے کے لئے کرایہ پرمل سکتی ہے۔

شالامار کے علاقے میں واقع ایک بوتیک کے مالک آفتاب احمد نے بتایا کہ وہ شادیوں کے لئے خصوصی لہنگے تیار کرنے کے علاوہ منگنی اور دیگر تقاریب کے لئے جدید فیشن کے مطابق کپڑے تیار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کرائے پر دینے کے لئے عروسی ملبوسات تیار کرنے کے ساتھ ساتھ آرڈر پر بھی کام کرتے ہیں۔ لیکن اب زیادہ تر لوگ آرڈر پر لباس تیار کروانے کی بجائے کرائے پر لہنگے لینے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہمارے پاس دور دور سے لوگ شادیوں کے لئے کرائے پر ملبوسات لینے آتے ہیں۔‘

آفتاب کے مطابق شادیوں پر دلہن کے پہننے کے لئے استعمال ہونے والے زیادہ تر ملبوسات پر گوٹی، کٹ ورک، ریشم اور اسٹون کا کام کیا جاتا ہے جبکہ لباس کی قیمت بیس ہزار سے شروع ہو کر ایک لاکھ روپے تک جاتی ہے۔کرائے پر لہنگا لینے کے لئے آنے والوں سے شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی اور کچھ رقم ایڈوانس لے لی جاتی ہے جبکہ بقیہ رقم لہنگے کی واپسی پر وصول کی جاتی ہے۔ بوتیک پر لہنگے کی بکنگ کے لئے آنیوالی ایک خاتون میمونہ نے بتایا کہ ان کی بہن کی آئندہ ماہ شادی ہے، ہمارے والدین کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ شادی کے لئے نئے لہنگا تیار کروا سکیں۔ اس لئے ہم نے یہاں سے کرائے پر لہنگے لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسی بوتیک پرکام کرنیوالے محمداسلم نے بتایا کہ چارسال قبل جب ان کی شادی ہوئی توانہوں نے بھی اپنی شادی کے موقع پراپنے لئے شیروانی اورسوٹ اور ہونیوالی بیگم کے لئے لہنگا کرایہ پرہی حاصل کیاتھا جو ہم نے ایک ہفتے بعد واپس کردیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک اچھا لہنگا ایک ہفتے کے لئے دوسے ڈھائی ہزار روپے کرایہ پرمل جاتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔