کراچی میں ڈیری مافیا نے دودھ کی قیمت بڑھادی، انتظامیہ خاموش

اسٹاف رپورٹر  اتوار 12 جولائ 2020
دودھ کی سرکاری قیمت 94 روپے ہے لیکن شہر کے مختلف علاقوں میں 120 روپے فی لیٹر فروخت شروع ہوچکی ہے (فوٹو : فائل)

دودھ کی سرکاری قیمت 94 روپے ہے لیکن شہر کے مختلف علاقوں میں 120 روپے فی لیٹر فروخت شروع ہوچکی ہے (فوٹو : فائل)

 کراچی: ڈیری مافیا کی جانب سے دودھ کی قیمتوں میں 10 روپے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا لیکن شہری انتظامیہ اور سندھ حکومت تاحال خاموش ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق شہر قائد کی 30 فیصد دکانوں پر دودھ کی قیمتوں میں غیر قانونی طور پر 10 روپے لیٹر کا اضافہ کردیا گیا جس کے بعد دودھ کی خوردہ قیمت 120 روپے لیٹر تک پہنچ گئی۔ کراچی میں دودھ کی سرکاری قیمت 94 روپے لیٹر مقرر ہے لیکن کمشنر کراچی اور سندھ حکومت کی مکمل آشیرباد کے ساتھ ڈیری مافیا نے ایک سال کے وقفہ سے دودھ کی قیمت میں اضافہ کردیا ہے۔

شہری فی لیٹر دودھ سرکاری نرخ سے 26 روپے زائد قیمت پر خریدنے ہو مجبور ہیں اس طرح ڈیری مافیا شہریوں سے یومیہ کروڑوں روپے کا غیر قانونی منافع بٹور رہی ہے لیکن سندھ حکومت اور انتظامیہ نے آنکھیں بند کررکھی ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ ڈیری مافیا کے منہ کو ناجائز منافع خوری کا مزا لگ چکا ہے، بدترین معاشی صورتحال اور لاک ڈاؤن کے باعث دودھ کی کمرشل کھپت نہ ہونے کے باوجود دودھ کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا۔

ڈیری مافیا کے بلند حوصلوں اور بے خوفی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دودھ کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کرنے والے دھڑے نے ایک ماہ بعد مزید 15 روپے فی لیٹر اضافہ کا عندیہ ظاہر کیا ہے۔

دودھ کی قیمتوں میں اضافہ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے شہریوں کا کہنا تھا کہ شہری انتظامیہ کمشنر کراچی نے گراں فروشوں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے اور اب گراں فروشوں کے خلاف کی جانے والی نمائشی کارروائیاں بھی بند کردی گئی ہیں اور عوام کو گراں فروشوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔