بھارت میں جعلی کرکٹ کی ہر چیز ہی فراڈ نکلی

اسپورٹس ڈیسک  اتوار 12 جولائ 2020
معاملے کی تحقیقات میں آئی سی سی اور سری لنکن بورڈ بھی شامل ہوگیا۔ فوٹو: فائل

معاملے کی تحقیقات میں آئی سی سی اور سری لنکن بورڈ بھی شامل ہوگیا۔ فوٹو: فائل

ممبئی: بھارت میں جعلی کرکٹ ایونٹ کی ہر چیز ہی فراڈ نکلی، گمنام آئی پی ایڈریس، فرضی ای میلز اور غیررجسٹرڈ فون نمبرز استعمال کیے گئے، لائیو اسٹریمنگ کمپنی کو بھی ’بدھو‘ بنایا گیا جب کہ معاملے کی تحقیقات میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور سری لنکن بورڈ بھی شامل ہوگئے۔

چندی گڑھ کے نواحی علاقے میں سری لنکن یووا لیگ کا ڈھونگ رچایا گیا، جعلی ایونٹ کے حوالے سے مزید انکشافات سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے، فراڈ ایونٹ کی ہر چیز ہی جعلی ثابت ہورہی ہے، بڑی چالاکی سے ممبئی کی ایک کمپنی کی لائیو اسٹریمنگ کیلیے خدمات لی گئیں۔

مذکورہ کمپنی کا کہنا ہے کہ 25 جون کی شام سندن کرونارتنے نے خود کو یووا لیگ کا نمائندہ ظاہر کرتے ہوئے حکام سے ملاقات کی، جس میں لیگ پر پریزینٹیشن دینے کے ساتھ تشہیر کیلیے مدد فراہم کرنے کا کہا، اس موقع پر انھوں نے ایونٹ کا ویب ایڈریس اور اپنا ایک فرضی ای میل ایڈریس بھی دیا، یہ بھی بتایا کہ مذکورہ کمپنی کے بارے میں معلومات سوشل میڈیا سے حاصل کیں۔

لائیواسٹریمنگ کمپنی نے کرونارتنے سے ایونٹ کی منظوری کے لیے سری لنکن بورڈ کا دیا جانے والا خط پیش کرنے کاکہا، جس کے جواب میں 27 جون کو کرونا رتنے یووا کرکٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے منظوری کا لیٹر میل کیا، بعد ازاں بورڈ کی جانب سے بھی ایک ای میل پیش کی گئی جس میں ظاہر کیا گیا کہ چیف ایگزیکٹیو جیروم جیارتنے نے جواب دیا ہوا، ان کا کہنا تھا کہ ایس ایل سی کے صدر موہن ڈی سلوا سے گفتگو کے بعد ہم ایونٹ کی منظوری تو دے رہے ہیں مگر اس کیلیے کسی بھی قسم کی مالی معاونت فراہم نہیں کریں گے۔

29 جون کو چندی گڑھ کے نواحی علاقے میں 2 میچز منعقد ہوئے، کمپنی کا کہنا ہے کہ انھیں گراؤنڈ کی لوکیشن کا کوئی علم نہیں تھا تاہم اسی روز سری لنکن بورڈ کے لیگل منیجر چالکا سلوا کی میل موصول ہوئی جس میں انھوں نے خبردار کیا کہ بورڈ نے اس ایونٹ کی منظوری نہیں دی، جس پر کمپنی نے وضاحت کیلیے کرونارتنے سے رابطہ کرنا چاہا مگر ان کے نمبر بند نکلے، بعد میں اس فراڈ کی شکایت ممبئی پولیس کو درج کرائی گئی، جس کے بعد معلوم ہوا کہ ان کے ساتھ فرضی ای میلز کے ذریعے رابطہ کیا گیا، آئی پی ایڈریس گمنام تھا، فون نمبر رجسٹرڈ ہی نہیں تھے۔

اب اس معاملے کی صرف موہالی اور ممبئی پولیس ہی نہیں بلکہ بھارتی بورڈ کے ساتھ آئی سی سی اور سری لنکن بورڈ کا اینٹی کرپشن یونٹ بھی تحقیقات کررہا ہے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔